ریو ڈی جنیرو :  چین کے  وزیر اعظم لی چھیانگ نے ریو ڈی جنیرو میں 17 ویں برکس سربراہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت دنیا ایک صدی کی تیز  تبدیلیوں سے گزر رہی ہے اور بین الاقوامی قوانین اور نظم و نسق کو سنگین چیلنجز کا سامنا ہے۔چینی صدر شی جن پھنگ کی جانب سے پیش کردہ  وسیع مشاورت، مشترکہ تعمیر اور اشتراک پر مبنی عالمی حکمرانی کے تصور نے اس کی قدر اور عملی اہمیت  مزید  واضح کی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ برکس ممالک کو  گلوبل ساؤتھ کے “صف اول” دستے کی حیثیت سے خودمختاری  کی پاسداری کرتے ہوئے  ذمہ داریوں کا مظاہرہ کرنا  ہوگا اور اتفاق رائے پیدا کرنے اوریکجہتی حاصل کرنے میں مزید کوششیں کرنی ہوں گی۔ان کا کہنا تھا کہ ترقی پر توجہ مرکوز کرنا اور ابھرتے ہوئے شعبوں کے ترقیاتی امکانات کو بروئے کار لانا ضروری ہے۔اس سلسلے میں رواں سال چین چین-برکس نیو کوالٹی پروڈکٹویٹی ریسرچ سینٹر اور نئی صنعتوں کے لئے برکس “سنہری بگلا” ایکسیلینس اسکالرشپ قائم کرے گا تاکہ برکس ممالک کو صنعت اور ٹیلی مواصلات  سمیت دیگر شعبوں میں باصلاحیت افراد کی تربیت میں مدد ملے۔چینی وزیر اعظم  نے کہا کہ چین برکس ممالک کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لئے تیار ہے تاکہ عالمی حکمرانی کو زیادہ منصفانہ ، معقول ، موثر اور منظم سمت میں فروغ دیا جاسکے۔

Post Views: 4.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

پڑھیں:

جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی

تہران:

ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ممکنہ نئی فوجی کارروائی کے اشاروں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی غیر ذمہ دارانہ عسکری اقدام کے نتائج امریکا کے لیے انتہائی مہنگے ثابت ہوں گے۔

 

ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ امریکی انتظامیہ کے بعض بااثر حلقے زمینی حقائق کو نظر انداز کر رہے ہیں اور ان کی توجہ خطے کی موجودہ صورتحال کے بجائے 2028 کے صدارتی انتخابات پر مرکوز دکھائی دیتی ہے۔

مزید پڑھیں

مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، یو این سیکریٹری جنرل

انہوں نے کہا کہ واشنگٹن میں موجود کچھ عناصر حقیقت پسندانہ انداز میں حالات کا جائزہ لینے کے بجائے ایسے فیصلوں کی حمایت کر رہے ہیں جو خطے میں مزید کشیدگی کو جنم دے سکتے ہیں۔

ان کے بقول اگر امریکہ نے جذباتی یا غیر دانشمندانہ جارحیت کا راستہ اختیار کیا تو اس کی سیاسی اور سفارتی قیمت صدر ٹرمپ کو خود ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔

عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ طاقت کے استعمال یا دھمکیوں سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ اس سے خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ اور خطرناک ہو جائے گی۔

متعلقہ مضامین

  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
  • جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت
  • وزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا