Express News:
2026-06-03@08:11:19 GMT

سسٹم میں اصلاحات کی ضرورت

اشاعت کی تاریخ: 13th, July 2025 GMT

وزیراعظم شہباز شریف نے جمعے کو اسلام آباد میں اعلیٰ سطح کے ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزارتوں کی کارکردگی بڑھانے اور نظام کی تبدیلی کے لیے بین الاقوامی شہرت یافتہ ماہرین کی خدمات حاصل کرنے کی ہدایت کردی ہے۔ وزیراعظم کا کہنا ہے کہ یہ ماہرین اور کنسلٹنٹس جدید دور کے تقاضوں کے مطابق اصلاحات سے نئی سوچ اور گورننس کے طریقہ کار کو رائج کرنے میں معاون ہوں گے۔

وزیراعظم نے کہا کہ سات دہائیوں سے اس ملک کو جس نظام سے چلانے کی کوشش کی گئی، اس سے پاکستان کی ترقی ممکن نہیں۔ فرسودہ نظام کو عصری تقاضوں سے ہم آہنگ کیے بغیر معاشی ترقی اور خوش حالی نہیں آسکتی۔

پاکستان میں نظام کی تبدیلی کے حوالے سے برسوں سے مطالبات چلے آ رہے ہیں۔ بہرحال وزیراعظم پاکستان نے پاکستان کے نظام کی فرسودگی کا اعتراف کر کے یہ بات واضح کر دی ہے کہ اس میں تبدیلیوں اور اصلاحات کیے بغیر آگے بڑھنا ممکن نہیں ہے۔ برصغیر پاک وہند میں جو ریاستی اور حکومتی سسٹم چل رہا ہے، اس کی داغ بیل برٹش حکومت نے ڈالی تھی۔

برصغیر کی تقسیم کے بعد جو ملک وجود میں آئے، انھیں یہ نظام ورثے میں ملا۔ پاکستان، ہندوستان اور بنگلہ دیش آج بھی اسی نظام کے تحت چل رہے ہیں۔ برٹش حکمرانوں نے اپنے مفادات کے حوالے سے قوانین بنائے اور ان قوانین پر جو نظام تشکیل پایا، وہ کالونیل پاور کی فیور میں تھا۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ تقسیم کے بعد اس سسٹم میں فوری اصلاحات لائی جاتیں اور نظام کو عوام دوست یا پروپیپل (Pro-people) بنایا جاتا لیکن ایسا نہیں ہو سکا۔

بھارت میں کسی حد تک سسٹم میں اصلاحات کی گئی ہیں تاہم وہاں بھی ابھی ایسے قوانین موجود ہیں جو مقتدر طبقے کو سہولتیں فراہم کرتے ہیں اور ریاستی اور سرکاری عہدیداروں کو مراعات اور استثنیٰ کی سہولت دیتے ہیں۔ پاکستان کی صورت حال ذرا مختلف ہے۔ پاکستان میں سسٹم میں اصلاحات کے نام پر جو کچھ کیا گیا ہے اس کی وجہ سے پاکستان کا ریاستی اور گورننگ سسٹم زیادہ پیچیدہ، مبہم اور ظالم بن گیا ہے۔

پاکستان کے نظام میں طاقتور ریاستی عہدوں کو بے جا مراعات فراہم کی جاتی ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ انھیں جوابدہی سے بھی استثنیٰ فراہم کیا جاتا ہے۔ آج پاکستان کے نظام میں بہت سے ریاستی عہدے ایسے ہیں جن کی سسٹم کے اندر جوابدہی کا کوئی مؤثر میکنزم یا قانون موجود نہیں ہے۔ اس وجہ سے یہ عہدے ایک طرح سے آئین اور قانون سے بالاتر نظر آتے ہیں کیونکہ ان کا احتساب کرنا سسٹم میں تقریباً ناممکن ہے اور اگر کہیں کوئی میکنزم موجود بھی ہے تو وہ بھی ان عہدوں کی اپنی زیرنگرانی کام کرتا ہے جس کی وجہ سے وہ خود ہی جزا اور سزا کے مالک بن جاتے ہیں۔

