علمی‘ ادبی ‘ثقافتی اداروںسے متعلق وزیراعظم کا اعلان اچھی خبر: عرفان صدیقی
اشاعت کی تاریخ: 3rd, July 2025 GMT
اسلام آباد (اپنے سٹاف رپورٹر سے) مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما اور سینٹ میں پارلیمانی پارٹی لیڈر سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا ہے کہ علمی، ادبی، تاریخی اور ثقافتی اداروں کے بارے میں وزیراعظم محمد شہباز شریف کا واضح اعلان نہ صرف ان اداروں بلکہ پوری قوم کے لیے اچھی خبر ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف ان اداروں کی کارکردگی اور دائرہ اثر بڑھانے کیلئے سنجیدہ اور مؤثر اقدامات کا ارادہ رکھتے ہیں، جس کیلئے جلد ایک کمیٹی قائم کی جا رہی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے قومی تاریخ اور ادبی ورثہ کے وفاقی وزیر اورنگزیب کھچی اور وزیراعظم کے معاون خصوصی حذیفہ رحمان سے گفتگو میں کیا۔ وفاقی وزیر اور معاون خصوصی نے سینیٹر عرفان صدیقی کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے علمی و ادبی اداروں کے تحفظ کے لیے آواز اٹھائی اور فنونِ لطیفہ سے تعلق رکھنے والے طبقے کے مطالبات وزیراعظم تک پہنچائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے وزیر اعلی سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے سندھ بھر کی ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا ہے اور تمام متعلقہ محکموں کو احتیاطی اور ہنگامی ردعمل کے اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے، کیونکہ بحیرہ عرب سے آنے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے صوبے کو متاثر کر رہے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ موسمیاتی ایڈوائزری کے مطابق، پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) کی پیش گوئی کی بنیاد پر ملک میں داخل ہونے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے، بالائی اور وسطی علاقوں کو متاثر کرنے والے مغربی موسمی نظام کے ساتھ مل کر، 23 جولائی سے 25 جولائی تک سندھ کے کئی اضلاع میں وسیع پیمانے پر بارش، گرج چمک اور بعض مقامات پر موسلا دھار بارش کا سبب بن سکتے ہیں۔
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلی نے ڈویژنل کمشنرز اور بلدیاتی اداروں کو مزید ہدایت کی کہ وہ نشیبی علاقوں، شہری مراکز اور حساس مقامات کی کڑی نگرانی کریں، امدادی سامان اور آلات کی دستیابی یقینی بنائیں اور موسمیاتی پیش گوئی کی مدت کے دوران تمام محکموں کے درمیان بلاتعطل رابطہ برقرار رکھیں۔