حفیظ سینٹر میں لگنے والی آگ پر قابو پالیا گیا، عمارت میں کولنگ کا عمل جاری
اشاعت کی تاریخ: 10th, July 2025 GMT
لاہور(اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔10جولائی 2025)لاہور کے علاقے گلبرگ میں واقع حفیظ سینٹر میں لگنے والی آگ پر قابو پا لیا گیا، حفیظ سنٹرمیں آتشزدگی کا واقعہ کے بعد عمارت میں کولنگ کا عمل جاری ہے، حفیظ سنٹر پلازہ میں داخلی دروازوں پر پولیس اہلکار تعینات کر دئیے گئے،تہہ خانہ میں متاثرہ دکانوں کے تاجران اپنا مال نکال رہے ہیں، فائر بریگیڈ اور ریسکیو ٹیموں نے ایک گھنٹے کے آپریشن کے بعد آگ پر قابو پا لیا۔
ریسکیو کے مطابق آپریشن میں 25 فائر گاڑیوں اور دو اسنارکلز کا استعال کیا گیا تاہم کسی قسم کا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ سینئررہنماشیخ فیاض کا کہنا ہے کہ تہہ خانے میں کسی دکان کو آگ سے نقصان نہیں پہنچا ہے۔دھویں سے کمپیوٹرز لیب ٹاپ اور فون متاثر ہوئے ہیں۔(جاری ہے)
دوسری جانب پولیس نے حفیظ سنٹر کے تاجران کو بھی اندر جانے سے روک دیاہے۔ دکانداروں نے شکوہ کیا کہ ہمیں اندرکیوں جانے سے روکاجارہاہے؟ اندرجائیں گے توسامان کے نقصان کاجائزہ لے سکیں گے۔
متعلقہ یونین کے عہدیداران موقع سے غائب ہیں۔گلبرگ کے علاقے میں واقع لاہور کے مصروف ترین تجارتی مراکز میں سے ایک حفیظ سینٹر کے تہہ خانے میں آگ بھڑک اٹھی۔ ریسکیو 1122 حکام کے مطابق آگ تہہ خانے میں لگی اور تیزی سے دھواں پوری کثیر عمارت میں پھیل گیا جس میں الیکٹرانکس کی سینکڑوں دکانیں اور دفاتر موجود تھے۔ اگرچہ اس واقعے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی تاہم اس واقعے نے ایک بار پھر شہر بھر کی کمرشل عمارتوں میں فائر سیفٹی کے اقدامات کے حوالے سے سنگین خدشات کو جنم دیا۔واضح رہے کہ اس سے قبل صوبائی دارالحکومت لاہور میں واقع حفیظ سینٹر میں آتشزدگی کا واقعہ ہوا تھا۔ابتدائی اطلاعات کے مطابق آگ کے باعث کسی جانی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی تھی۔واقعہ کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو اور فائربریگیڈ کی گاڑیاں جائے حادثہ پر پہنچ گئیں اور آگ بجھانے کا عمل شروع کر دیا تھا۔بتایا گیا تھا کہ گلبرگ کے معروف شاپنگ پلازہ حفیظ سنٹر میں اچانک دوپہر کے وقت آگ لگ گئی تھی۔ریسکیو حکام کے مطابق بیسمنٹ میں دھواں بھر گیا تھا۔ ریسکیو 1122 کی پانچ گاڑیاں جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں اور آگ بجھانے کا کام جاری تھا۔ فائرفائٹرز آگ پر قابو پانے میں مصروف تھے۔ ابھی تک کسی جانی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی تھی۔ریسکیو حکام کے مطابق امکان یہی لگ رہا تھا کہ آگ شارٹ سرکٹ کے باعث لگی تھی۔ٹریفک پولیس حکام نے بھی لبرٹی سے آنے والی ٹریفک کو ڈائیورشن لگا دی تھی اور شہریوں کو متاثرہ جگہ سے دو ر رہنے کی ہدایات جاری کر دی گئیں تھیں۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے حفیظ سینٹر کے مطابق کی اطلاع
پڑھیں:
شوگر ملز ایسوسی ایشن کا چینی برآمد کرنے کا مطالبہ، ماضی میں اس فیصلے سے کیا نقصان ہوا؟
پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن نے حکومت سے ایک بار پھر فاضل چینی کی فوری برآمد کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا ہے اور مؤقف اختیار کیا ہے کہ اضافی چینی بیرون ملک فروخت کرنے سے ملک کو قریباً 50 کروڑ ڈالر کا قیمتی زرمبادلہ حاصل ہو سکتا ہے۔
ماہرین اور صارفین کے حلقوں میں اس مطالبے پر تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے کیونکہ گزشتہ برس بھی چینی کی برآمد کی اجازت کے بعد ملک میں چینی کی قیمتوں میں 50 سے 60 روپے فی کلو کا نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا تھا۔
مزید پڑھیں: فاضل چینی برآمد کرنے کی اجازت دی جائے، ملک کو 50 کروڑ ڈالر زرمبادلہ مل سکتا ہے: شوگر ملز ایسوسی ایشن
پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن کے چیئرمین چوہدری ذکا اشرف نے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کو ارسال کیے گئے خط میں کہا ہے کہ 26-2025 کے کرشنگ سیزن کے اختتام پر ملک میں چینی کے مجموعی ذخائر 79 لاکھ میٹرک ٹن تک پہنچ گئے ہیں، جبکہ ملک کی سالانہ ضرورت قریباً 66 لاکھ میٹرک ٹن ہے، اس طرح ملک میں 13 لاکھ میٹرک ٹن چینی سرپلس موجود ہے۔
ایسوسی ایشن کے مطابق ایک ماہ کا تزویراتی ذخیرہ محفوظ رکھنے کے باوجود قریباً 7 لاکھ 60 ہزار میٹرک ٹن چینی اضافی رہے گی، جسے برآمد کرکے ملک کے لیے قیمتی زرمبادلہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔
خط میں کہا گیا ہے کہ فروخت نہ ہونے والے ذخائر کی وجہ سے شوگر ملوں کو شدید مالی دباؤ کا سامنا ہے جبکہ گنے کے کاشتکاروں کی ادائیگیوں اور بینک قرضوں کی واپسی میں بھی مشکلات پیدا ہو رہی ہیں۔
پی ایس ایم اے کا کہنا ہے کہ گزشتہ 2 برسوں کے دوران گنے کے کاشتکاروں کو بہتر نرخوں پر ادائیگی کی گئی جس کے باعث گنے کی کاشت اور فی ایکڑ پیداوار میں نمایاں اضافہ ہوا۔
ایسوسی ایشن نے دعویٰ کیا ہے کہ اگر موجودہ صورتحال برقرار رہی تو آئندہ سیزن میں مزید ریکارڈ گنے کی فصل پیدا ہونے کا امکان ہے جس کے نتیجے میں قریباً 20 لاکھ میٹرک ٹن اضافی چینی مارکیٹ میں آ سکتی ہے۔
دوسری جانب صارفین اور معاشی ماہرین شوگر ملز کے اس مؤقف کو تنقیدی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ گزشتہ مالی سال کے دوران بھی حکومت نے چینی برآمد کرنے کی اجازت دی تھی اور اس وقت حکومتی اور صنعتی حلقوں کی جانب سے یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ برآمدات سے مقامی مارکیٹ میں قیمتوں پر کوئی اثر نہیں پڑے گا اور چینی کی دستیابی برقرار رہے گی۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 25-2024 کے دوران 67 شوگر ملوں نے مجموعی طور پر 7 لاکھ 49 ہزار ٹن چینی برآمد کی جس سے قریباً 40 کروڑ ڈالر کا زرمبادلہ حاصل ہوا۔ تاہم برآمدات کے بعد ملک میں چینی کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
مارکیٹ ذرائع کے مطابق 2 ماہ قبل پرچون سطح پر چینی کی قیمت قریباً 140 روپے فی کلو تھی جبکہ تھوک مارکیٹ میں 50 کلوگرام کا تھیلا قریباً 6 ہزار 200 روپے میں فروخت ہو رہا تھا۔
موجودہ صورتحال میں پرچون قیمت 190 سے 200 روپے فی کلو تک پہنچ چکی ہے جبکہ 50 کلوگرام کے تھیلے کی قیمت بڑھ کر 9 ہزار 100 روپے تک جا پہنچی ہے۔
قیمتوں میں اس غیر معمولی اضافے کے بعد گزشتہ سال حکومت نے ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری کے خلاف کارروائیوں کا اعلان بھی کیا تھا۔
تاہم صارفین کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کے باوجود مارکیٹ میں چینی کی قیمتوں کو مؤثر طور پر کنٹرول نہیں کیا جا سکا۔
شوگر ملز ایسوسی ایشن کا مؤقف ہے کہ چینی کو ذخیرہ کرنے کی مدت قریباً 2 سال ہوتی ہے اور اگر گزشتہ سال 7 لاکھ 49 ہزار ٹن چینی برآمد نہ کی جاتی تو اس کے ضائع ہونے کا خدشہ تھا۔
تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ ایک جانب اضافی ذخائر کا دعویٰ کیا جاتا ہے جبکہ دوسری جانب برآمدات کے فوراً بعد مقامی مارکیٹ میں قیمتوں میں نمایاں اضافہ سامنے آ جاتا ہے، جس کی وجہ سے برآمدی پالیسی پر سوالات جنم لیتے ہیں۔
مزید پڑھیں: چینی کی قیمتوں میں اضافہ: کس شوگر مل کے پاس کتنی چینی اسٹاک ہے؟
اب جبکہ شوگر ملز ایسوسی ایشن نے ایک مرتبہ پھر چینی برآمد کرنے کی اجازت مانگی ہے، حکومت کو ایک ایسے فیصلے کا سامنا ہے جس میں ایک طرف زرمبادلہ کمانے کا امکان موجود ہے تو دوسری طرف عوام کو سستی چینی کی فراہمی اور قیمتوں کو قابو میں رکھنے کا چیلنج بھی درپیش ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر برآمدات کی اجازت دی جاتی ہے تو حکومت کو سخت نگرانی، شفاف اسٹاک آڈٹ اور قیمتوں کے مؤثر کنٹرول کے لیے جامع حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی تاکہ گزشتہ سال کی صورتحال دوبارہ پیدا نہ ہو۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں