علمی‘ ادبی ‘ثقافتی اداروںسے متعلق وزیراعظم کا اعلان اچھی خبر: عرفان صدیقی
اشاعت کی تاریخ: 3rd, July 2025 GMT
اسلام آباد (اپنے سٹاف رپورٹر سے) مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما اور سینٹ میں پارلیمانی پارٹی لیڈر سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا ہے کہ علمی، ادبی، تاریخی اور ثقافتی اداروں کے بارے میں وزیراعظم محمد شہباز شریف کا واضح اعلان نہ صرف ان اداروں بلکہ پوری قوم کے لیے اچھی خبر ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف ان اداروں کی کارکردگی اور دائرہ اثر بڑھانے کیلئے سنجیدہ اور مؤثر اقدامات کا ارادہ رکھتے ہیں، جس کیلئے جلد ایک کمیٹی قائم کی جا رہی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے قومی تاریخ اور ادبی ورثہ کے وفاقی وزیر اورنگزیب کھچی اور وزیراعظم کے معاون خصوصی حذیفہ رحمان سے گفتگو میں کیا۔ وفاقی وزیر اور معاون خصوصی نے سینیٹر عرفان صدیقی کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے علمی و ادبی اداروں کے تحفظ کے لیے آواز اٹھائی اور فنونِ لطیفہ سے تعلق رکھنے والے طبقے کے مطالبات وزیراعظم تک پہنچائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء) حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا ، مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے ۔ تازہ ترین حکومتی اعداد و شمار کے مطابق ایف بی آر کی ٹیکس وصولیاں نظرثانی شدہ اہداف کے مطابق جاری ہیں۔ مشیر وزیر خزانہ خرم شہزاد کے مطابق 864 ارب روپے کے ٹیکس شارٹ فال کا تاثر ابتدائی 14 ہزار 130 ارب روپے کے ہدف کی بنیاد پر دیا جا رہا ہے جو گمراہ کن ہے۔معاشی حالات میں تبدیلی کے بعد آئی ایم ایف کی مشاورت سے ریونیو ہدف تقریباً 13 ہزار ارب روپے تک ایڈجسٹ کیا گیا۔ مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مہنگائی،درآمدات اور عالمی صورتحال میں تبدیلی کے باعث اہداف پر نظرثانی معمول کا مالی عمل ہے، نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کیتحت ایف بی آر کی کارکردگی مضبوط،11 ماہ کا تقریباً مکمل ہدف حاصل کیا گیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا جبکہ مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے۔(جاری ہے)
مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مئی میں ایف بی آر نے ماہانہ ہدف کا 97 فیصد جبکہ 11 ماہ کے ہدفکا 99.8 فیصد حاصل کیا، موجودہ کارکردگی ریونیو بحران یا بڑے ٹیکس شارٹ فال کے دعوؤں کی نفی کرتی ہے، جون 2026 کا 1 ہزار 727 ارب ریونیو ہدف 15 فیصد اضافے کے ساتھ نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کے مطابق قابل حصول ہے، کاروباری طبقے اور سرمایہ کار غیر معمولی ٹیکس اقدامات سے متعلق قیاس آرائیوں پر توجہ نہ دیں، مالی معاملات پر تبصرہ پرانے اہداف کے بجائے موجودہ معاشی حقائق اور درست اعداد و شمار پر ہونا چاہیے۔