پاکستان کے نظام میں جمہوریت کو جس طریقے سے متعارف کرایا گیا ہے، اس کی وجہ سے پارلیمانی جمہوریت سوفیصد عوامی مفادات کے تابع ہو کر کام نہیں کرتی۔ آج پاکستان کے پارلیمنٹیرینز اپنے حق میں قانون سازی کراتے نظر آتے ہیں۔ اپنے استحقاق کو یقینی بناتے ہیں۔

حالانکہ ان کا مینڈیٹ عوام کے مفادات کی حفاظت کے لیے ریاستی سسٹم اور گورننگ سسٹم کی نگرانی کرنا اور جہاں کہیں ضرورت محسوس ہو، عوام کے مفادات کے تحفظ کے لیے قانون سازی کو یقینی بنانا ہوتا ہے لیکن عملاً دیکھنے میں آتا ہے کہ پارلیمان چاہے وہ قومی اسمبلی ہو، سینیٹ ہو یا صوبائی اسمبلیاں، سب کی توجہ کا مرکز تنخواہیں، مراعات اور دیگر الاؤنسز، رہائشی فلیٹس کی الاٹمنٹس، ملازمتوں اور ترقیاتی فنڈز کے کوٹے کا حصول ہے۔

یوں عوام سب سے کم توجہ حاصل کر پاتے ہیں۔ وزیراعظم نے نظام میں تبدیلی لانے کے لیے ماہرین کی خدمات حاصل کرنے کی جو بات کی ہے، اس حوالے سے دیکھنا ہو گا کہ کیا یہ ماہرین پاکستان کے مختلف صوبوں کے رسم ورواج، قوموں اور برادریوں، ان کے مزاج اور زبان اور کلچر سے پوری طرح واقف ہوں گے؟

کیا ان ماہرین کا کام پاکستان پینل کوڈ سے لے کر آئین میں موجود خامیوں وخرابیوں کی نشاندہی کرنا اور متبادل تجاویز دینا ہو گا؟ اصولی طور پر تو پاکستان کے پارلیمنٹیرینز کو خود ہی سسٹم کی اتنی آگاہی ہونی چاہیے کہ وہ اس میں موجود خرابیوں کو سمجھ سکیں اور انھیں دور کرنے کی تجاویز دے کر قانون سازی کرا سکیں۔ پاکستان میں پارلیمان کے رکن بننے کے لیے سسٹم کا علم ہونا کوئی ضروری نہیں ہے حالانکہ یہ ایک بنیادی چیز ہے۔

اگر ایک رکن پارلیمنٹ کو پاکستان پینل کوڈ، کریمنل پروسیجر کوڈ اور آئین پاکستان وغیرہ کی بنیادی معلومات نہیں ہوں گی تو وہ سسٹم کو کیسے سمجھ پائے گا۔ اگر وہ سسٹم کو ہی نہیں سمجھتا تو اس میں اصلاحات کی تجاویز کیسے دے سکتا ہے۔ اسی طرح بیوروکریسی جو محکمہ جاتی ایس او پیز وغیرہ بناتی ہے، ان میں بھی بہت سی خرابیاں موجود ہیں۔ ارکان پارلیمنٹ کو ان ایس او پیز کی خوبیوں اور خامیوں کا بھی پورا علم ہونا چاہیے تاکہ انھیں پتہ چل سکے کہ بیوروکریسی کس طرح اپنے اختیارات کو خود ہی بڑھا لیتی ہے اور اپنے آپ کو ذمے داری سے الگ کر لیتی ہے۔

سیاسی کارکنوں کو بھی نظام کا کوئی علم نہیں ہے۔ اس وجہ سے پاکستان میں سیاسی کارکن لیڈرشپ کے غلام کی شکل میں کام کرتا ہے۔ وہ بھی چھوٹی موٹی مراعات حاصل کرنے کے لیے سیاسی پارٹیاں جوائن کرتا ہے۔ ملک کے بیوروکریٹک سسٹم کو سمجھے بغیر جمہوری سسٹم کامیاب نہیں ہوسکتا۔ قوانین کی باریکیاں بیوروکریسی کا بنیادی اور مہلک ہتھیار ہے۔ جب تک سیاسی ورکر اور پارلیمنٹیرینز ان باریکیوں کو نہیں سمجھیں گے، وہ اپنا رہنما کردار نہیں کر سکیں گے۔

برطانوی پارلیمانی سسٹم کی کامیابی کا راز یہی ہے کہ پارلیمنٹیرینز کو سسٹم کی خرابیوں اور خوبیوں کا پتہ ہے۔ بیوروکریسی کے یکطرفہ قسم کے محکمانہ قواعد وضوابط اور اختیارات کے بارے میں بھی پارلیمنٹیرینز کو پوری آگاہی ہے۔ اسی وجہ سے وہاں کے پارلیمنٹیرینز سسٹم پر کنٹرول رکھتے ہیں۔ بیوروکریسی چالاکی یا ہوشیاری نہیں دکھا سکتی جب کہ پاکستان میں ایسا نہیں ہے۔

وزیراعظم پاکستان میاں شہباز شریف نے اجلاس میں یہ درست کہا ہے کہ پاکستان وسائل سے مالامال ہے، پاکستان کی نوجوان افرادی قوت پاکستان کا سب سے قیمتی اثاثہ ہے، باصلاحیت پاکستانی پوری دنیا میں ملک و قوم کا نام روشن کررہے ہیں ، حکومت کی اوّلین ترجیحات میں فرسودہ نظام کو جدید، ڈیجیٹل اور موثر گورننس کے نظام میں تبدیل کرنا ہے۔

وزیراعظم نے بہترین افرادی قوت کی بھرتی، وزارتوں کو جدید نظام سے ہم آہنگ کرنے اور اصلاحات سے گورننس کی بہتری کی تجاویز کے حوالے سے کمیٹی کے قیام کی بھی ہدایت کر دی ہے۔کمیٹی وزارتوں و اداروں کی تنظیمِ نو کے حوالے سے قابل عمل تجاویز کو حتمی شکل دے گی۔

پاکستان کے نظام میں تبدیلی اور اصلاحات کا عمل آئین پاکستان سے شروع کرنے کی ضرورت سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ آئین کے مختلف آرٹیکلز اور ذیلی شقوں میں موجود ابہام کو ختم کرنا اہم ترین ہے۔ آئین کے آرٹیکلز مکمل، واضح اور دوٹوک الفاظ پر مبنی ہونے چاہئیں تاکہ مطلب واضح اور شفاف ہو جائے۔ چونکہ چنانچہ کی اضافت اور ابہام کے بعد تشریح کا اختیار شروع ہو جاتا ہے۔

اکثر اوقات دیکھنے میں آتا ہے کہ تشریح اصل آرٹیکل سے مختلف ہو جاتی ہے۔ یوں ایک نیا پنڈورا بکس کھل جاتا ہے۔ اسی طرح بیوروکریسی کے قواعد وضوابط کے حوالے سے بھی ایک میکنزم ہونا چاہیے تاکہ افسر کو بے جا قسم کے اختیارات حاصل نہ ہو سکیں اور اس کے ساتھ ساتھ وہ اپنے احکامات کا ذمے دار اور جواب دہ بن سکے۔

ریاستی عہدوں یا سرکاری افسروں اور دیگر آئینی عہدوں کے آئینی اور قانونی استثنیٰ کے حوالے سے بھی کوئی فول پروف میکنزم ہونا چاہیے تاکہ ان طاقتور اور بااختیار عہدوںکو بھی اپنے ایکشنز اور بزنسز کے حوالے سے ذمے دار اور قابل احتساب ٹھہرایا جا سکے۔ عوامی جمہوریت کے لیے ایسا کرنا انتہائی ضروری ہے کیونکہ ان طاقتور اور بااختیار عہدوں کو خطیر رقم تنخواہوں اور مراعات کی مد میں دی جاتی ہے، یہ رقم عوام کے ٹیکسوں سے اکٹھی ہوتی ہے۔

آئی ایم ایف اور دیگر عالمی مالیاتی ادارے ملک کو جو قرضہ دیتے ہیں وہ بھی پاکستان کے عوام کے نام پر دیتے ہیں۔ سرکاری افسروں اور ملازمین کو جو مراعات ملتی ہیں، وہ بھی عوام کے ٹیکسوں سے اکٹھے ہونے والے پیسوں سے ملتی ہیں۔ پارلیمنٹیرینز جو مراعات اور تنخواہیں حاصل کر رہے ہیں وہ بھی عوام کے ٹیکسوں سے ادا کی جا رہی ہیں۔ اگر پاکستان کے ہر صوبے، ہر ضلع، ہر شہر، ہر قصبے اور ہر گاؤں کے رہنے والے شہری حکومتوں کو ڈائریکٹ اور ان ڈائریکٹ ٹیکسز اداکرتے ہیں تو آئین اور قوانین کو بھی عوام کے حق میں ہونا چاہیے نہ کہ ریاستی اور حکومتی عہدیداروں، سرکاری ملازموں اور پارلیمنٹیرینز کے حق میں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: پاکستان کے نظام میں میں اصلاحات پاکستان میں کے حوالے سے ریاستی اور ہونا چاہیے اصلاحات کی کرنے کی نہیں ہے عوام کے سسٹم کی ا ہے کہ وہ بھی کے لیے اپنے ا

پڑھیں:

امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے

اسکردو (اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ انٹرنیشنل پریس ایجنسی ۔ 02 جون 2026ء ) چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے اسکردو کے مین بازار میں انتخابی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ انتخابی مہم میں آپ کے پاس آیا تھا اور جی بی کی ہر تحصیل میں گیا اور پورے جی بی کا دورہ کیا اور اسی وقت سے کہہ سکتا ہوں کہ جتنا جی بی میں نے دیکھا ہے وہ کسی سیاستدان نے نہیں دیکھا۔

ساری جماعتوں کے دورے ملا کر بھی ہمارے دوروں کے مقابلے میں کم ہیں۔ ہمارا صرف سیاسی رشتہ نہیں بلکہ نسلوں کا ساتھ ہے۔ میں یہ مہم بھی گزشتہ انتخابی مہم کی طرح کرنا چاہتا تھا۔ گزشتہ انتخابات میں خوشی کو ماحول تھا لیکن اب ہم سب کے لئے غم کا ماحول ہے۔ ایران میں جو شہادتیں ہوئیں ہیں، بچیوں کو شہید کیا ہے یہ غم کا ماحول ہے۔

(جاری ہے)

جس طرح رمضان میں آیتہ اللہ خامنئی کو ان کی نواسی کے شہید کیا گیا وہ انتہائی قابل مذمت ہے۔

پاکستان پیپلزپارٹی امن پسند اور جنگ کے خلاف ہے۔ یہ کہانی ایران تک نہیں فلسطین اور لبنا ن میں بھی بے گنا ہ لوگوں شہید کیا گیا۔ فیلڈ مارشل امن کی جو کوشش کر رہے ہیں ہیں ہم سب دعاگو ہیں کہ یہ کوشش کامیاب ہو ۔ پوری مسلم دنیا اور دنیا بھر کے نوجوان اس جنگ کا بوجھ اٹھا رہے ہیں۔ اس جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بے تحاشہ بڑھ گئی ہے اس لئے ہم اس جنگ کو ختم ہوتا دیکھنا چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پی پی پی کی سیاست باقی جماعتوں سے مختلف ہے۔ ہم پسماندہ طبقہ کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ان کو حقوق دیتے ہیں اور غریب کا سوچتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ملک کی ترقی پسماندہ طبقے کی ترقی سے ہے۔ باقی جماعتیں امیروں کو مزید امیر بنانے کی پالیسی اختیار کرتے ہیں اور اسے نام ترقی کا دیا جاتا ہے۔ کسانوں، مزدوروں، نوجوانوں کی ترقی اصل ترقی ہے۔

قائد عوام شہید ذوالفقار بھٹو نے کسانوں کو زمین مہیا کی۔ شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے لئے عوام کا نعرہ تھا “بینظیر آئے گی، روزگار لائے گی”۔ صدر زرداری نے اپنے پہلے دورِ حکومت میں بی آئی ایس پی بنا کر روٹی، کپڑا اور مکان کو عملی شکل دی۔ بطور وزیرخارجہ مجھ سے دوسرے ممالک پوچھتے تھے کہ ہم بی آئی ایس پی کے ذریعے اپنے غریبوں کی بھی مدد کرنا چاہتے ہیں۔

بدقسمتی اس ملک کی یہ ہے کہ ہمارے سیاستدان اور سیاسی جماعتیں ایسی ہیں کہ وہ سوچتی ہیں کہ اپنے امیر دوستوں کے لئے مراعات کیسے دیں اور وہ بی آئی ایس پی کی غریبوں کی مدد ختم کرنا چاہتے ہیں۔ یہ بی آئی ایس پی کی مدد پورے ملک کے غریب عوام کو ملتی ہے۔ ماﺅوں کی دعاﺅں کی وجہ سے ان کی بی آئی ایس پی کوختم کرنے کی سازش ناکام ہوگی۔ وزیراعظم آنے والے بجٹ میں بی آئی ایس پی میں اضافے کا اعلان کریں گے۔

چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پی پی پی نے ملک کی دفاعی صلاحیت مضبوط کی ہے۔ اس وقت پاکستان واحد مسلم ایٹمی طاقت ہے اور کوئی پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھ نہیں سکتا۔ یہ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے تحفہ دیا ہے۔ وہ گڑھی خدا بخش سے پاکستان کا دفاع کر رہے ہیں۔ شہید بی بی نے میزائل ٹیکنالوجی دی کہ وہ اس بم کو لے کر دشمن تک پہنچ سکتے ہیں۔

آج پاکستان کا دفاع اسی وجہ سے ناقابل تسخیر ہے۔ اس کے بعد مشرف کا دور گزرا کہ جب دوسرے ممالک کو Bases بنانے کی اجازت دی گئی۔ صدر زرداری نے سلالہ واقعے کے بعد سارے Bases کو بند کیا۔ جب حال ہی میں مختلف ممالک میں بم دھماکے ہو رہے تھے تو میں نے کہا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو کے بم اور شہید بی بی کا ذکر کروں گا تو صدر زرداری کو بھی خراج تحسین پیش کروں گا۔

ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان ہر لحاظ سے مضبوط ہو صرف پی پی پی ہی معاشی طور پر یہ کام کر سکتی ہے۔ یہ تین نسلوں کی جدوجہد ہے۔ شہید ذوالفقارعلی بھٹو نے سرداری نظام ختم کیا۔ FCR کا خاتمہ کیا۔ قائدعوام نے بلتستان کی سرزمین پر کھڑے ہو کر اعلان کیا تھا کہ گھاس کھائیں گے لیکن ایٹم بم بنائیں گے۔ گندم اور پٹرول پر سبسیڈی قائدعوام نے دی۔انہوں نے کہا کہ ہم نے یہ سب کچھ جدوجہد سے حاصل کیا۔

جی بی کو پہلے ناردرن ایریا کہتے تھے صدر زرداری نے جی بی کا نام دیا۔ اب ہم نے مل کر جدوجہد کرکے شہید ذوالفقار علی بھٹو اور شہید بی بی کے مشن کو مکمل کرنا ہے۔ ہمیں تین اصولوں حق حاکمیت ، حق ملکیت اور حق روزگار پر عمل کرنا ہوگا۔ یہ تب ہوگا جب اٹھارہویں ترمیم کے مطابق دیگر صوبوں کی طرح حقوق جی بی کو بھی ملیں۔آپ کے پہاڑوں کے نیچے جو وسائل ہیں ان پر حق جی بی کے عوام کا ہے۔

وسائل پر پہلا حق جی بی کے عوام ہے اور اگر یہ حق ملکیت مل جائے تو پاکستان کی ترقی ہوگی جس طرح تھر کے کوئلے سے پورا پاکستان مستفید ہو رہا ہے۔ شہید بی بی نوے کی دہائی میں یہ منصوبہ شروع کرنا چاہتی تھیں لیکن اس کے راستے میں رکاوٹیں ڈالی گئیں۔ ہم نے یہ منصوبہ 2015 میں شروع کیا اور اس منصوبے کے سربراہ سندھ کے وزیراعلیٰ کو بنایا۔ اس منصوبے میں روزگار کا 80 فیصد تھر کے عوام کو دیا گیا۔

تھر کے منصوبے سے تھرکے عوام کو مفت بجلی دیتے ہیں۔ ہم نے تھر کے عوام کو تھر کول منصوبے میں ان کا شئیر دینا چاہا لیکن ان لوگوں نے پیسے لے لئے لیکن آپ کو اپنے وسائل میں شیئر لینا چاہیے۔ CPEC کا سب سے بڑا منصوبہ تھرکو ل کا ہے۔ جب آپ کو حق ملکیت ملے گا تو آپ وسائل کے حصہ دار ہوں گے۔چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ہماری کوشش ہوتی ہے کہ ہم ملازمتوں کے مواقع پیدا کریں لیکن دوسرے لوگ غریبوں کا روزگار چھینتے ہیں۔

یہ سمجھتے ہیں کہ امیر کو اور امیر بنائیں گے تو وہ نوکریاں دیں گے لیکن ایسا نہیں ہوتا۔ ہماری سیاست عوام دوست اور غریب دوست ہے جبکہ دیگر لوگوں کی سیاست غریب دشمن اور امیردوست ہوتی ہے۔ اس لئے تیر پر مہر لگا کر غریب دوست حکومت بنائیں۔چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا میں جانتا ہوں کہ آپ کے ہاں بارشوں اور سیلاب سے بہت نقصان ہوتا ہے۔

سندھ میں بھی 2022 میں سیلاب آیا اور دو تہائی سندھ پانی کے نیچے چلا گیا۔ اس وقت سارے غریب لوگ مطالبہ کر رہے تھے کہ انہیں گھر بنا کر دئیے جائیں۔ یہ پاکستان کی پہلی حکومت جس نے غریب لوگوں کو گھر بنا کر دئیے۔ میں کسی صوبے سے نہیں عالمی سطح پر مقابلہ کرتا ہوں اور 20 لاکھ گھر بنانے بنانے کا منصوبہ دنیا میں سب سے بڑا منصوبہ ہے اور یہ گھر موسمیاتی تبدیلیوں کا سامنا کر سکتے ہیں۔

خواتین کو ان گھروں کا مالک بنایا اور زمین کی یہ منتقلی قائد عوام کے بعد سب سے بڑا منصوبہ ہے کیونکہ یہ زمین بھی خواتین کے نام کر رہے ہیں۔ 7 جون کو تیر پر مہر لگائی تو اسی طرح جی بی کی خواتین کو بھی گھر بنا کر دیں گے۔ ہم غریب اور عوام دوست ہیں اسی لئے بی آئی ایس پی اور گھروں کا منصوبہ دیتے ہیں ۔ سندھ میں ہسپتال بنائے، سندھ کا این آئی سی وی ڈی، این آئی سی ایچ، ایس آئی یوٹی اور ڈاﺅ میڈیکل کالج سے لے کر گمبٹ تک دل ، گردے، کینسر اور جگر کا علاج پورے پاکستان کے عوام کو مفت مہیا کرتے ہیں۔

