حکومت نے 2 اہم محکموں کو ضم کر کے نیشنل ایگری-ٹریڈ اینڈ فوڈ سیفٹی اتھارٹی قائم کر دی
اشاعت کی تاریخ: 13th, July 2025 GMT
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق نے 2 اہم محکموں پلانٹ پروٹیکشن ڈپارٹمنٹ (ڈی پی پی) اور اینیمل کوارنٹائن ڈپارٹمنٹ (اے کیو ڈی) کو ضم کر کے نیشنل ایگری-ٹریڈ اینڈ فوڈ سیفٹی اتھارٹی (نیفسا) قائم کر دی ہے، جس کا مقصد پاکستان کے زرعی تجارتی ڈھانچے کو عالمی پودوں کے حفاظتی اور خوراکی تحفظ کے معیار کے مطابق جدید بنانا ہے۔
ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق ڈی پی پی کو بین الاقوامی پودوں کے تحفظ کے کنونشن کے تحت قائم کیا گیا تھا، جب کہ اے کیو ڈی کا مقصد غیر ملکی جانوروں کی بیماریوں کے داخلے کو روکنا تھا۔
ان دونوں اداروں کو (این اے ایف ایس اے) میں ضم کرنے کا مقصد جدید، سائنسی اور ڈیٹا پر مبنی ادارہ قائم کرنا ہے، جو سینیٹری اور فائٹو سینیٹری (ایس پی ایس) تقاضوں کی تعمیل کو یقینی بنائے، ساتھ ہی اعلیٰ معیار کے زرعی ان پٹس تک رسائی کو فروغ دے کر قومی غذائی تحفظ اور فاضل پیداوار کو ممکن بنائے۔
ڈی پی پی کے اہلکار کے مطابق، نیفسا کا قیام وزارت کے اس وسیع تر وژن کی عکاسی کرتا ہے، جس کے تحت پاکستان کی زرعی برآمدات کو پائیدار بنانا اور پاکستان کو پودوں اور جانوروں کی مصنوعات کا ایک قابل اعتماد ذریعہ بنانا شامل ہے، یہ ادارہ پرانے، فرسودہ ڈھانچوں کی جگہ ایک ٹیکنالوجی سے چلنے والے ادارہ جاتی نظام کو لے کر آئے گا جو بین الاقوامی بہترین طریقوں سے ہم آہنگ ہو گا۔
اگرچہ ڈی پی پی نے پودوں کے تحفظ کے شعبے میں نسبتاً بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے، اے کیو ڈی کو عملے کی مستقل کمی کا سامنا رہا، جس سے اس کی کارکردگی متاثر ہوئی۔
تاہم، باخبر ذرائع نے بتایا کہ ٹڈی دل کنٹرول (جو پہلے ڈی پی پی کی ذمہ داری تھا) اب نیفسا کے دائرہ کار میں شامل ہوگا یا نہیں، اس پر ابھی غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔
ہفتے کے روز وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق کی جانب سے جاری کردہ ایک پریس ریلیز کے مطابق، ان اصلاحات کا مقصد پاکستان کی بین الاقوامی تجارتی تقاضوں سے ہم آہنگی بہتر بنانا اور اس کی برآمدی مسابقت میں اضافہ کرنا ہے۔
وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ رانا تنویر حسین کی ہدایات پر ڈی پی پی نے گزشتہ 6 ماہ میں کئی اصلاحاتی، اصلاحی، اور تادیبی اقدامات کیے تاکہ ریگولیٹری نظام اور عملی صلاحیت کو بہتر بنایا جا سکے۔
ادارہ جاتی ڈھانچے کی مجموعی اصلاحات کے حصے کے طور پر، ڈی پی پی نے متعدد اسٹریٹجک منصوبے شروع کیے ہیں، جن میں جانچ کی لیبارٹریوں کو اپ گریڈ کرنا اور جدید انفرااسٹرکچر کا قیام شامل ہے۔
سب سے اہم اصلاحات میں سے ایک درآمدی قوانین پر سائنسی تجزیے کی بنیاد پر نظر ثانی ہے، جس کے نتیجے میں میتھائیل برومائیڈ (MB) جیسے زہریلے کیمیکل کے غیر ضروری استعمال میں نمایاں کمی آئی ہے، اس تبدیلی سے خاص طور پر کپاس، اناج، دالوں اور دیگر اشیا کی درآمد پر فی کنٹینر 30 ہزار سے 40 ہزار روپے کی بچت ہو رہی ہے۔
صنعتی حلقوں نے اس اقدام کو کیمیکل کے معقول استعمال اور ماحولیاتی پائیداری کی جانب ایک بڑا قدم قرار دیا ہے۔
وزارت نے انکشاف کیا کہ وفاقی وزیر کی ہدایات پر تفصیلی داخلی آڈٹ کے دوران معلوم ہوا کہ ایک کمپنی مشکوک ذرائع سے میتھایل برومائیڈ درآمد کر رہی تھی، اس پر تیسری پارٹی کے ذریعے تصدیق اور دستاویزات کی جانچ پڑتال کے بعد سخت تحقیقات کی گئیں۔
قواعد کی خلاف ورزی پر مذکورہ کمپنی کا لائسنس فوری طور پر معطل کر دیا گیا، اور پاکستان کسٹمز کے ساتھ مل کر تقریباً 10 لاکھ ڈالر مالیت کی 4 زیرِ کارروائی شپمنٹس کو کلیئر ہونے سے پہلے ہی بندرگاہ پر روک دیا گیا۔
یہ اقدامات نہ صرف خطرناک مواد کے داخلے کو روکنے میں کامیاب رہے، بلکہ وزارت کی بدعنوانی کے خلاف صفر برداشت کی پالیسی کو بھی اجاگر کرتے ہیں، بدعنوانی میں ملوث افسران کے خلاف تادیبی کارروائی بھی شروع کر دی گئی ہے۔
وفاقی وزیر رانا تنویر حسین نے اس موقع پر کہا کہ حکومت زرعی اور کوارنٹائن نظام کو بین الاقوامی معیار کے مطابق ڈھالنے کے لیے پرعزم ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ جو لوگ قانون کی خلاف ورزی کریں گے یا قومی مفادات سے غفلت برتیں گے ان کے ساتھ کسی قسم کی نرمی نہیں برتی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ اس اربوں روپے کے سکینڈل کو بے نقاب کر کے حکومت نے شفافیت، منصفانہ مقابلے، اور ادارہ جاتی دیانت داری کے لیے اپنے عزم کا ثبوت دیا ہے۔
جدہ کیوں پہنچایا؟ متاثرہ مسافر نے نجی ایئرلائن انتظامیہ کو لیگل نوٹس بھیج دیا
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
پڑھیں:
کسی سیاسی جماعت کا نمائندہ نہیں، آئین کے مطابق قومی ذمہ داری نبھاؤں گا: گورنر سندھ نہال ہاشمی
گورنر سندھ نہال ہاشمی نے کہا ہے کہ وہ گورنر کے منصب پر رہتے ہوئے اپنی تمام ذمہ داریاں آئینِ پاکستان کے مطابق ادا کریں گے اور ان کی حیثیت کسی سیاسی جماعت کے نمائندے کی نہیں بلکہ وفاق کی آئینی ذمہ داریاں نبھانے والے عہدیدار کی ہوگی۔
انہوں نے ان خیالات کا اظہار ایڈیٹرز کلب کے ایک وفد سے ملاقات کے دوران کیا۔ ملاقات میں صحافت، تعلیم، گورننس اور سندھ کو درپیش مختلف امور پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔
گورنر سندھ نے کہا کہ ان کی اولین ترجیح آئین اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنی قومی ذمہ داریاں ادا کرنا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ گورنر ہاؤس میں بیٹھ کر وہ معاشرے کے تمام طبقات کے لیے یکساں طور پر دستیاب رہیں گے اور کسی بھی فیصلے میں سیاسی یا لسانی وابستگی کو بنیاد نہیں بنایا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ وہ لسانی تعصبات سے بالاتر ہو کر سندھ کے تمام شہریوں کی خدمت پر یقین رکھتے ہیں اور بطور گورنر ان کا کردار صوبے کے مختلف طبقات کے درمیان ہم آہنگی، اعتماد اور باہمی تعاون کو فروغ دینا ہوگا۔
صحافت کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے نہال ہاشمی نے کہا کہ سوشل میڈیا اور ریلز کلچر نے معلومات کی ترسیل کا انداز بدل دیا ہے، تاہم اس تبدیلی کے ساتھ پیشہ ورانہ صحافت کے بنیادی اصولوں کو نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ سنجیدہ صحافت کی بنیادی ذمہ داری تحقیق، حقائق اور عوامی مفاد کو مقدم رکھنا ہے۔
انہوں نے میڈیا اداروں پر زور دیا کہ وہ اپنی ادارتی پالیسیوں اور ایڈیٹوریل گائیڈ لائنز کو مزید مؤثر بنائیں تاکہ نئے آنے والے رپورٹرز کی بہتر تربیت کی جا سکے۔ ان کے بقول صحافیوں کو یہ سکھانا وقت کی اہم ضرورت ہے کہ وہ متعلقہ، بامقصد اور مؤثر سوالات کریں، کیونکہ معیاری سوال ہی معیاری صحافت کی بنیاد بنتا ہے۔
گورنر سندھ نے تعلیم کے شعبے کو اپنی ترجیحات میں شامل قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ سندھ میں تعلیمی نظام کی بہتری کے لیے ہر ممکن کردار ادا کریں گے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ تعلیم کے شعبے میں اصلاحات اور معیار کی بہتری کے لیے متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر کام کیا جائے گا تاکہ نوجوانوں کو بہتر تعلیمی مواقع میسر آ سکیں۔
انہوں نے اپنی طرزِ حکمرانی پر بھی روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ وہ گورنر ہاؤس ہی میں رہائش پذیر ہیں، اس لیے غیر ضروری پروٹوکول کے قائل نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جب سرکاری رہائش گاہ موجود ہے تو غیر ضروری نقل و حرکت اور بڑے پروٹوکول کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔ سادگی، کفایت شعاری اور عوامی سہولت کو ترجیح دینا ہی بہتر طرزِ حکمرانی ہے۔
ملاقات کے دوران وفد کے ارکان نے بھی میڈیا کو درپیش چیلنجز، صحافیوں کی پیشہ ورانہ تربیت، تعلیم اور گورننس سے متعلق مختلف امور پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ گورنر سندھ نے اس موقع پر صحافتی برادری کے ساتھ مسلسل رابطے اور تعمیری مکالمے کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
گورنر سندھ نہال ہاشمی