سیلاب سے متاثرہ علاقوں کے کسانوں کی سنی گئی
اشاعت کی تاریخ: 9th, July 2025 GMT
سٹی 42 : سندھ حکومت نے سیلاب سے متاثرہ کسانوں کے لیے امدادی فنڈز میں اضافہ کردیا، سندھ کابینہ نے 2022 کے تباہ کن سیلاب سے متاثرہ کسانوں کے لیے فنڈز میں اضافہ کیا ہے۔ اس حوالے سے شرجیل میمن نے کہا کہ نقصان کا معاوضہ، بیچوں کی فراہمی، متاثرہ زمینوں کی بحالی کے لیے مالی مدد شامل ہے، امدادی فنڈز میں اضافہ سندھ فلڈری ہیبلٹیشن پروگرام کا حصہ ہے۔
سینئر وزیر شرجیل میمن نے اپنے بیان میں کہا کہ صوبائی کابینہ نے سکھر اور حیدرآباد میں نئے صنعتی زونز کی منظوری دے دی ہے، صنعتی زونز پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت قائم کیے جائیں گے، حیدرآباد میں 951 ایکڑ اراضی سندھ اکنامک زونز مینجمنٹ کمپنی کو منتقل کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ منصوبے سے صوبے میں 55 ہزار سے زائد روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے، منصوبے سے معیشت کو ایک نئی جہت ملے گی، سندھ کابینہ نے کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن کے لیے 10.
لاہور میں 229 ٹریفک حادثات؛ 280 افراد زخمی
شرجیل میمن نے کہا کہ ہاری کارڈ سے زرعی لاگت پرسبسڈی، نرم قرضے، آفات سے بچاؤ کے لیے مالی مدد کی جائیگی، اب تک 2 لاکھ 37 ہزار سے زائد کسان رجسٹرڈ ہو چکے ہیں ، 88871 درخواستوں کی تصدیق بھی مکمل کرلی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ منصوبے کے تحت ڈملوٹی سے ڈی ایچ اے تک 36 کلو میٹر طویل پائپ لائن بچھائی جائے گی، ڈی ایچ اے کو یومیہ 15 ایم جی ڈی پانی کی ضرورت ہے جبکہ صرف 5 ایم جی ڈی دیا جارہا ہے منصوبے میں پمپنگ اسٹیشن، فلٹریشن پلانٹ ،ریزر وائر شامل ہوں گے۔
موٹر سائیکل اور گاڑیوں کی ٹرانسفر فیس میں 10 فیصد اضافہ
انہوں نے مزید کہا کہ سندھ کابینہ نے سندھ بینک کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کی منظوری دے دی ہے، 11 ماہ میں مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: کابینہ نے نے کہا کہ کے لیے
پڑھیں:
بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 17دہشتگرد ہلاک
فائل فوٹو۔بلوچستان کے مختلف علاقوں میں انٹیلی جنس کی بنیاد پر آپریشنز کے دوران بھارتی حمایت یافتہ فتنہ الخوارج کے 17دہشت گرد ہلاک کر دیے گئے۔
مسلح افواج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے یہ آپریشنز 24 مئی کے ٹرین واقعہ کے بعد کیے، جو مستونگ، نوشکی، زہری، خضدار اور کیچ کے اضلاع میں کیے گئے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق دہشت گردوں کی ہلاکت سے ان علاقوں میں دہشت گرد نیٹ ورکس کو بہت زیادہ نقصان ہوا، ہلاک دہشت گردوں کے قبضے سے اسلحہ، بڑی مقدار میں بارودی مواد اور آئی ای ڈیز برآمد کیے گئے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق یہ دہشت گرد علاقے میں متعدد دہشت گرد کارروائیوں میں ملوث رہے تھے۔ ان علاقوں میں کلیئرنس آپریشنز جاری ہیں۔
آئی ایس پی آر کے مطابق سیکیورٹی اداروں کی ملک گیر انسدادِ دہشت گردی مہم بھرپور انداز میں جاری رہے گی اور ملک سے بیرونی حمایت یافتہ دہشت گردی کے خطرے کا مکمل خاتمہ کیا جائے گا۔