کراچی:

سندھ حکومت نے کراچی میں مخدوش قرار دی گئی عمارتوں کو گرانے کا فیصلہ ہے، سانحہ لیاری پر ایس بی سی اے کے سربراہ کو معطل کردیا گیا جبکہ جاں بحق افراد کو فی کس 10 لاکھ روپے دیے جائیں گے۔

یہ وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن، وزیر بلدیات سعید غنی اور وزیر داخلہ ضیاءالنجار نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی۔

شرجیل میمن نے کہا کہ لیاری میں عمارت گرنے سے 27 معصوم جانوں کا نقصان ہوا، ہم سب غمزدہ ہیں، وزیر اعلی ہاؤس میں آج اہم اجلاس ہوا جس میں وزیراعلی سندھ نے بہت سخت نوٹس لیا اور ہدایت دی ہے کہ جن کی کوتاہی ہے ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ 

وزیر اطلاعات نے بتایا کہ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے عملے کو وزیر بلدیات نے پہلے ہی معطل کردیا تھا، آج ڈی جی ایس بی سی اے کو معطل کیا گیا ہے، آج کمیٹی کا دائرہ بڑھا کر کمشنر کو شامل کیا گیا ہے، کنٹونمنٹ بورڈز کے اپنے قوانین موجود ہیں، سندھ حکومت کے اپنے قوانین ہیں، سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کسی میئر کے انڈر نہیں آسکتی۔

انہوں نے کہا کہ اس بلڈنگ کو نجی لوگوں نے تعمیر کروایا، کچی آبادیوں کو دیکھ رہے ہیں، 
سندھ میں 744 عمارات ہیں جن میں تھوڑا بہت کام کرنے کی ضرورت ہے، لوگوں کو منتقل کرنے میں کوئی مسئلہ نہیں ہے، ہم نے  کورونا اور سیلاب متاثرین کے لیے بھی بندوبست کیا تھا۔

وزیر بلدیات سعید غنی نے کہا کہ میں نے ان افسران کو معطل کیا تھا جو اس علاقے میں تعینات تھے، 2022ء سے لے کر اب تک جتنے بھی افسران رہے ہیں ان افسران کو انکوائری کا حصہ بنایا جائے گا، مقدمہ درج کروانے کا بھی فیصلہ کیا ہے جس افسر کی بھی لاپروائی ظاہر ہوئی اسے مقدمے میں ڈالیں گے، آج کمشنر کراچی کی سربراہی میں ایک اور کمیٹی بنائی ہے، کراچی میں مزید کتنی عمارتیں مخدوش ہیں کمشنر کو ذمہ داری دی ہے کہ چیک کریں۔

سعید غنی کا کہنا تھا کہ ان عمارتوں میں کتنے لوگ مقیم ہیں، ان کو ری ہیبلیٹیشین کیسے کی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ لیاری میں عمارت گرنے سے جاں بحق افراد کو دس لاکھ روپے فراہم کیے جائیں گے، اگر ڈی جی ایس بی سی اے کی بھی کوئی لاپروائی سامنے آئے تو ان کا نام بھی ایف آئی آر میں شامل کیا جائے گا، دوہزار بائیس میں بھی یہی ڈی جی تھے۔ 

سعید غنی نے کہا کہ کراچی میں اس وقت 586 مخدوش عمارتیں ہیں، لوگوں کو مخدوش عمارتوں سے نکالنا بھی ضروری ہوتا ہے، غیرقانونی تعمیرات کے خلاف سخت قانون لا رہے ہیں، جو لوگ غیرقانونی عمارتیں بناتے ہیں ان کے خلاف قانونی کارروائی کیسے ہو؟ اس پر غور کر رہے ہیں، ایس بی سی اے کے قانون میں ترامیم کے لیے دو ہفتے کا وقت دیا گیا ہے، آگے چل کر اگر کمیٹی کسی قانونی کارروائی کی سفارش کرتی ہے تو ہم اس پر بھی عمل کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم نے کمشنر کو ذمہ داری دی ہے کہ چیک کریں مالک مکان، کرائے دار اور پگڑی والے سسٹم پر کون کون رہ رہا ہے، میں اتفاق کرتا ہوں کہ کراچی میں غیرقانونی تعمیرات ہورہی ہیں، ایس بی سی اے کی ذمہ داری ہے کہ وہ غیرقانونی تعمیرات کو روکے 
 مگر ایس بی سی اے کے فنانشل اسٹیک ہیں اس لیے نہیں روکتی، ہم قانون پر کام کر رہے ہیں کہ عمارتوں کو توڑنے کا عمل ایس بی سی اے کو دیں یا کسی نجی ادارے کو۔

وزیر داخلہ سندھ ضیاءالنجار نے کہا کہ ہم دیکھیں کہ کون افسران ملوث ہیں ان کے خلاف سخت کارروائی ہوگی، حکومت اس معاملے پر بہت سنجیدہ ہے،  قیمتی جانوں کا ضیاع ہوا ہے، مجرمانہ غفلت کرنے والوں کو بہت جلد گرفتار کریں گے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ایس بی سی اے کراچی میں نے کہا کہ کے خلاف رہے ہیں

پڑھیں:

جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن مقرر

سٹی 42: سندھ حکومت نے جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر کو سندھ انسانی حقوق کمیشن کا چیئرپرسن مقرر کر دیا ہے، ان کی تعیناتی سندھ کابینہ کی منظوری کے بعد عمل میں لائی گئی۔

 محکمہ انسانی حقوق کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق جسٹس (ر) مقبول باقر کو پانچ سال کی مدت کے لیے کمیشن کا چیئرپرسن مقرر کیا گیا ہے۔

 واضح رہے کہ سابق چیئرپرسن اقبال احمد ڈیتھو کو عہدے سے فارغ کیے جانے کے بعد سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن کا منصب خالی تھا۔ حکومتی ذرائع کے مطابق نئی تقرری سے کمیشن کی سرگرمیوں کو مزید مؤثر بنانے اور انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے ادارہ جاتی اقدامات کو تقویت ملنے کی توقع ہے۔

پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل

جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سابق نگران وزیر اعلی سندھ بھی رہے۔ 

متعلقہ مضامین

  • کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہوسکا، شہری رُل گئے
  • سندھ، پنجاب اور کے پی کے مختلف شہروں میں بارش اور مٹی کا طوفان
  • کراچی میں شہریوں کی رہنمائی کیلیے روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ قائم کرنے کرنا کا فیصلہ
  • جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن مقرر
  • صدر مملکت ، وزیر اعظم وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ سندھ  کا بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز پر سیکورٹی فورسز کی ستائش 
  • شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
  • کراچی، محسن نقوی کا صفورا میں واقع نادرا میگا سینٹر کا اچانک دورہ
  • سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
  • کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہو سکا
  • میئر ظہران ممدانی نے نیویارک میں بچوں کا بیڈ ٹائم کیوں معطل کردیا؟