جھنگ، وائلڈ لائف پارک سے قیمتی 3 ہرن چوری کرلیے گئے
اشاعت کی تاریخ: 3rd, July 2025 GMT
JHANG:
پنجاب کے ضلع جھنگ میں وائلڈلائف پارک سے تین قیمتی مادہ ہرن چوری کرلیے گئے جبکہ تحقیقات کے لیے دو رکنی کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے اور ہرنوں کی چوری کا مقدمہ بھی درج کروا دیا گیا ہے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق جھنگ کے وائلڈلائف پارک سے بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب کالے ہرن چوری ہوئے جس کا علم اگلے روز اس وقت ہوا جبکہ ہرنوں کو خوراک ڈالنے والے ملازمین نے انکلوژر میں گئے۔
ڈپٹی چیف وائلڈ لائف رینجرز ہیڈکوارٹرز نے بتایا کہ قیمتی ہرنوں کی چوری کی تحقیقات کے لیے محکمے کی ایک خاتون افسر ڈاکٹر مصباح سرور کی سربراہی میں دو رکنی کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے جو تین روز میں اپنی رپورٹ جمع کروائے گی۔
انہوں نے بتایا کہ ہرنوں کی چوری میں جو بھی ملوث ہوا اس کے خلاف کارروائی ہوگی اور غفلت کے مرتکب عملے کے خلاف بھی کارروائی کی جائے گی۔
وائلڈلائف حکام کے مطابق وائلڈلائف پارک جھنگ میں مجموعی طور پر 7 کالے ہرن تھے جن میں سے تین مادہ ہرن چوری ہوگئے ہیں، ایک کالے ہرن کی کم ازکم مالیت دو لاکھ روپے ہے۔
ایکسپریس نیوز کو ملنے والی اطلاعات کے مطابق پارک سے چار کالے ہرن چوری ہوئے ہیں جن میں سے ایک نر اور تین مادہ ہیں تاہم حکام کے مطابق چوری ہونے والے ہرنوں کی تعداد تین ہے، یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ وائلڈلائف پارک جھنگ کا سینیئر عملہ ٹریننگ میں مصروف ہے۔
پارک میں گرین پاکستان پروگرام کے تحت بھرتی عملہ ڈیوٹی دے رہا ہے جس کا کنٹریکٹ 30 جون کو ختم ہوچکا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ہرن چوری ہرنوں کی کے مطابق کالے ہرن پارک سے
پڑھیں:
عالمی توانائی بحران کا خدشہ بڑھ گیا، آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت تقریباً رک گئی
لندن: مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور بحری سلامتی کے بڑھتے خدشات کے باعث آبنائے ہرمز سے گزرنے والے آئل ٹینکروں کی تعداد دو ماہ سے زائد عرصے کی کم ترین سطح پر آ گئی ہے، جبکہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بڑھ کر تقریباً 100 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہیں۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق جہازوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے والی تجزیاتی کمپنی کپلر کے اعداد و شمار سے معلوم ہوا ہے کہ 23 جولائی کو صرف ایک آئل ٹینکر آبنائے ہرمز سے گزرا، جو 7 مئی کے بعد سب سے کم یومیہ تعداد ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق اس سے ایک روز قبل آبنائے ہرمز سے تین آئل ٹینکر گزرے تھے جبکہ 23 جولائی کو کوئی بھی جہاز اس آبی گزرگاہ میں داخل نہیں ہوا۔
ماہرین کے مطابق خطے میں جاری فوجی کشیدگی، بحری جہازوں پر حملوں کے خدشات اور آبنائے ہرمز میں سلامتی کی غیر یقینی صورتحال نے شپنگ کمپنیوں کو محتاط رویہ اختیار کرنے پر مجبور کر دیا ہے، جس کے باعث کئی جہاز متبادل راستوں یا روانگی میں تاخیر کو ترجیح دے رہے ہیں۔
ادھر عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ سرمایہ کاروں کو خدشہ ہے کہ اگر آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت مزید متاثر ہوئی تو عالمی سطح پر تیل کی سپلائی میں رکاوٹ پیدا ہو سکتی ہے، جس کے نتیجے میں قیمتوں میں مزید اضافہ ممکن ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی سطح پر خام تیل اور قدرتی گیس کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔ اس لیے اس راستے میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی معیشت اور توانائی کی منڈیوں پر فوری اثر ڈال سکتی ہے۔