غلطی سے فائر الارم بجنے پر مسافروں نے جہاز سے چھلانگ لگادی، ویڈیو وائرل
اشاعت کی تاریخ: 6th, July 2025 GMT
اسپین کے مایورکا ائیرپورٹ پر ایک غیر معمولی واقعے نے مسافروں میں خوف و ہراس پھیلا دیا، جب ایک نجی ائیرلائن کی پرواز میں غلطی سے فائر الارم بج اٹھا۔
اس غیر متوقع صورتحال میں گھبراہٹ کا شکار ہو کر کئی مسافروں نے جہاز سے چھلانگ لگا دی، جس کے نتیجے میں 18 افراد زخمی ہوگئے۔
واقعہ اس وقت پیش آیا جب مانچسٹر جانے والی پرواز کے دوران فائر الارم بج اٹھا۔ مسافروں نے گھبراہٹ میں جہاز سے چھلانگ لگانا شروع کردی، حالانکہ حقیقت میں کوئی آگ نہیں لگی تھی۔ اس دوران پیدا ہونے والی افراتفری میں متعدد مسافر معمولی چوٹوں کا شکار ہوئے۔
برطانوی میڈیا کے مطابق ائیرلائن نے فوری طور پر واقعے کی تحقیقات شروع کردی ہیں۔ ابتدائی رپورٹس کے مطابق یہ محض ایک تکنیکی خرابی تھی جس نے الارم سسٹم کو متحرک کردیا تھا۔
ایئرپورٹ کے حکام نے صورتحال پر قابو پا لیا اور تمام مسافروں کو دوبارہ جہاز میں سوار کرایا گیا۔ زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کی گئی، جن میں سے کسی کی حالت تشویشناک نہیں ہے۔
یہ واقعہ ہوائی سفر کے دوران غیر متوقع صورتحال میں مسافروں کے ردعمل کو لے کر سوالات اٹھاتا ہے۔ حفاظتی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے حالات میں پرسکون رہنا اور عملے کی ہدایات پر عمل کرنا انتہائی ضروری ہے۔
ائیرلائن کی جانب سے معذرت کے ساتھ ساتھ یہ وعدہ کیا گیا ہے کہ ایسے واقعات کے دوبارہ رونما ہونے سے بچنے کے لیے تمام حفاظتی نظاموں کا بغور جائزہ لیا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
تہران:ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ممکنہ نئی فوجی کارروائی کے اشاروں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی غیر ذمہ دارانہ عسکری اقدام کے نتائج امریکا کے لیے انتہائی مہنگے ثابت ہوں گے۔
ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ امریکی انتظامیہ کے بعض بااثر حلقے زمینی حقائق کو نظر انداز کر رہے ہیں اور ان کی توجہ خطے کی موجودہ صورتحال کے بجائے 2028 کے صدارتی انتخابات پر مرکوز دکھائی دیتی ہے۔
مزید پڑھیںمشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، یو این سیکریٹری جنرل
انہوں نے کہا کہ واشنگٹن میں موجود کچھ عناصر حقیقت پسندانہ انداز میں حالات کا جائزہ لینے کے بجائے ایسے فیصلوں کی حمایت کر رہے ہیں جو خطے میں مزید کشیدگی کو جنم دے سکتے ہیں۔
ان کے بقول اگر امریکہ نے جذباتی یا غیر دانشمندانہ جارحیت کا راستہ اختیار کیا تو اس کی سیاسی اور سفارتی قیمت صدر ٹرمپ کو خود ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔
عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ طاقت کے استعمال یا دھمکیوں سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ اس سے خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ اور خطرناک ہو جائے گی۔