کوریا(نیوز ڈیسک)جنوبی کوریا کے سابق صدر یون سُک یول کو جمعرات کے روز دوبارہ گرفتار کرکے جیل کے ایک تنہا سیل میں منتقل کر دیا گیا ہے، جہاں انہیں بنیادی کھانا اور خاکی رنگ کی جیل کی وردی دی گئی ہے، پراسیکیوٹرز نے ان کے خلاف مارشل لا نافذ کرنے کی کوشش کے مقدمے میں نیا وارنٹ حاصل کر لیا تھا۔

برطانوی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق سیئول سینٹرل ڈسٹرکٹ کورٹ نے نئے وارنٹ کی منظوری دیتے ہوئے کہا کہ یون شواہد مٹا سکتے ہیں، اس لیے انہیں دوبارہ حراست میں لینا ضروری ہے، یون اس سے قبل 52 دن جیل میں گزار چکے ہیں، اور 4 ماہ قبل تکنیکی بنیادوں پر رہا ہوئے تھے۔

4 ماہ قبل رہائی کے بعد وہ اپنی بیوی اور 11 پالتو جانوروں کے ساتھ سیئول کے پوش علاقے میں اپارٹمنٹ میں منتقل ہو گئے تھے، ایک سرکاری فائلنگ کے مطابق جوڑے کی دولت کا اندازہ 7.

5 ارب وان (تقریباً 5.47 ملین امریکی ڈالر) لگایا گیا ہے۔

لیکن اب یون کو 10 مربع میٹر کے تنہائی والے سیل میں رکھا گیا ہے، جہاں انہیں خاکی وردی پہننا ہوگی اور فرش پر بچھائی گئی فولڈنگ چٹائی پر بغیر اے سی کے سونا ہوگا، انہیں ایک چھوٹا الیکٹرک فین فراہم کیا گیا ہے، جو رات کو بند ہو جاتا ہے، یہ تفصیلات ایک جیل اہلکار اور میڈیا رپورٹس کے مطابق سامنے آئی ہیں۔

ایک اور اہلکار نے بتایا کہ جمعرات کے روز جیل کے ناشتے میں قیدیوں کو اُبلے ہوئے آلو اور منی چیز بریڈ دی گئی۔

یون پر مارشل لا کے حکم نامے کے تحت بغاوت کا مقدمہ درج ہے، جس میں عمر قید یا سزائے موت کی سزا ہو سکتی ہے۔

یون عدالت میں پیش نہیں ہوئے
یونہاپ نیوز ایجنسی کے مطابق جیل جانے کے چند گھنٹوں بعد، ان کے خلاف بغاوت کے مقدمے کی سماعت جمعرات کی صبح ہوئی، لیکن یون حاضر نہیں ہوئے، ان کے وکلا نے عدالت کو بتایا کہ وہ صحت کے مسائل کے باعث سماعت میں شریک نہیں ہو سکتے۔

اپریل میں آئینی عدالت نے پارلیمنٹ کی طرف سے کیے گئے مواخذے کو برقرار رکھتے ہوئے یون کو صدارت سے برطرف کر دیا تھا، جس کے بعد ملک میں مہینوں سیاسی ہلچل جاری رہی تھی۔

جون میں نئے صدر لی جے میونگ کے منتخب ہونے کے بعد ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی گئی، جس نے یون کے خلاف مزید الزامات کی چھان بین شروع کر دی ہے۔

200 سے زائد پراسیکیوٹرز اور تفتیش کاروں پر مشتمل خصوصی ٹیم اب تحقیقات کو تیز کر رہی ہے، خاص طور پر اس بات پر کہ آیا یون نے جان بوجھ کر شمالی کوریا کے ساتھ کشیدگی بڑھا کر ملک کے مفادات کو نقصان پہنچایا تھا؟۔

انکوائری ٹیم کی نائب سربراہ پارک جی یونگ نے صحافیوں کو بتایا کہ تحقیقاتی ٹیم نے جمعہ کو یون سے پوچھ گچھ کرنے کا منصوبہ بنایا ہے، اور ان کی بیوی اور وکلا کو خطوط کے ذریعے حراست کی اطلاع دی گئی ہے۔

نیشنل اسمبلی کے اسپیکر وو وون شِک نے کہا کہ یون کی حراست سچ کو سامنے لانے اور جمہوریت کی بحالی میں مدد دے گی، انہوں نے فیس بک پر لکھا کہ ’قانون سے کوئی بالاتر نہیں ہے‘۔

بدھ کو حراستی وارنٹ پر ہونے والی سماعت کے دوران یون نے نیوی بلیو سوٹ اور سرخ ٹائی پہن رکھی تھی، لیکن صحافیوں کے سوالات کے جوابات نہیں دیے۔

ان کے وکلاء نے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے گرفتاری کو جلدبازی قرار دیا ہے۔

مقامی میڈیا کے مطابق، بدھ کے روز عدالت کے باہر ایک ہزار سے زائد حامیوں نے یون کے حق میں نعرے لگائے، پرچم اور پوسٹر لہراتے ہوئے 35 ڈگری سینٹی گریڈ کی شدید گرمی میں احتجاج کیا۔

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: کے مطابق گیا ہے

پڑھیں:

مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا میں امن کی بنیاد، دہشتگردی عالمی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ: اسحاق ڈار

اسلام آباد، منیلا (خبر نگار خصوصی) نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان علاقائی امن، استحکام اور تعاون کے فروغ کے لیے آسیان ریجنل فورم کے ذریعے اپنا کردار ادا کرنے کے لیے پْرعزم ہے۔ اسحاق ڈار نے 33  ویں آسیان ریجنل فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ  عالمی اور علاقائی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مؤثر کثیرالجہتی تعاون ناگزیر ہے۔ جموں و کشمیر کے تنازعے کا منصفانہ حل ہی جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کی بنیاد ہے۔ پاکستان مسئلہ کشمیر کے پرامن اور منصفانہ حل کی حمایت جاری رکھے گا، جبکہ عالمی برادری کو حل کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ اسحاق ڈار نے بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی معطلی کو تشویشناک اور اشتعال انگیز اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ معاہدے سے متعلق یکطرفہ اقدامات 25 کروڑ پاکستانیوں کے مفادات کو متاثر کر سکتے ہیں۔ غزہ کی انسانی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان فلسطینی عوام کے حق خودارادیت کی غیر متزلزل حمایت جاری رکھے گا۔ پاکستان 1967ء سے پہلے کی سرحدوں پر مشتمل آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کا حامی ہے۔انہوں نے دہشتگردی کو عالمی امن و سلامتی کے لیے سنگین خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان دہشتگردی کے خلاف جنگ میں 90 ہزار سے زائد جانوں کی قربانیاں دے چکا ہے اور ہر قسم کی دہشتگردی کے خلاف اپنی جدوجہد جاری رکھے گا۔ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف دہشتگردی کے لیے استعمال نہیں ہونی چاہیے، جبکہ افغانستان میں امن سے علاقائی تجارت، روابط اور ترقی کو فروغ ملے گا۔ نائب وزیراعظم نے جنوبی بحیرہ چین کے تنازعات کے پرامن حل کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ایک چین پالیسی کی مکمل حمایت جاری رکھے گا۔ انہوں نے موسمیاتی تبدیلی کو ترقی پذیر ممالک کے لیے بڑا چیلنج قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے نمٹنے کے لیے عالمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔ دوسری جانب نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ و سینیٹر اسحاق ڈار نے عمان ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق فلپائن میں آسیان ریجنل فورم کی سائیڈ لائنز پر ملاقات ہوئی، دونوں رہنمائوں نے دوطرفہ تعاون کی مثبت پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا۔ملاقات کے دوران اعلیٰ سطح تبادلوں، تجارت و سرمایہ کاری کے فروغ کو مزید مستحکم بنانے پر اتفاق کیا گیا۔ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے فلپائن میں مختلف ملکوں کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں کیں۔ وزرائے خارجہ نے امریکہ ایران کے درمیان ثالثی پر پاکستان کے کردار کو سراہا اور مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے خاتمے کیلئے مذاکرات پر زور دیا، اسحاق ڈار نے برطانیہ کے سیکرٹری آف سٹیٹ برائے خارجہ سے ملاقات کی دونوں رہنماؤں نے پاک برطانیہ تعلقات کو مزید مضبوط  بنانے کے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا۔ ملاقات میں خطے  کی سکیورٹی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اسحاق ڈار نے نیوزی لینڈ کے وزیر خارجہ ونٹسن پیٹرز سے ملاقات کی۔ دونوں ملکوں نے تجارت، سرمایہ کاری اور کھیل کے شعبے میں تعاون پراتفاق کیا۔ ملاقات میں خطے اور عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اسحاق ڈار نے آسٹریلیا کے وزیر خارجہ سے بھی ملاقات کی جس میں مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار آسیان ریجنل فورم میں شرکت کے بعد کرغزستان روانہ ہو گئے۔ ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق اسحاق ڈار ایس سی او وزرائے خارجہ کونسل کے اجلاس میں شرکت کریں گے۔ اجلاس 23 اور 24 جولائی کو ہوگا، اسحاق ڈار اجلاس کے موقع پر رکن ملکوں کے وزرائے خارجہ سے دو طرفہ ملاقاتیں کریں گے۔؎

متعلقہ مضامین

  • فیلڈ مارشل عاصم منیر پھر مرکز نگاہ
  • حساس معلومات لیک ہونے کا معاملہ، جے ڈی وینس کے قریبی سکیورٹی اہلکار کے خلاف تحقیقات
  • پیٹرول مہنگا، کیا دفتروں کے لیے ہفتہ دوبارہ 3 یا 4 روز پر مشتمل ہوسکتا ہے؟
  • گل پلازہ انکوائری رپورٹ منظرِ عام پر نہ لانے کا فیصلہ، شفافیت اور تفتیشی عمل پر نئی بحث
  • سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • میٹھے پر سجاوٹ کیلئے چیونٹیوں کا استعمال ریسٹورنٹ مالک کو مہنگا پڑگیا
  • کراچی، رینجرز اور ایس آئی یولیس کے ساتھ مقابلے میں 3 بھتہ خور ہلاک، ایک زخمی گرفتار
  • مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا میں امن کی بنیاد، دہشتگردی عالمی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ: اسحاق ڈار
  • کراچی میں شوہر کے ساتھ موٹرسائیکل چوری کی درجنوں وارداتوں میں ملوث ملزمہ گرفتار
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر