Jasarat News:
2026-07-24@03:52:28 GMT

جیکب آباد ، ڈیوائس ہولڈرلٹ گیا

اشاعت کی تاریخ: 3rd, July 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

جیکب آباد (نمائندہ جسارت) جیکب آباد میں بسپ ڈیوائس ہو لڈر کو مسلح افراد نے لوٹ لیا 62لاکھ نقدی چھین کر فرار،تین شہری موٹر سائیکل محروم ۔ جیکب آباد کی تحصیل ٹھل کے قریب تھانے شبیر آباد کی حد میں ڈیوائز ہولڈر کریم بخش بکھرانی سے 4 نامعلوم مسلح افراد نے اسلحہ کے زور پر 62 لاکھ روپے اس وقت چھین لیے جب وہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت مستحق خواتین کو رقم دینے کے لیے بینک سے رقم نکلواکر اپنی دکان پر جارہا تھا واقعہ کے بعد متاثرہ ڈیوائس ہولڈر کے اہل خانہ نے احتجاجاً روڈ بلاک کردیا ہے،جبکہ ایک دن میں 3 شہری موٹر سائیکلوں سے محروم ہو گئے کوئٹہ روڈ پر ملک بار کے قریب تین مسلح افراد منیش کمار سے نئی سی ڈی موٹر سائیکل موبائل فون چھین کر فرار ہو گئے۔ علاوہ ازیں سینما روڈ سے دو مسلح افراد معصوم اظہار دہرپالی کو تشدد کا نشانہ بنا کر زخمی کرکے موٹر سائیکل چھین کر لے گئے محمد نواز ابڑو کو بھی مسلح افراد نے موٹر سائیکل اور موبائل فون سے محروم کردیا ۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: موٹر سائیکل مسلح افراد جیکب ا باد

پڑھیں:

مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق

بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔

ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔

واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔

دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔

وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔

متعلقہ مضامین

  • کوہاٹ: ڈیرہ اسماعیل خان میں نامعلوم افراد کی فائرنگ، بچے سمیت 3 افراد قتل 
  • کراچی، فیڈرل بی انڈسٹریل ایریا میں پولیس مقابلہ، 2 زخمی ڈاکو گرفتار، چھینی گئی موٹر سائیکل برآمد
  • کراچی میں شوہر کے ساتھ موٹرسائیکل چوری کی درجنوں وارداتوں میں ملوث ملزمہ گرفتار
  • کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
  • خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق
  • بارشوں سے پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، پی ڈی ایم اے
  • مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
  • مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ
  • مستونگ میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے سیشن جج عبد الحکیم کاکڑ جاں بحق
  • کراچی میں موٹر سائيکل چوری میں ملوث خاتون گرفتار