ریسکیو کی گاڑی رسی دے کر چلی گئی، دوسری گاڑی آئی تو کہنے لگے ہمارے پاس کچھ نہیں : سوات واقعہ میں جاں بحق بچوں کے والد کا انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 4th, July 2025 GMT
سوات (ڈیلی پاکستان آن لائن )سوات واقعہ میں جاں بحق ہونے والے دو بچوں کے باپ نے انکشاف کیا کہ ریسکیو کی پہلی گاڑی ایک گھنٹے بعد آئی،کہنے لگے کہ ہمارے پاس رسے کے علاوہ کچھ نہیں وہ گاڑی وہاں سے چلی گئی، پھر کچھ دیر بعد دوسری گاڑی آئی کہنے لگے ہمارے پاس بھی کچھ نہیں تو میں نے کہا کہ جیسے میں رو رہاہوں اور دیکھ رہاہوں تم بھی دیکھ لو۔
سوات واقعہ میں جاں بحق ہونے والے 6 سالہ ایشال اور 12 سالہ دانیال کے والد نے نجی ٹی وی جیونیوز سے گفتگو کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ میں نے 10بج کر 3 منٹ پر ریسکیو والوں کو کال کی تو انہوں نے مجھے جواب دیا کہ ایک گھنٹہ ہو گیا آپ کی طرف گاڑی نکلی ہوئی ہے ، میں نے بتایا کہ میں یہاں پر کھڑا ہوں ، دائیں بائیں میں نے دیکھا لیکن کوئی گاڑی نہیں آئی، پھر میں وہاں سے بھاگ کر آیا ہوں ، اپنے بچوں کی طرف دیکھتا رہا، میرے بچے ایسی حالت میں تھے کہ میں ان کی طرف دیکھ نہیں پا رہا تھا ، اس کے بعد میں پھر بھاگ کر باہر آیا اتنے میں ایک گاڑی آئی ، جب میں گاڑی کے پاس بھاگا تو انہوں نے ایک رسا نکالا ، رسے کو دریا کے کنارے پر لے کر آئے ، اسی رسے کو ہم نے بچھا دیا ، میں ریسکیو والوں سے پوچھا کہ اب کیا کرنا ہے تو کہنے لگے ہمارے پاس رسے کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے تو میں نے پوچھا کہ اس سے کیاکرنا ہے ، ریسکیو کی گاڑی رسا چھوڑ کر چلی گئی۔
عمارت تلے دبے ایک شخص کا اپنے عزیز واقارب ، ریسکیو حکام کو ٹیلی فون،مدد کی درخواست
بچوں کے والد کا کہناتھا کہ میں وہاں بھاگتا کبھی کسی کے پاس جاتا کبھی کسی کے پاس، 1122 کا نمبر ہی نہیں مل رہا تھا، آدھے گھنٹے کے بعد ایک اور گاڑی آئی ، وہ بڑی گاڑی تھی، میں بھاگ کر گیا تو ان سے پوچھا کیا سامان لائے ہو میں آپ کے ساتھ نکالتا ہوں ، تو انہوں نے کہا ہم کچھ نہیں لے کر آئے ، میں نے کہا کوئی کشتی یا لائف جیکٹ کچھ تو لائےہو؟ کہنے لگے ہم کچھ نہیں لائے، پھر میں نے کہا کہ کس لیئے آئے ہو، آپ بھی آو جس طرح میں رو رہا ہوں اور دیکھ رہاہوں ، آپ بھی دیکھ لو، سوات کے لوگ میرے درد غم میں شریک تھے لیکن ایک باپ اپنے بچوں کیلئے کچھ نہیں کر سکتا تھا، 12 بجے تک اپنے بچوں کو پانی میں تڑپتا دیکھ رہا تھا ، لیکن کوئی بندہ میری مدد کیلئے نہیں آیا، اسی طرح سیالکوٹ والی فیملی کا ایک بندہ تھا وہ بھی رو رہا تھا اور چلا رہا تھا لیکن سوات میں کوئی بندہ نہیں آیا کہ ہماری مدد کر سکے ، سیالکوٹ والی فیملی دو دو ،ایک ایک کر کے ساری پانی میں بہتی چلی گئی ۔
عمران خان کو گرفتاری سے قبل ملک سے باہر جانے کی پیشکش کی گئی: ملک عامر ڈوگر
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: ہمارے پاس گاڑی ا ئی کہنے لگے کچھ نہیں چلی گئی رہا تھا نے کہا کہ میں
پڑھیں:
فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
پُرتعیش گاڑیاں بنانے والی عالمی شہرت یافتہ کمپنی فراری کی پہلی مکمل الیکٹرک گاڑی منظرِ عام پر آتے ہی شدید تنقید کی زد میں آ گئی، جس کے اثرات کمپنی کی مارکیٹ پوزیشن پر بھی نمایاں طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔
’لُوچے‘نامی اس نئی الیکٹرک گاڑی کو معروف ڈیزائنر سر جونی آئیو کے تخلیقی وژن کے تحت تیار کیا گیا ہے۔ اطالوی زبان میں ’لُوچے‘ کا مطلب ’روشنی‘ ہے۔ تاہم، گاڑی کا ڈیزائن اور مجموعی تصور صارفین اور ناقدین کی توقعات پر پورا نہ اتر سکا۔
فراری کی تاریخ میں پہلی بار متعارف کرائی گئی پانچ نشستوں والی اس الیکٹرک گاڑی کو غیرمعمولی کارکردگی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔
کمپنی کے مطابق یہ گاڑی محض ڈھائی سیکنڈ میں صفر سے 96 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کر سکتی ہے۔ اس کی قیمت 6 لاکھ 40 ہزار ڈالر، یعنی پاکستانی کرنسی میں تقریباً 18 کروڑ روپے رکھی گئی ہے۔
گاڑی کی تقریبِ رُونمائی میں اٹلی کی اہم شخصیات سمیت ملک کے صدر اور عیسائی برادری کے روحانی پیشوا پوپ لیو کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ تاہم، شاندار تقریب کے باوجود مارکیٹ کا ردِعمل فراری کے لیے حوصلہ افزا ثابت نہ ہو سکا۔
رونمائی کے صرف ایک دن بعد ہی کمپنی کے شیئرز کی قیمت میں آٹھ فی صد تک کمی ریکارڈ کی گئی، جسے سرمایہ کاروں کی مایوسی اور مارکیٹ کے منفی ردِعمل کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب ناقدین، سرمایہ کاروں اور بعض سیاسی شخصیات نے بھی گاڑی کے ڈیزائن اور تصور پر سوالات اٹھائے ہیں، جبکہ سوشل میڈیا پر اس کے منفرد انداز کو لے کر ملا جلا ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی عالمی مارکیٹ میں فراری کا یہ قدم تاریخی ضرور ہے، مگر کمپنی کو روایتی اسپورٹس کار کے شوقین صارفین کو قائل کرنے کے لیے مزید محنت کرنا پڑ سکتی ہے۔