حوالدار لالک جان شہید:کسی بھی محاذ پر آخری لمحے تک بہادری و دفاع کی اعلیٰ ترین مثال
اشاعت کی تاریخ: 7th, July 2025 GMT
کارگل جنگ کے عظیم ہیرو حوالدار لالک جان کا آج یومِ شہادت منایا جا رہا ہے۔ وطن کی خاطر ان کی قربانی کو کسی بھی محاذ پر آخری لمحے تک بہادری و دفاع کی اعلیٰ ترین مثال قرار دیا جاتا ہے۔
مئی1999میں دشمن پڑوسی بھارت ایک بڑی جارحانہ کارروائی کی منصوبہ بندی کر رہا تھا اور حوالدار لالک جان کمپنی ہیڈ کوارٹر میں اپنی خدمات سر انجام دے رہے تھے۔ انہوں نے جنگ کے اگلے محاذ پر لڑنے کے لیے اپنی خدمات رضاکارانہ طور پر پیش کیں ۔
مٹھی بھر ساتھیوں کے ہمراہ حوالدار لالک جان نے نہ صرف اپنی پوسٹ کا کامیابی سے دفاع کیا بلکہ دشمن کے متعدد حملوں کو ناکام بنا کر اُسے بھاری جانی نقصان بھی پہنچایا۔
7جولائی کو دشمن تمام دِن حوالدار لالک جان کی پوسٹ پر گولوں سے آگ بر ساتارہا اور پھر اُسی رات 3 مختلف اطراف سے حملہ بھی کر دیا، جس میں حوالدار لالک جان شدید زخمی ہو گئے، تاہم انہوں نے اس کے باوجود محاذِ جنگ سے پیچھے ہٹنے سے انکار کر دیا۔ حوالدار لالک جان کے جوابی حملے میں دشمن کو بھاری نقصان کے ساتھ منہ کی کھانا پڑی۔
بعد ازاں حوالدار لالک جان دفاع وطن کا عظیم فریضہ سر انجام دیتے ہوئے زخموں کی تاب نہ لا کر شہید ہو گئے۔
دُشمن کی بے شمار تحریریں بھی اس با ت کا بر ملا اعتراف کرتی ہیں کہ ’’یہ کسی بھی محاذ پر آخری فرد تک بہادری کے ساتھ دفاع کی اعلیٰ ترین مثال تھی۔‘‘
Post Views: 2.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: حوالدار لالک جان دفاع کی
پڑھیں:
عطاء اللّٰہ خان عیسیٰ خیلوی کا اپنی قبر تیار کرنے کا انکشاف
پاکستان کے لیجنڈری گلوکار عطاء اللّٰہ خان عیسیٰ خیلوی(Attaullah Khan Esakhelvi) نے حال ہی میں ایک پوڈکاسٹ میں اپنی آخرت کی تیاری اور اپنی قبر سے متعلق گفتگو کی ہے۔
عطاء اللّٰہ خان عیسیٰ خیلوی نے پوڈکاسٹ میں بتایا کہ میں نے اپنی قبر پہلے ہی تیار کروا لی ہے۔
انہوں نے کہا کہ میں نے آخرت کی تیاری کر لی ہے، میری قبر عیسیٰ خیل میں تیار ہے، اگر آپ میری زندگی میں آئیں گے تو میں آپ کو دکھا دوں گا، ورنہ بعد میں خود دیکھ لیں گے، ہمارا خاندانی قبرستان ہے اور میں نے وہاں اپنے لیے ایک قبر مخصوص کروا رکھی ہے، ساتھ کچھ مزید جگہ بھی ہے، ایک میری اہلیہ کے لیے بھی ہے، اگرچہ یہ بات میں نے مذاق میں کہی تھی، اصل میں صرف اپنی قبر تیار کروائی ہے، اللّٰہ تعالیٰ ہم سب پر رحم فرمائے۔
مزیدپڑھیں:بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟
عطاء اللّٰہ خان عیسیٰ خیلوی نے بتایا کہ فارم ہاؤس اور مسجد تعمیر کروانے کے بعد میرے ذہن میں یہ خیال آیا کہ اپنی آخری آرام گاہ بھی وہیں ہونی چاہیے۔
گلوکار کا کہنا ہے کہ والدہ، عزیز و اقارب اور قریبی دوستوں کی وفات نے مجھے زندگی اور موت کے بارے میں زیادہ سوچنے پر مجبور کیا اور میں صرف اتنی دعا کرتا ہوں کہ اللّٰہ مجھے پُرسکون موت عطاء فرمائے۔
عطاء اللّٰہ خان عیسیٰ خیلوی کے اس بیان پر سوشل میڈیا صارفین کی مختلف آراء سامنے آئی ہیں۔