بھارت میں کئی پاکستانی اداکاروں، سوشل میڈیا انفلیوئنسرز کے اکاؤنٹس جن پر پابندی لگانے کے کافی عرصے کے بعد بھارتی صارفین کو رسائی دی گئی تھی ایک بار پھر بند کر دیے گئے ہیں۔

گزشتہ روز بھارتی صارفین اس وقت حیران رہ گئے جب انہوں نے انسٹاگرام پر پاکستانی فنکاروں ماورا حسین، صبا قمر، احد رضا میر، یمنیٰ زیدی اور دانش تیمور کے اکاؤنٹس کو اپنی فیڈز پر دیکھا۔ جس کے بعد کہا جا رہا تھا کہ پاکستانی اداکاروں اور تفریحی مواد پر عائد پابندیاں ختم ہو رہی ہیں۔

بھارتی صارفین کا کہنا تھا کہ پاکستانی چینلز جیسے ہم ٹی وی، ہر پل جیو اور اے آر وائی ڈیجیٹل کے آفیشل یوٹیوب چینلز بھی ان بلاک کر دیے گئے ہیں اور اب پاکستانی شخصیات کے اکاؤنٹس کو وی پی این کے بغیر ہی دیکھا جا سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: انڈیا نے کن پاکستانیوں کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس چپکے سے بحال کردیے؟

لیکن اب بھارتی حکام نے وضاحت جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اکاؤنٹس کی بحالی غیر ارادی تھی اور اب انہیں دوبارہ بلاک کر دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اکاؤنٹس کی عارضی بحالی ایک تکنیکی خرابی کے باعث ہوئی، جس کی وجہ سے یہ اکاؤنٹس غلطی سے ان بلاک ہو گئے تھے اور اب ان اکاؤنٹس کو دوبارہ بلاک کرنے کا عمل جاری ہے۔

واضح رہے کہ جون 2024 میں پہلگام میں ہونے والے حملے کے بعد انڈیا میں پاکستان مخالف جذبات میں اضافہ دیکھنے میں آیا تھا۔ اسی تناظر میں انڈیا نے متعدد پاکستانی اداکاروں اور سوشل میڈیا انفلیوئنسرز کے یوٹیوب چینلز، فیس بک پیجز، انسٹاگرام اکاؤنٹس پر پابندیاں عائد کر دیں تھیں۔ ان اکاؤنٹس پر الزام لگایا گیا کہ وہ انڈین سالمیت کے خلاف مواد شائع کر رہے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

احد رضا میر پاکستانی فنکار دنانیر مبین ہانیہ عامر یمنٰی زیدی.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: پاکستانی فنکار ہانیہ عامر کے اکاؤنٹس کے بعد

پڑھیں:

کراچی: لی مارکیٹ کی بحالی کے دوران آثارِ قدیمہ کی موجودگی کا انکشاف

— تصویر بشکریہ سوشل میڈیا

کراچی کے علاقے اولڈ سٹی ایریا لی مارکیٹ کی بحالی کے دوران آثارِ قدیمہ کی موجودگی کا انکشاف ہوا ہے۔

اس حوالے سے میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے کہا ہے کہ لی مارکیٹ کی بحالی کے دوران 2 قدیم طرز کے مجسمے برآمد ہوئے ہیں، ملنے والی اشیاء کی ماہرینِ آثارِ قدیمہ سے جانچ کرائی جائے گی۔

مرتضیٰ وہاب نے کہا ہے کہ برآمد ہونے والے مجسموں کی عمر اور تاریخی اہمیت کا تعین ماہرین کریں گے، تاریخی ورثے کے تحفظ کے لیے برآمد اشیاء کی مکمل دستاویزات اور ریکارڈ مرتب کیا جائے گا۔

پاکستان اور فرانس کے اشتراک سے سندھ میں آثار قدیمہ کی نئی مہم

پاکستان اور فرانس کے درمیان آثار قدیمہ کے میدان میں تعاون ایک نئے سنگِ میل کی جانب بڑھ رہا ہے۔ سائنسی تعاون کے اتاشی نے کراچی میں انڈس بیسن (MAFBI) میں فرانسیسی مشن کے سربراہ ڈاکٹر اورور ڈیڈیئر سے ملاقات کی اور سندھ میں 2025 کے مشترکہ فیلڈ ورک سیزن کی تیاریوں کا جائزہ لیا۔

انہوں نے کہا ہے کہ لی مارکیٹ کی بحالی کے دوران دریافت ہونے والی اشیاء کو محفوظ کر لیا گیا ہے، کے ایم سی شہر کے تاریخی ورثے کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے۔

مرتضیٰ وہاب نے یہ بھی کہا ہے کہ لی مارکیٹ سے ملنے والی اشیاء کا سائنسی معائنہ کرایا جائے گا، تاریخی نوعیت کی دریافت پر مزید کھدائی احتیاط سے کی جا رہی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • اسپین کے ورلڈ کپ ہیروز کو ٹماٹروں میں کیوں تولا گیا، یہ دلچسپ روایت کب سے شروع ہوئی؟
  • سیلف کیئر ڈے: خود کو وقت دینے کی عادت کیوں ضروری ہے؟ ماہرین کی مفید تجاویز
  • بچوں کی آن لائن حفاظت: ٹک ٹاک پر یورپی یونین کی فرد جرم عائد
  • کراچی: لی مارکیٹ کی بحالی کے دوران آثارِ قدیمہ کی موجودگی کا انکشاف
  • ٹنڈولکر سمیت بھارتی کھلاڑی بھی مودی مخالف احتجاج کرنے والوں ہے حق میں سامنے آگئے
  • پیٹرول مہنگا، کیا دفتروں کے لیے ہفتہ دوبارہ 3 یا 4 روز پر مشتمل ہوسکتا ہے؟
  • بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟
  • معرکہ حق میں بھارت کو کتنا نقصان پہنچا؟ احتجاج میں شامل بھارتی طلبہ نے بھی پاکستان کے مؤقف کی حمایت کردی
  • امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز
  • حیسکو میں گھوسٹ، ریٹائرڈ ملازمین کی تنخواہ کے نام پر 1 ارب 6 کروڑ روپے کی خرد برد کا انکشاف