ملک احمد خان نے سنی اتحاد کونسل کے 26 ارکان کیخلاف ریفرنس دائر کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 3rd, July 2025 GMT
ذرائع کے مطابق سپیکر پنجاب اسمبلی الیکشن کمیشن پہنچ گئے، انہوں نے سنی اتحاد کونسل کے ارکان صوبائی اسمبلی پنجاب کے خلاف نااہلی ریفرنس الیکشن کمیشن میں دائر کر دیا۔ اسلام ٹائمز۔ سپیکر پنجاب اسمبلی ملک احمد خان نے سنی اتحاد کونسل کے 26 ارکان کیخلاف ریفرنس دائر کر دیا۔ ذرائع کے مطابق سپیکر پنجاب اسمبلی ملک احمد خان الیکشن کمیشن پہنچ گئے، انہوں نے سنی اتحاد کونسل کے ارکان صوبائی اسمبلی پنجاب کے خلاف نااہلی ریفرنس الیکشن کمیشن میں دائر کر دیا۔ ملک احمد نے سنی اتحاد کونسل کے 26 ارکان صوبائی اسمبلی کے خلاف الیکشن کمیشن میں ریفرنس دائر کیا۔
27 جون کو پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں اپوزیشن ارکان نے شور شرابہ اور ہنگامہ آرائی کے ساتھ ساتھ توڑ پھوڑ کی تھی۔ سپیکر پنجاب اسمبلی کی جانب سے پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن کے 26 ارکان کی رکنیت معطل کی گئی تھی۔ 28 جون کو سپیکر پنجاب اسمبلی ملک احمد خان نے اپوزیشن کے 26 ارکان کی نااہلی کے لیے ریفرنس الیکشن کمیشن کو بھیجنے کا اعلان کیا تھا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: نے سنی اتحاد کونسل کے سپیکر پنجاب اسمبلی الیکشن کمیشن کے 26 ارکان کی ملک احمد خان دائر کر دیا
پڑھیں:
سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
قونصلر صائمہ سلیم— فائل فوٹواقوامِ متحدہ میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے سلامتی کونسل میں بھارت کو لاجواب کر دیا۔
اپنے بیان میں صائمہ سلیم نے کہا ہے کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
انہوں نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔
صائمہ سلیم نے کہا کہ ایک طرف سیاسی آزادی ہے اور دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے، حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔
اقوامِ متحدہ میں پاکستانی کونسلر صائمہ سلیم نے کہا کہ افغان سرزمین سے حملوں کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، جموں و کشمیر نہ بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ، بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت تبدیل نہیں کر سکتا۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ بھارت خود مسئلہ کشمیر سلامتی کونسل میں لایا اور آج قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے، مقبوضہ کشمیر میں جبر اور انسانی حقوق کی پامالیاں جاری ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے، دریائے سندھ کا پانی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔
صائمہ سلیم نے یہ بھی کہا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک عالمی سطح تک پھیل چکے ہیں، بھارت میں ہندوتوا نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی بنا دیا ہے۔