سندھ میں کم از کم اجرت 40 ہزار اوروفاقی پنشن میں 7 فیصد اضافے کا نوٹیفکیشن جاری
اشاعت کی تاریخ: 8th, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی/ اسلام آباد (آن لائن+ مانیٹرنگ ڈیسک) سندھ حکومت نے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے مقرر کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے جبکہ وفاق کے ریٹائرڈ ملازمین کے لیے پنشن میں 7 فیصد اضافے کا نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا گیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق سندھ حکومت کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق نیم ہنر مند افراد کے لیے کم از کم اجرت 41 ہزار 280 اور ہنر مندوں کے لیے 48 ہزار 910 روپے مختص کی گئی ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق اعلیٰ ہنر مند محنت کشوں کے لیے 50 ہزار 868 روپے ماہانہ کم از کم اجرت مختص کی گئی ہے۔ سیکرٹری کم از کم اجرت بورڈ رفیق قریشی نے کہا کہ کم از کم اجرت میں اضافہ سندھ منیمم ویجز ایکٹ 2015 کے تحت کیا گیا، اعتراضات یا تجاویز 14 دن کے اندر کم از کم اجرت بورڈسندھ کو ارسال کی جا سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کم از کم اجرت میں اضافہ یکم جولائی 2025 سے نافذ العمل ہوگیا، مزدوروں کی اجرت میں 8.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: نوٹیفکیشن کے مطابق نوٹیفکیشن جاری پنشن میں 7 فیصد یکم جولائی 2025 کا نوٹیفکیشن فیصد اضافے کے لیے کے تحت
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