بھارتی ریاست آسام کے ضلع گوالپاڑہ میں مودی سرکار نے ظلم و بربریت کے تمام ریکارڈ توڑ دیئے۔

کشمیر میڈیا سروس کے مطابق ریاست آسام میں غیر قانونی تجاوزات کے خلاف آپریشن میں صرف مسلمانوں کی املاک کو مسمار کیا گیا۔

مودی سرکار نے ریاست آسام کے صرف ایک ضلع گوالپاڑہ کے اُس علاقے میں 700 سے زائد گھر مسمار کیے جہاں مسلمان آباد ہیں۔

مودی سرکار کے اس امتیازی سلوک کے باعث ہزاروں مسلمان اپنے بال بچوں اور مال مویشی کے ساتھ کھلے آسمان تلے رات گزارنے پر مجبور ہیں۔ 

شدید گرمی، حبس اور مون سون کی بارشوں نے بے گھر مسلمانوں کو دوہرے عذاب میں مبتلا کردیا۔ بچے اور مویشی بیمار پڑ گئے۔

ایک افسوسناک واقعے میں 60 سالہ زیتون نشاء شدید گرمی اور بیماری کے باعث انتقال کر گئیں، جو حکومتی بے حسی اور متاثرین کو بنیادی سہولیات فراہم نہ کیے جانے کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

اہل علاقہ کا کہنا ہے کہ یہ آبادی کئی دہائیوں سے یہی رہ رہی ہے، ہمارے پاس گھر کے کاغذات اور شہریت کے قانونی دستاویزات بھی ہیں لیکن اب اچانک کہا جانے لگا ہے کہ ہم لوگ بھارتی نہیں بلکہ بنگلادیشی ہیں۔

علاقہ مکینوں نے میڈیا کو مزید بتایا کہ حکومتی حکام ہمیں گھروں سے جبری طور پر بیدخل کرکے زبردستی بنگلادیش بھیجنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

چار بچوں کی ماں متاثرہ خاتون فاطمہ بیگم نے بتایا کہ ایک دن میں ہمارا سب کچھ ختم ہوگیا ہمارا گھر، ہمارا سامان اور اب میرے بچے گرمی اور بارش میں سسک رہے ہیں۔ ہم صرف عزت اور تحفظ چاہتے ہیں۔

ایک مقامی اسکول ٹیچر عمران حسین نے کہا کہ یہ صرف املاک پر حملہ نہیں بلکہ ہماری شناخت پر حملہ ہے۔ ہم حکومت سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ ہماری بات سنے، ورنہ مزید نقصان ہوگا۔

مسلم رہنما عین الحق چودھری نے شدید الفاظ میں کارروائی کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ جن لوگوں کو بیدخل کیا جا رہا ہے اُن کے نام ووٹر لسٹس میں موجود ہیں جبکہ حکومت انہیں باہر سے آیا ہوا قرار دے رہی ہے جبکہ یہ نسلاً اور قانوناً بھارتی شہری ہیں۔

انھوں نے حکومت کی طرف سے کسی قسم کی ریلیف نہ دیے جانے پر خبردار کیا کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو بچوں اور بزرگوں کی حالت مزید خراب ہوسکتی ہے۔

یہ واقعہ بھارت میں اقلیتوں، خصوصاً مسلمانوں کے خلاف بڑھتے ہوئے امتیازی سلوک اور حکومتی رویے پر ایک اور تشویشناک مثال ہے۔

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

پڑھیں:

مبینہ مقابلے‘ 45 سے زائد مقدمات کا ملزم گوجرانوالہ‘ 2 ڈ اکو پیر محل میں ہلاک 

گوجرانوالہ؍ وزیر آباد؍ پیر محل (نمائندہ خصوصی+ نامہ نگار) مبینہ پولیس مقابلوں میں تین ڈاکو ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہوگئے۔ تفصیلات کے مطابق  گوجرانوالہ میں پل راجباہ بھروکی چیمہ کے قریب 45 سے زائد مقدمات میں مطلوب خطرناک ڈاکو عدنان عرف دانو بوڑا اپنے ساتھی کی فائرنگ سے ہلاک ہوگیا۔ پیرمحل میں کمالیہ روڈ پر گاؤں 664/5 گ ب کے قریب مبینہ پولیس مقابلے کے دوران 2 خطرناک ڈاکو اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ کی زد میں آ کر ہلاک ہو گئے۔ ملزم شعیب اور عامر قصبہ چھوٹو رام والی کے رہائشی اور ایک محنت کش کے قتل میں مطلوب تھے۔

متعلقہ مضامین

  • مبینہ مقابلے‘ 45 سے زائد مقدمات کا ملزم گوجرانوالہ‘ 2 ڈ اکو پیر محل میں ہلاک 
  •  230 سے زائد پی ٹی آئی رہنماؤں  کارکنوں کی عبوری ضمانت میں توسیع
  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف