اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)  حکومت نے  ملک  بھر  میں   بجلی سے  چلنے  والے  پنکھوں کی تبدیلی کا پروگرام شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس مطابق موجودہ  پنکھوں کو کم بجلی سے چلنے والوں پنکھوں سے تبدیل کیا جائےگا۔وفاقی وزارت  خزانہ کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق وزیر خزانہ کی زیر صدارت وزیراعظم کے پنکھوں کی تبدیلی کے پروگرام پر اجلاس میں وفاقی وزیر توانائی اویس احمد لغاری اور گورنر اسٹیٹ بینک نے شرکت کی ۔

اجلاس کا مقصد پنکھا تبدیلی پروگرام کی تیاری اور جلد آغاز کے حوالے سے پیشرفت کا جائزہ لینا  تھا۔ اجلاس میں اسٹیک ہولڈرز  نے پروگرام کی عملی تیاری  اور متوقع شیڈول سے متعلق بریفنگ دی،  پیشگی شرائط کی تکمیل اور  بینکنگ سسٹمز کے انضمام پر بھی بریفنگ دی گئی۔سینیٹر محمد اورنگ زیب نے کہا کہ یہ  پروگرام توانائی بچت اور اقتصادی استحکام میں اہم کردار ادا کرے گا  اور صارفین کے طرز عمل میں مثبت تبدیلی لائےگا، پروگرام بجلی کے استعمال میں کمی اور  وسیع اقتصادی فوائد کا ذریعہ بھی بنےگا۔وزیر خزانہ نے اس سلسلے میں تمام ضروری اقدامات آئندہ دو سے تین ہفتوں میں مکمل کرنے کی ہدایت کی تاکہ رواں ماہ کے آخر تک پروگرام کے پہلے مرحلےکا  آغاز  ممکن بنایا جائے۔

چاہت فتح علی خان نے میوزک اور ایکٹنگ اکیڈمی کھولنے کا دعو یٰ کردیا

مزید :.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Pakistan

پڑھیں:

مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔

یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔

دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔

راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔

انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔

واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • حکومت کا فوری طور پر 10 لاکھ ٹن گندم درآمد کرنے کا فیصلہ
  • وفاقی حکومت کا فوری طور پر گندم درآمد کرنے کا فیصلہ
  • وفاقی حکومت کا 10 لاکھ ٹن گندم درآمد کرنے کا فیصلہ 
  • فیفا ورلڈکپ: ٹرمپ کی مداخلت پر فیصلہ تبدیل، ناروے کا فیفا کیخلاف بڑا اقدام اٹھانے کا فیصلہ
  • وفاقی آئینی عدالت، سہیل آفریدی کیخلاف درخواستیں سماعت کیلئے مقرر
  • سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • بالآخر بنگلہ دیش کے صدر محمد شہاب الدین نے بھی مستعفی ہونے کا فیصلہ کرلیا
  • حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان