پولینڈ میں دریافت ہونے والی 6 ہزار سال پرانی مورت نے ماہرین کو حیرت میں ڈال دیا
اشاعت کی تاریخ: 4th, July 2025 GMT
پولینڈ کے شہر پومیرانیا میں ایک کسان کی دریافت کردہ ایک سادہ سی مورتی نے ملکی آثارِ قدیمہ کی دنیا میں ہلچل مچا دی ہے۔ صرف 12 سینٹی میٹر بلند، چونے کے پتھر سے تراشی گئی یہ مورت جسے ’کولوبرزگ کی وینس‘ کا نام دیا گیا ہے، نہ تو آنکھوں، ناک یا منہ جیسے نقوش رکھتی ہے اور نہ ہی کوئی بناوٹ، لیکن پھر بھی اسے ’صدی کی سب سے بڑی دریافت‘ قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ نایاب مورت 2022 میں اوبروٹی نامی گاؤں کے ایک کسان کو ملی، جو پارسیتا (Parsęta) دریا کے قریب واقع ہے۔ بعد ازاں یہ مورتی والڈیمر ساڈوسکی کے ہاتھوں میں پہنچی، جو کوئلوجرزگ میں ’میوزیم آف پولش آرمز‘ کے تحت کام کرنے والے ’پارسیتا ایکسپلوریشن گروپ‘ سے وابستہ ہیں۔ 2023 میں معروف ماہرِ آثارِ قدیمہ مارچن کرژپکوسکی اور اُن کی ٹیم نے اس مورتی کی سائنسی بنیادوں پر تصدیق کی اور اسے تاریخی لحاظ سے نایاب قرار دیا۔
مزید پڑھیں: ’القابل گاؤں‘ کھجوروں کا نخلستان اور مٹی کے مکانات کا مسکن
ماہرین کے مطابق یہ مورتی نیولیتھک (Neolithic) دور یعنی قریباً 6 ہزار سال قبل کی ہے اور غالب گمان یہی ہے کہ یہ مادری دیوی ’وینس‘ کی علامت ہے، جو قدیم تہذیبوں میں محبت اور زرخیزی کی دیوی مانی جاتی تھی۔ اگرچہ اس مجسمے میں چہرے کے خدوخال نہیں، لیکن نسوانی جسمانی خصوصیات نمایاں ہیں، جس سے اشارہ ملتا ہے کہ ممکن ہے اسے زرخیزی سے متعلق مذہبی یا روحانی رسومات میں استعمال کیا جاتا ہو۔
تحقیقی رپورٹ میں لکھا گیا ہے کہ یہ شاید اُن پہلے کسانوں کا کام ہے جو مغربی پومیرانیا کی زرخیز زمینوں میں، خاص طور پر پارسیتا دریا کے آس پاس، آ کر آباد ہوئے تھے۔
یورپ میں ’وینس‘ کی مورتیوں کی کئی دریافتیں ہو چکی ہیں، جیسے ’وینس آف وِلنڈورف‘ (1908، آسٹریا) اور ’وینس آف ہوہلے فیلز‘ (2008، جرمنی)، لیکن ’کولوبرزگ وینس‘ اس لیے منفرد ہے کہ اسے مٹی کے بجائے چونے کے پتھر سے تراشا گیا، جو اس طرز کی مورتیوں میں کم ہی استعمال ہوا ہے۔ یہ اس علاقے میں اپنی نوعیت کی پہلی دریافت ہے جہاں اس سے قبل ایسی کوئی مثال نہیں ملی۔
مزید پڑھیں: دنیا میں پرندے کا سب سے بڑا مجسمہ کہاں نصب ہے؟
میوزیم آف پولش آرمز کے ڈائریکٹر اور زیرِآب آثارِ قدیمہ کے ماہر، الیگزینڈر اوستاش، نے اسے صدی کی دریافت قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ دریافت نہ صرف پولینڈ کی آثارِ قدیمہ میں اہم اضافہ ہے بلکہ کولوبرزگ کی تاریخ کے افق کو وسعت بھی دیتی ہے۔ مورتی اب ’میوزیم آف پولش آرمز‘ کے مستقل ذخیرے کا حصہ بن چکی ہے اور اسے عوام کے لیے نمائش میں رکھا جائے گا۔
اس وقت مارچن کرژپکوسکی کی سربراہی میں مختلف علوم سے تعلق رکھنے والے ماہرین پر مشتمل ایک بین الشعبہ ٹیم اس مورتی پر مزید تحقیق کر رہی ہے تاکہ نیولیتھک دور کی زندگی، ثقافت، رسومات اور انسانی عقائد پر مزید روشنی ڈالی جا سکے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
‘Kolobrzeg’s Venus’ آثار قدیمہ پولینڈ پومیرانیا.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
پڑھیں:
ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار
اسلام آباد: ویپنگ کے نقصانات سے متعلق سامنے آنے والی نئی تحقیق نے ای سگریٹ استعمال کرنے والوں کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ ویپنگ کو عام سگریٹ کا محفوظ متبادل سمجھنا ایک غلط فہمی ہے، کیونکہ اس کے استعمال سے بھی انسانی صحت پر سنگین منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
تحقیقی رپورٹ کے مطابق ویپ استعمال کرنے والے افراد کے منہ اور پھیپھڑوں کے خلیوں میں ڈی این اے کو نقصان پہنچنے کے شواہد ملے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ڈی این اے میں خرابی مختلف بیماریوں، خصوصاً کینسر کے خطرات میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ویپ میں روایتی تمباکو موجود نہیں ہوتا، لیکن اس میں شامل مختلف کیمیکلز اور فلیورز انسانی خلیوں پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ پوڈ سسٹم پر مبنی ویپ استعمال کرنے والے افراد میں خلیاتی نقصان نسبتاً زیادہ دیکھا گیا۔
سائنس دانوں کے مطابق ویپنگ اور روایتی سگریٹ نوشی کا طریقہ کار مختلف ضرور ہے، تاہم دونوں صورتوں میں جسم کو نقصان پہنچنے کا خطرہ موجود رہتا ہے۔ بعض مطالعات میں ویپ استعمال کرنے والوں کے خلیوں میں ہونے والے ڈی این اے نقصان کی سطح سگریٹ نوش افراد کے قریب پائی گئی۔
ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ نوجوانوں میں ویپنگ کا بڑھتا ہوا رجحان مستقبل میں صحت عامہ کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ای سگریٹ کو محفوظ متبادل سمجھ کر استعمال کرنے کے بجائے اس سے مکمل اجتناب اختیار کرنا زیادہ بہتر ہے۔
ماہرین نے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ویپنگ کے نقصانات کو سنجیدگی سے لیں اور اپنی صحت کے تحفظ کے لیے ایسی تمام مصنوعات سے حتیٰ الامکان دور رہیں، کیونکہ نئی سائنسی تحقیقات کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ویپنگ بھی انسانی جسم کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