data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

اسلام آباد: سینیٹ میں مسلم لیگ (ن) کے پارلیمانی لیڈر سینیٹر عرفان صدیقی کاکہنا ہے کہ صدر مملکت آصف علی زرداری کی تبدیلی سے متعلق نہ حکومت میں اور نہ ہی کسی اور سطح پر کوئی تجویز زیر غور ہے، صدر زرداری ریاست کے آئینی سربراہ کے طور پر اپنا کردار بخوبی ادا کر رہے ہیں۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینیٹر عرفان صدیقی نے سابق وزیراعظم نواز شریف کی اڈیالہ جیل جا کر تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی سے ملاقات کی خبروں کو سراسر من گھڑت، بے بنیاد اور بے سروپا قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسی افواہیں محض میڈیا میں سنسنی پھیلانے اور غیر سنجیدہ چسکوں کی تسکین کے لیے گھڑی جاتی ہیں۔

عرفان صدیقی نے کہا کہ پی ٹی آئی اور اس کے بانی کی سیاست کے زوال کے بعد میڈیا موضوعات کے قحط کا شکار ہو چکا ہے، یہی وجہ ہے کہ اب غیر مصدقہ اور افواہ پر مبنی خبروں کا سہارا لیا جا رہا ہے۔

انہوں نے مزید کہاکہ   پیپلز پارٹی حکومت کی اتحادی جماعت ضرور ہے، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ دونوں جماعتیں ہر معاملے میں مکمل اتفاق رکھتی ہوں۔ جمہوری نظام میں اختلافِ رائے فطری اور صحت مند علامت ہے۔

سینیٹر عرفان صدیقی نے چوہدری نثار علی خان کی مسلم لیگ (ن) میں واپسی سے متعلق بھی قیاس آرائیوں کو رد کرتے ہوئے کہا کہ اس حوالے سے کوئی تجویز یا بات چیت پارٹی میں زیر غور نہیں ہے، ملک میں عام انتخابات اپنی آئینی مدت کی تکمیل پر ہی منعقد ہوں گے اور کسی بھی قبل از وقت انتخاب کی کوئی تجویز فی الحال موجود نہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: عرفان صدیقی کوئی تجویز

پڑھیں:

گلگت بلتستان کی سڑکوں کی خستہ حالی دیکھ کر شدید دکھ ہوا، نواز شریف

ایک بیان میں قائد نون لیگ کا کہنا تھا کہ ووٹ ملے یا نہ ملے، ہم آپ کو محروم نہیں رکھیں گے۔ آپ ووٹ دیں یا نہ دیں ہم پھر بھی آپ کی خدمت کریں گے اور ترقیاتی کام مکمل کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ نون لیگ کے قائد میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ ہم نے گلگت سے سکردو کا 9 گھنٹے کا سفر 3 گھنٹے میں بدل کر عوام کے 6 گھنٹے بچائے ہیں۔ 70 سال سے لٹکے منصوبے ہم نے اربوں روپے لگا کر مکمل کیے۔ ہمیں یہ منظور نہیں کہ یہاں 20، 22 گھنٹے لوڈشیڈنگ ہو۔ ووٹ ملے یا نہ ملے، ہم آپ کو محروم نہیں رکھیں گے۔ آپ ووٹ دیں یا نہ دیں ہم پھر بھی آپ کی خدمت کریں گے اور ترقیاتی کام مکمل کریں گے۔ ایک بیان میں میاں نواز شریف کا کہنا تھا کہ میں شہباز شریف اور مریم کو بھی کہوں گا کہ وہ دونوں یہاں آئیں اور اگر اللہ کے فضل و کرم سے ہماری حکومت آتی ہے، تو میں خود ہر دوسرے تیسرے مہینے یہاں آکر شروع کیے گئے ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل اور نگرانی اپنی دیکھ بھال میں مکمل کرواؤں گا۔ یہاں دیس نکالے کی باتیں کرنے والے یاد رکھیں کہ 2017ء میں این ایف سی کمیٹی نواز شریف نے ہی بنائی تھی تاکہ اس مسئلے کا مستقل حل نکل سکے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ گلگت، سکردو، بلتستان اور ہنزہ سمیت پورے خطے کے عوام سے مخاطب ہوں۔ اللہ کے فضل و کرم سے اور شہباز شریف سے بات کر کے اس شاہراہ کو پورا خنجراب تک پہنچائیں گے۔ پاک چائنا ٹریڈنگ کے اس منصوبے سے یہاں ایسی خوشحالی آئے گی کہ آپ کو گھر بیٹھے روزگار اور اخراجات ملیں گے اور پورا خطہ بدل جائے گا۔ آج گلگت بلتستان کی سڑکوں کی خستہ حالی دیکھ کر شدید دکھ ہوا، وہ گلگت کہاں ہے جسے میں جانتا تھا؟ ہم نے مانسہرہ سے تھاکوٹ تک بہترین سڑک بنائی جسے خنجراب تک جانا تھا مگر اسے نظر انداز کر دیا گیا۔ ہم کسی کی برائی کرنے نہیں بلکہ ہمیشہ اپنی کارکردگی کی بنیاد پر ووٹ مانگتے ہیں۔ یہاں کے عوام بے تحاشہ ترقی اور روزگار کے حقدار ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • سپریم کورٹ نے نشے کی حالت کو بنیاد بناکر مجرم کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی درخواست مسترد کر دی
  • نواز شریف این او سی لے کر گلگت بلتستان گئے، راناثنا
  • گلگت بلتستان کی سڑکوں کی خستہ حالی دیکھ کر شدید دکھ ہوا، نواز شریف
  • اڈیالہ جیل، بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی 40 منٹ طویل ملاقات
  • بانی پی ٹی آئی کی بشریٰ بی بی سے ہفتہ وار ملاقات کرادی گئی
  • اڈیالہ جیل میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ملاقات
  • ووٹ ملے نہ ملے گلگت بلتستان میں سہولیات فراہم کروں گا: نواز شریف
  • نواز شریف گلگت بلتستان روانہ، انتخابی مہم میں حصہ لیں گے
  • صدرمسلم لیگ (ن) نواز شریف کل گلگت بلتستان کا ایک روزہ دورہ کریں گے
  • گلگت بلتستان سی پیک کا مرکز ہے: نواز شریف