برسلز : چین کے وزیر خارجہ وانگ ای نے یورپی یونین کے خارجہ امور اور سلامتی پالیسی کی اعلی نمائندے کاجا کالاس کے ساتھ چین اور یورپی یونین کے درمیان اعلیٰ سطحی اسٹریٹجک ڈائیلاگ کے 13 ویں دور کا انعقاد کیا۔جمعرات کے روز چینی میڈ یا کے مطا بق وانگ ای نے کہا کہ چین اور یورپی یونین حریف کے بجائے شراکت دار ہیں اور فریقین کو اس فریم ورک کے اندر مواصلات کے ذریعے اپنے اختلافات کو مناسب طریقے سے حل کرنا چاہئے.

بین الاقوامی صورتحال میں غیر یقینی صورتحال اور بڑھتے ہوئے عدم استحکام کے پیش نظر چین اور یورپی یونین تبادلوں کو مضبوط بنانا چاہیے، افہام و تفہیم کو گہرا کرنا چاہیے، باہمی اعتماد میں اضافہ کرنا چاہیے، تعاون کو آگے بڑھانا چاہیے اور مشترکہ طور پر جنگ کے بعد کے بین الاقوامی نظام کی حفاظت کرنی چاہیے اور دنیا کے لئے قیمتی استحکام فراہم کرنا چاہیے۔

 

 

وانگ ای نے کہا کہ یورپ کو مختلف چیلنجز کا سامنا ہے لیکن یہ ماضی، حال اور مستقبل میں چین کی طرف سے نہیں ہیں۔ امید ہے کہ یورپی یونین واقعی چین کے بارے میں ایک معروضی اور منطقی تفہیم قائم کرے گی اور زیادہ فعال اور عملی چین کی پالیسی پر عمل کرے گی۔وانگ ای نے اس بات پر زور دیا کہ چین اور یورپی یونین کو باہمی احترام اور ایک دوسرے کی مرکزی دلچسپی پر غور کرنے کو ترجیج دینا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ یورپی یونین ٹھوس انداز میں ایک چین کے اصول پر عمل کرے گا۔کاجا کا لاس نے کہا کہ یورپی یونین ایک چین کے اصول پر قائم رہتا ہے اور چین کے ساتھ مل کر چین- یورپی یونین کی سربراہی ملاقات کی تیاری کے لیےتیار ہے تاکہ مزید تعمیراتی یورپ چین تعلقات کو فروغ دیا جائے اور مزید متوازن اور منصفانہ معاشی و تجارتی تعاون بڑھایا جائے۔فریقین نے یوکرین کے بحران ، اسرائیل اور فلسطین کے درمیان تصادم اور ایران کے جوہری مسئلے سمیت دیگر معاملات پر بھی تبادلہ خیال کیا۔

Post Views: 4

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: چین اور یورپی یونین وانگ ای نے چین کے

پڑھیں:

جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی

تہران:

ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ممکنہ نئی فوجی کارروائی کے اشاروں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی غیر ذمہ دارانہ عسکری اقدام کے نتائج امریکا کے لیے انتہائی مہنگے ثابت ہوں گے۔

 

ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ امریکی انتظامیہ کے بعض بااثر حلقے زمینی حقائق کو نظر انداز کر رہے ہیں اور ان کی توجہ خطے کی موجودہ صورتحال کے بجائے 2028 کے صدارتی انتخابات پر مرکوز دکھائی دیتی ہے۔

مزید پڑھیں

مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، یو این سیکریٹری جنرل

انہوں نے کہا کہ واشنگٹن میں موجود کچھ عناصر حقیقت پسندانہ انداز میں حالات کا جائزہ لینے کے بجائے ایسے فیصلوں کی حمایت کر رہے ہیں جو خطے میں مزید کشیدگی کو جنم دے سکتے ہیں۔

ان کے بقول اگر امریکہ نے جذباتی یا غیر دانشمندانہ جارحیت کا راستہ اختیار کیا تو اس کی سیاسی اور سفارتی قیمت صدر ٹرمپ کو خود ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔

عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ طاقت کے استعمال یا دھمکیوں سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ اس سے خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ اور خطرناک ہو جائے گی۔

متعلقہ مضامین

  • تیسرے آپریشن کے بعد آنے والی خواتین کا مانع حمل آپریشن کردینا چاہیے، وزیر صحت سندھ
  • چینی وزیر خارجہ سے ملاقات، علاقائی امن کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہنے پر اسحاق ڈار کا اظہارِ تشکر
  • اسحاق ڈار اور چینی وزیر خارجہ وانگ ای کی ملاقات، دوطرفہ تعلقات اور علاقائی امور پر تبادلہ خیال
  • ایس سی او اجلاس کے موقع پر پاک چین وزرائے خارجہ کی ملاقات، علاقائی امن اور تعاون پر تبادلۂ خیال
  • ٹرمپ انتظامیہ نے 60 تجارتی شراکت داروں پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
  • ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
  • جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام