خواجہ آصف نے خیبرپختونخوا میں حکومت کی تبدیلی کا اشارہ دیدیا
اشاعت کی تاریخ: 6th, July 2025 GMT
وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے خیبرپختونخوا میں حکومت کی تبدیلی کا اشارہ دے دیا۔
نجی ٹی وی کو دیئے گئے حالیہ انٹرویو میں وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ انہوں نےخیبرپختونخوا میں حکومت کی تبدیلی کی کوشش ہو سکتی ہے کیونکہ “الیکٹڈ اور نان الیکٹڈ عناصر” کی موجودگی سیاسی عدم استحکام کا باعث بن رہی ہے۔
وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کی اندرونی خلفشار اور غیر واضح بیانیہ ملکی سیاست کو نقصان پہنچا رہا ہے۔
مسلم لیگ (ن) کے صدر میاں نواز شریف کی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی سے ملاقات کے حوالے سے زیر گردش خبروں پر انہوں نے سوال اٹھایا کہ نوازشریف بانی پی ٹی آئی سے ملنے کیوں جائیں؟ کوئی منطق سمجھا دے۔
خواجہ آصف نے ماضی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ نوازشریف پہلے بنی گالہ گئے تھے تو بانی نے 40 لاکھ روپے مانگ لیے تھے، اب اس بار کچھ اور ہی نہ مانگ لیں۔
وزیر دفاع نے پیپلز پارٹی کی وفاقی حکومت میں شمولیت کے امکان کو بھی رد نہیں کیا اور کہا کہ پیپلزپارٹی کی وفاقی حکومت میں شمولیت خارج ازامکان نہیں، پیپلز پارٹی کے ساتھ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ ( پی ڈی ایم ) کی شکل میں اتحادی حکومت کا تجربہ پہلے ہوچکا ہے اور اگر دوبارہ ایسی حکومت بنتی ہے تو یہ ملک کے بہتر مفاد میں ہوگا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ پی ٹی آئی نے تماشہ لگایا ہوا ہے، بانی کی بہنیں کچھ کہتی ہیں ، کوئی کچھ کہہ رہا ہوتا ہے، یہ متنجن پکا ہوا ہے اور رنگ برنگے چاول ہیں کون سادانہ کس رنگ کا ہے سمجھ نہیں آرہا۔
Post Views: 2.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: خواجہ ا صف وزیر دفاع پی ٹی ا ئی
پڑھیں:
مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ
ایک نئی سائنسی تحقیق میں یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال یادداشت اور ذہنی صلاحیتوں میں تیزی سے آنے والی کمی سے تعلق رکھ سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ اجزا چینی کے متبادل کے طور پر استعمال کیے جاتے ہیں، تاہم ان کے طویل المدتی اثرات دماغی صحت کے لیے تشویش کا باعث بن سکتے ہیں۔
یہ تحقیق امریکن اکیڈمی آف نیورولوجی کے جریدے نیورولوجی میں شائع ہوئی، جس میں تقریباً 13 ہزار بالغ افراد کی آٹھ برس تک نگرانی کی گئی۔ تحقیق کے دوران کم یا بغیر کیلوریز والی مٹھاس کے سات عام اجزا کا جائزہ لیا گیا، جن میں ایسپارٹیم، سیکرین، ایسی سلفیم کے، اریتھریٹول، زائیلیٹول، سوربیٹول اور ٹیگاٹوز شامل تھے۔
تحقیقی نتائج کے مطابق وہ افراد جو روزانہ اوسطاً 191 ملی گرام مصنوعی مٹھاس استعمال کرتے تھے، جو تقریباً ایک کین ڈائٹ سوڈا میں موجود ایسپارٹیم کے برابر مقدار ہے، ان میں کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں یادداشت اور ذہنی کارکردگی میں کمی کی رفتار 62 فیصد زیادہ دیکھی گئی۔
اسی طرح درمیانی مقدار میں مصنوعی مٹھاس استعمال کرنے والے افراد میں بھی ذہنی صلاحیتوں میں کمی کا خطرہ نمایاں رہا، جہاں یہ شرح کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں 35 فیصد زیادہ ریکارڈ کی گئی۔
محققین کے مطابق یہ تعلق 60 سال سے کم عمر افراد اور ذیابیطس کے مریضوں میں زیادہ نمایاں دیکھا گیا، کیونکہ یہ افراد عام چینی کے بجائے مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال کرتے ہیں۔
تحقیق میں شامل سات میٹھے اجزا میں سے صرف ٹیگاٹوز ایسا جز تھا جس کا ذہنی صلاحیتوں میں تیز رفتار کمی سے واضح تعلق سامنے نہیں آیا، جبکہ باقی چھ اجزا اس خطرے سے منسلک پائے گئے۔
تحقیق کی مرکزی مصنفہ، یونیورسٹی آف ساؤ پالو سے وابستہ ڈاکٹر کلاڈیا کیمی سوئیموتو نے کہا کہ مصنوعی مٹھاس کو عموماً صحت مند متبادل سمجھا جاتا ہے، لیکن تحقیق کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بعض مصنوعی میٹھے اجزا طویل عرصے تک استعمال کیے جانے کی صورت میں دماغی صحت پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔
یہ مصنوعی مٹھاس عام طور پر ڈائٹ سوڈا، فلیورڈ واٹر، انرجی ڈرنکس، دہی اور دیگر کم کیلوریز والی پراسیسڈ غذاؤں میں استعمال کی جاتی ہے۔
تاہم محققین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یہ ایک مشاہداتی تحقیق ہے، اس لیے اس سے یہ حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ مصنوعی مٹھاس ہی براہِ راست یادداشت میں کمی کی وجہ بنتی ہے۔ ان کے مطابق ان نتائج کی مزید تصدیق اور مختلف متبادل میٹھے اجزا کے اثرات جانچنے کے لیے مزید سائنسی تحقیق کی ضرورت ہے۔