بجٹ کے بعد معروف کمپنی نے اپنی تمام گاڑیوں کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 3rd, July 2025 GMT
پاک سوزوکی موٹرز کمپنی نے مالی سال 2025-26 کے وفاقی بجٹ میں نافذ کیے گئے نئے ٹیکس اقدامات کے تحت اپنی تمام گاڑیوں کی قیمتوں میں نظرثانی کر دی ہے۔ یہ اضافہ یکم جولائی 2025 سے نافذ العمل ہو چکا ہے۔
کمپنی کی جانب سے ڈیلرز کو جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق، نئی قیمتوں میں فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی (ایف ای ڈی)، سیلز ٹیکس اور نیو انرجی وہیکل (این ای وی) لیوی شامل ہے، البتہ ایڈوانس انکم ٹیکس شامل نہیں کیا گیا۔
پاک سوزوکی نے واضح کیا ہے کہ قیمتوں میں یہ اضافہ صرف حکومتی ٹیکسوں کی بنیاد پر کیا گیا ہے، اور کمپنی نے اپنی پروڈکشن یا آپریشنل لاگت میں کوئی اضافہ صارفین پر منتقل نہیں کیا۔
سوزوکی گاڑیوں کی نئی قیمتیں
Alto VXR:
پرانی قیمت: 28,27,000 روپے
نئی قیمت: 29,94,861 روپے
اضافہ: 1,67,861 روپے
Alto VXR AGS:
پرانی قیمت: 29,89,000 روپے
نئی قیمت: 31,66,480 روپے
اضافہ: 1,77,480 روپے
Alto VXL AGS:
پرانی قیمت: 31,40,000 روپے
نئی قیمت: 33,26,446 روپے
اضافہ: 1,86,446 روپے
Cultus VXR:
پرانی قیمت: 40,49,000 روپے
نئی قیمت: 40,89,490 روپے
اضافہ: 40,490 روپے
Cultus VXL (اپگریڈڈ):
پرانی قیمت: 43,16,000 روپے
نئی قیمت: 43,59,160 روپے
اضافہ: 43,160 روپے
Cultus AGS (اپگریڈڈ):
پرانی قیمت: 45,46,000 روپے
نئی قیمت: 45,91,460 روپے
اضافہ: 45,460 روپے
Swift GL MT:
پرانی قیمت: 44,16,000 روپے
نئی قیمت: 44,60,160 روپے
اضافہ: 44,160 روپے
Swift GL CVT:
پرانی قیمت: 45,60,000 روپے
نئی قیمت: 46,05,600 روپے
اضافہ: 45,600 روپے
Swift GLX CVT:
پرانی قیمت: 47,19,000 روپے
نئی قیمت: 47,66,190 روپے
اضافہ: 47,190 روپے
Every VX:
پرانی قیمت: 27,49,000 روپے
نئی قیمت: 29,12,230 روپے
اضافہ: 1,63,230 روپے
Every VXR:
پرانی قیمت: 27,99,000 روپے
نئی قیمت: 29,65,200 روپے
اضافہ: 1,66,200 روپے
Ravi Pickup:
پرانی قیمت: 19,56,000 روپے
نئی قیمت: 19,75,560 روپے
اضافہ: 19,560 روپے
Ravi W/O Deck:
پرانی قیمت: 18,81,000 روپے
نئی قیمت: 18,99,810 روپے
اضافہ: 18,810 روپے
نئی قیمتوں کے نفاذ سے قبل صارفین کی جانب سے خدشہ ظاہر کیا جا رہا تھا کہ حکومت کے بجٹ میں عائد کردہ نئے ٹیکسز خاص طور پر سیلز ٹیکس اور این ای وی لیوی گاڑیوں کی قیمتوں کو متاثر کریں گے، جو اب سچ ثابت ہو رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق اس اضافے سے گاڑیوں کی فروخت میں کمی آسکتی ہے، جبکہ متوسط طبقہ سب سے زیادہ متاثر ہوگا۔
Post Views: 5.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: 000 روپے نئی قیمت قیمتوں میں روپے اضافہ گاڑیوں کی
پڑھیں:
پائیڈ کی کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی سفارش
پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس (Pakistan Institute of Development Economics) نے آئندہ مالی سال 2026-27 کے لیے ملک میں کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی سفارش کر دی ہے، جسے موجودہ معاشی حالات اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کے تناظر میں ایک اہم پالیسی تجویز قرار دیا جا رہا ہے۔
پائیڈ کی جانب سے جاری کردہ شواہد پر مبنی فریم ورک کے مطابق کم از کم اجرت میں اضافہ صرف ایک انتظامی فیصلہ نہیں بلکہ ایک وسیع معاشی اور سماجی ضرورت ہے، جو گھریلو سطح پر قوتِ خرید، غربت میں کمی، غیر رسمی روزگار کے رجحانات اور مجموعی معاشی استحکام پر براہ راست اثر انداز ہوتی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر مالی سال 2026-27 کے لیے کم از کم اجرت 45 ہزار روپے ماہانہ مقرر کی جاتی ہے تو یہ موجودہ 40 ہزار روپے کی سطح کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافہ ہوگا۔ اس اضافے کو محنت کش طبقے کی مالی مشکلات میں کمی اور ان کی معاشی استعداد بہتر بنانے کی ایک کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
پائیڈ کی رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ کم از کم اجرت کی پالیسی کو محض لیبر ڈپارٹمنٹ تک محدود نہیں رکھا جا سکتا، کیونکہ اس کا تعلق براہ راست عام شہریوں کی روزمرہ زندگی، مہنگائی کے دباؤ اور مقامی مارکیٹ کی طلب سے جڑا ہوا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اجرت میں مناسب اضافہ نہ صرف مزدور طبقے کے معیارِ زندگی کو بہتر بنا سکتا ہے بلکہ پیداواری عمل میں بھی مثبت اثر ڈال سکتا ہے۔
مزیدپڑھیں:حکومت کا ریئل اسٹیٹ پیکیج تیار، فروخت پر ٹیکس 4.5 فیصد سے 1.5 فیصد تک لانے کی تجویز
اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2026 کے جولائی سے اپریل تک اوسط مہنگائی کی شرح تقریباً 6.19 فیصد رہی، تاہم اپریل 2026 میں سالانہ بنیاد پر مہنگائی بڑھ کر 10.9 فیصد تک پہنچ گئی، جس نے عام شہریوں کی قوتِ خرید کو مزید متاثر کیا۔
موجودہ معاشی صورتحال میں اجرتوں میں اضافہ ایک متوازن پالیسی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، تاہم اس کے ساتھ ساتھ کاروباری لاگت اور روزگار کے مواقع پر بھی اس کے ممکنہ اثرات کا جائزہ لینا ضروری ہوگا۔
پائیڈ کی سفارش کے بعد اب یہ معاملہ حکومتی سطح پر غور کے لیے پیش کیا جائے گا، جہاں حتمی فیصلہ بجٹ پالیسی کا حصہ بنایا جا سکتا ہے۔