عافیہ صدیقی کیس: وزیراعظم اور کابینہ کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کا امکان
اشاعت کی تاریخ: 11th, July 2025 GMT
اسلام آباد ہائی کورٹ میں ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی، صحت اور وطن واپسی سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران عدالت نے وفاقی حکومت کی عدم دلچسپی پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعظم اور پوری کابینہ کے خلاف توہینِ عدالت کی کارروائی کا عندیہ دے دیا ہے کیس کی سماعت جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے کی، جہاں ڈاکٹر فوزیہ صدیقی کی جانب سے وکیل عمران شفیق عدالت میں پیش ہوئے جب کہ وفاقی حکومت کی نمائندگی ایڈیشنل اٹارنی جنرل راشد حفیظ اور دیگر حکام نے کی عدالت نے دوران سماعت کہا کہ ڈاکٹر عافیہ کے کیس میں امریکی عدالت میں معاونت سے انکار کی وجوہات پر رپورٹ طلب کی گئی تھی، مگر اب تک رپورٹ جمع نہیں کرائی گئی۔ عدالت نے خبردار کیا کہ اگر وفاقی حکومت نے رپورٹ نہ دی تو پوری کابینہ کو طلب کیا جائے گا اور وزیرِاعظم سمیت تمام وزرا کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کی جائے گی جسٹس اعجاز اسحاق نے واضح انداز میں کہا کہ عدالت نہ صرف وفاقی وزرا بلکہ وزیراعظم کے خلاف بھی کارروائی کا مکمل اختیار رکھتی ہے۔ انہوں نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل کو حکم دیا کہ تین دن میں رپورٹ پیش کی جائے، جس پر سرکاری وکیل نے استدعا کی کہ اگلے ہفتے تک مہلت دی جائے۔ عدالت نے اس استدعا کو منظور کرتے ہوئے سماعت 21 جولائی تک ملتوی کر دی سماعت کے دوران ڈاکٹر فوزیہ صدیقی کے وکیل نے وزیراعظم اور کابینہ سے ملاقات کی درخواست پر بھی توجہ دلائی، جس پر عدالت نے استفسار کیا کہ فوزیہ صدیقی وزیراعظم سے مل کر کیا چاہتی ہیں؟ کیا وزیراعظم کو صورت حال کا علم نہیں؟ عدالت کے سخت ریمارکس سے واضح ہوتا ہے کہ اگر وفاقی حکومت آئندہ سماعت تک مطلوبہ رپورٹ پیش کرنے میں ناکام رہی تو ممکنہ طور پر عدالت اعلیٰ ترین سطح پر توہین عدالت کی کارروائی کا آغاز کر سکتی ہے، جو ملک کی اعلیٰ سیاسی قیادت کے لیے سنگین قانونی چیلنج بن سکتا ہے
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: عدالت کی کارروائی وفاقی حکومت کارروائی کا عدالت نے کے خلاف
پڑھیں:
کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی زیر صدارت کفایت شعاری اقدامات پر اہم اجلاس ہوا جس میں مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی زیر صدارت وزارتِ خارجہ میں کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی اور عملدرآمد سے متعلق کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا۔
اجلاس میں ملک بھر میں توانائی کے مؤثر استعمال اور کاروباری سرگرمیوں کے اوقات کارجبکہ جاری کفایت شعاری اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
موسمِ گرما میں دن کے دورانیے میں اضافے اور بلند درجہ حرارت کے پیش نظر کمیٹی نے دکانوں، بازاروں، شاپنگ مالز اور جنرل ریٹیل کاروبار کے اوقات کار رات 9 بجے تک بڑھانے کی منظوری دے دی۔
مزید پڑھیںلاہور میں بھی اسمارٹ لاک ڈاؤن پھر سے نافذ، پرانے اوقات کار بحال
اجلاس کے فیصلوں کے مطابق ریسٹورنٹس، کیفے اور دیگر کھانے پینے کے مراکز رات 11 بجے تک کھلے رہ سکیں گے، تاہم ٹیک اوے اور ہوم ڈلیوری سروسز ان اوقات کی پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی۔
شادی ہالز اور تقریبات کے مقامات کے اوقات کار رات 10 بجے تک برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا جبکہ فارمیسیز، ہسپتال، پٹرول پمپس، آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلق خدمات سمیت ضروری سروسز کو ان پابندیوں سے استثنیٰ حاصل ہوگا۔
کمیٹی نے صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی کہ وہ وفاقی حکام کے ساتھ مکمل تعاون کرتے ہوئے ان فیصلوں پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنائیں۔
اجلاس میں وفاقی وزراء برائے پیٹرولیم، موسمیاتی تبدیلی، اطلاعات اور آئی ٹی و ٹیلی کام، وزیر اعظم کے معاونینِ خصوصی برائے خزانہ اور نائب وزیراعظم، وفاقی سیکریٹریز تجارت، کابینہ، پیٹرولیم اور آئی ٹی و ٹیلی کمیونی کیشنز کے علاوہ صوبائی حکومتوں کے سینئر حکام نے بھی شرکت کی۔کمیٹی نے ایجنڈے میں شامل دیگر امور اور کیسز کی بھی منظوری دی۔