دیگر صوبے ہسپتالوں کی نجکاری کرتے ہیں تاکہ ان کے امیر دوستوں کو فائدہ ہو۔ وسائل نہ ہونے کی وجہ سے کسی کو علاج سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ 7جون کو انشااللہ جی بی کے عوام باہر نکلیں گے اور تیر پر مہر لگاکر پیپلزپارٹی کی حکومت بنائیں گے تاکہ حق حاکمیت، حق ملکیت اور حق روزگار، مفت علاج کے ادارے اور گھر بنانے کا منصوبہ شروع ہو سکے۔

ہم پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ سے جی بی کے عوام کی خدمت کریں گے اور آپ کو معاشی طور پر مضبوط کریں گے۔ شہید ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں انہوں نے ڈاکٹر مبشر حسن کو ایک تحقیق کرنے کو کہا تھا جس سے 70 کی دہائی میں یہ بات سامنے آئی کہ جی بی میں ہم 50ہزار میگا واٹ بجلی بنا سکتے ہیں جو ہم بنا کر دکھائیں گے۔ یہ منصوبہ اسلام آباد میں کوئی بیوروکریٹ نہیں ہم اور آپ مل کر بنائیں گے اور اسلام آباد کو بجلی بیچیں گے۔

7تاریخ کو اس صوبے کے عوام کو سوچنا ہے کہ آپس میں لڑ کر کسی اور کو فائدہ نہ پہنچائیں۔ پی پی پی کو بھاری اکثریت ملتی ہے تو ہم مسائل حل کر سکتے ہیں۔ ہم نے سکردو کو وزیراعلی اور گورنر دیا۔ یہ صرف مہدی شاہ کی عزت نہیں بلکہ سکردو کے عوام کی عزت ہے۔ اب میدان میں نئی نسل آگئی ہے اور آپ کے ووٹ اور ساتھ کی وجہ سے توقیر شاہ کو سکردو 1 سے جتوائیں گے۔

آپ سکردو 2 میں محمد علی شاہ کو ووٹ دیںسکردو 3 سے فدا محمد ناشاد کو جتوانا ہے۔ اسکردو4 میں راجہ ناصر علی خان کو منتخب کرنا ہے۔ خرمنگ کے اقبال حسین کو جتوانا ہے۔ گزشتہ انتخابات میں شگر سے عمران ندیم کو نہیں جیتنے دیا گیا تھا لیکن اس مرتبہ انہیں جتوانا ہے اور گھانچے1 سے ڈاکٹر عاشق حسین کو منتخب کرنا ہے۔ گھانچے 2 میں میری امیدوار آمنہ انصاری ہیں اور گھانچے 3 میں انجینئر محمد اسماعیل ہیں۔

میں چاہتا ہوں کہ انجینئر محمد اسماعیل کے حلقے سے جی بی ہاﺅسنگ اینی شئیٹو شروع کروں۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے تمام امیدواروں سے ہاتھ کھڑے کروا کر وعدہ لیا کہ وہ منتخب ہوکر عوام کی خدمت کریں گے۔ انہوں نے عوام سے بھی وعدہ لیا کہ 7جون کو تیرپر مہر لگائیں تاکہ شہید قائد عوام اور شہید بی بی کے مشن کو مکمل کیا جا سکے۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ وہ پہلی مرتبہ آصفہ بی بی کو لے کر سکردو آئے ہیں اور اس امید کا اظہار کیا کہ جس طرح بلتستان کے عوام نے انہیں کبھی مایو س نہیں کیا اسی طرح بی بی آصفہ کو بھی مایوس نہیں کریں گے۔ خطاب کے آخر میں چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے عوام کے ساتھ مل کر پارٹی کے لئے نعرے لگوائے۔

متعلقہ مضامین

  • سیاستدان امیر دوستوں کو مراعات دینا، غریبوں کی مدد ختم کرنا چاہتے ہیں: بلاول
  • امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
  • حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
  • ‏‏سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو
  • جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ
  • وفاقی کابینہ کا جعلی دواؤں کے خاتمے کیلئے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی منظوری
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • صدر زرداری کی اٹلی کے صدر ور عوام کو یومِ جمہوریہ پر مبارکباد
  • وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی
  • قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان