نئے اور جدید ڈیزائن کے کرنسی نوٹوں کا اجرا، حقیقت کیا ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 13th, July 2025 GMT
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)سوشل میڈیا اور واٹس ایپ پر ان دنوں ایک خبر تیزی سے وائرل ہو رہی ہے جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ سٹیٹ بینک آف پاکستان (SBP) نے 2025 کے آخر تک 10، 20، 50، 100، 500، 1000 اور 5000 روپے کے نئے ڈیزائن کے کرنسی نوٹس جاری کرنے کا اعلان کیا ہے۔
نجی ٹی وی ایکسپریس نیوزکے مطابق فیکٹ چیک کے بعد یہ بات واضح ہوئی ہے کہ یہ خبر بالکل جعلی ہے اور سٹیٹ بینک نے اس کی سختی سے تردید کی ہے۔
وائرل ہونے والے آرٹیکل میں کہا گیا کہ نئے نوٹس میں:جدید سکیورٹی فیچرز شامل ہوں گے۔پلاسٹک نما پولیمر میٹیریل استعمال ہوگا 50 روپے کے نوٹ پر مارخور کی تصویر ہوگی۔نوٹس پر علامہ اقبال کی شاعری کندہ ہوگی۔
500 روپے کے نوٹ پر یو وی لائٹ میں چمکنے والا نقشہ اور صوفی ڈانسر کا عکس ہوگا۔وائرل پوسٹ میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ 2024 میں خفیہ آرٹ مقابلہ کروا کر یہ ڈیزائن منتخب کیے گئے۔ لیکن ان تمام دعوؤں کو سٹیٹ بینک نے مسترد کیا ہے۔
سٹیٹ بینک کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ’’ہمارے پاس 2025 میں کرنسی نوٹس کے ڈیزائن تبدیل کرنے یا پولیمر نوٹس کے تجربے کا کوئی منصوبہ نہیں۔ جو نوٹ 2005 سے 2008 کے درمیان متعارف ہوئے، وہی اس وقت بھی قابل استعمال ہیں اور آئندہ بھی جاری رہیں گے۔‘‘
سٹیٹ بینک نے یہ بھی واضح کیا کہ نہ تو علامہ اقبال کی شاعری کندہ کرنے کا کوئی منصوبہ ہے، نہ ہی چمکنے والے نقشے شامل کیے جارہے ہیں۔
یہ خبر جعلی کیوں ہے؟کوئی مستند ذریعہ نہیں: وائرل آرٹیکل میں “سٹیٹ بینک ذرائع” جیسے جعلی نام دیے گئے، جبکہ سٹیٹ بینک کی ویب سائٹ یا آفیشل ٹوئٹر/X اکاؤنٹ پر اس بارے میں کچھ نہیں کہا گیا۔
فرضی کہانیاں: 10 لاکھ روپے انعام کے ساتھ ملک گیر آرٹ مقابلے کا دعویٰ بھی جھوٹا ہے۔
کلیکٹر مارکیٹ کا فریب: یہ کہنا کہ نئے نوٹ 50 ہزار سے 1 لاکھ روپے میں فروخت ہوں گے، بے بنیاد ہے۔
غلط ٹیکنالوجی کے دعوے: سٹیٹ بینک نے ایسی کسی ہائی ٹیک مواد کے استعمال کا اعلان نہیں کیا جو دنیا کی کرنسی میں بھی کم استعمال ہوتی ہے۔
اصل حقیقت کیا ہے؟سٹیٹ بینک کرنسی نوٹوں کی سیکیورٹی کا وقتاً فوقتاً جائزہ لیتا رہتا ہے، تاہم اس وقت نوٹوں کے ڈیزائن میں تبدیلی کا کوئی منصوبہ نہیں۔ آخری بار 2019 میں 1000 روپے کے نوٹ میں سیکیورٹی فیچر اپڈیٹ کیا گیا تھا۔ اگر آئندہ کوئی تبدیلی کی جائے گی تو سٹیٹ بینک کم از کم 12 سے 18 ماہ پہلے باضابطہ اعلان کرے گا۔
جعلی خبر کا نقصان کیا ہوا؟اس جھوٹی خبر نے عوام میں الجھن پیدا کی۔کچھ لوگوں نے نئے نوٹوں کے پری آرڈر کے بارے میں پوچھا۔
سٹیٹ بینک نے خبردار کیا کہ ایسی افواہیں فراڈ اور مالی نقصان کا باعث بن سکتی ہیں۔ کرنسی کی قیمت میں 25-30 فیصد سالانہ اضافے کا دعویٰ بھی لوگوں کو گمراہ کر رہا ہے۔
سٹیٹ بینک نے سائبر حکام کے ساتھ مل کر اس جعلی خبر کے پھیلانے والوں کا پتا لگانے کا عمل شروع کردیا ہے۔ اس وقت آپ کے موجودہ کرنسی نوٹ مکمل طور پر قابل استعمال ہیں اور 2025 میں نئے ڈیزائن کے نوٹس جاری کرنے کی کوئی حقیقت نہیں۔
حمیرا اصغر کی موت کیسےہوئی ؟پولیس کی تحقیقاتی ٹیم تشکیل
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: سٹیٹ بینک نے کرنسی نوٹ روپے کے کیا ہے کے نوٹ
پڑھیں:
بجٹ میں پیٹرولیم لیوی بڑھانے کا امکان
اسلام آباد:وفاقی بجٹ میں 220 ارب روپے کے نئے ٹیکسز لگانے، تاجروں کے لیے فکسڈ ٹیکس اسکیم لانے کی تجاویز ہیں، بچوں کے فارمولا دودھ، گھی، کوکنگ آئل سمیت درجنوں اشیائے خورونوش سیلز ٹیکس کے تیسرے شیڈول میں شامل کیے جانے کا امکان ہے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق بجٹ میں سالانہ 20 کروڑ روپے سیل پر 25 ہزار روپے فکس ٹیکس دینا ہوگا جس پر تاجروں کو آڈٹ سے استثنیٰ دیا جاسکتا ہے، آئی ایم ایف نے جی ایس ٹی کی شرح 18 سے بڑھا کر 19 فیصد کرنے پر زور دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق اگلے مالی سال کا ٹیکس ہدف حاصل کرنے کے لیے بجٹ میں اضافی ٹیکس اقدامات شامل ہوں گے، نئے بجٹ میں سپر ٹیکس میں ایک سے دو فیصد تک کمی کی بھی تجویز ہے۔
بجٹ میں شیر خوار بچوں کے فارمولا دودھ، کیچپ، ویجیٹیبل گھی، کوکنگ آئل، چائے کی پتی، چینی، خشک دودھ اور اس سے تیار شدہ مصنوعات سمیت درجنوں اشیائے خورونوش اور روزمرہ استعمال کی ضروری اشیاء پر سیلز ٹیکس وصولی کے لیے پرچون قیمت پرنٹ کرنے کا لازمی قرار دینے کا اصولی فیصلہ کیا ہے جس کے لیے ان درجنوں اشیاء کو تیسرے شیڈول میں شامل کیا جائے گا۔
علاوہ ازیں جن اشیائے خوردونوش اور اشیائے ضروریہ پر بھاری ٹیکس عائد ہے اسے اگلے بجٹ میں بھی برقرار رکھے جانے کا امکان ہے جس سے ان اشیاء کے مہنگے ہونے کا خدشہ ہے۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی سی کے ڈی کٹس پر سیلز ٹیکس چھوٹ یکم جولائی 2026ء سے ختم ہونے کا امکان ہے جبکہ مقامی طور پر تیار یا اسمبلڈ کی جانے والی الیکٹرک گاڑیوں پر ایک فی صد سیلز ٹیکس 30 جون 2026ء تک نافذ رہے گا اسی طرح ہائبرڈ الیکٹرک گاڑیوں پر رعایتی سیلز ٹیکس کی مدت بھی 30 جون 2026ء کو ختم ہو جائے گی اور اس میں مزید رعایت دیے جانے کا امکان نہیں ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ یکم جولائی سے پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی دگنی کیے جانے کا امکان ہے اس کے تحت پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی 2.5 روپے فی لیٹر سے بڑھا کر پانچ روپے فی لیٹر وصول کی جا سکتی ہے۔ آئندہ مالی سال کے دوران کلائمٹ سپورٹ لیوی کی مد میں 90 ارب روپے سے زائد وصول ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
بجٹ میں کرپٹو ٹریڈنگ پر 10 سے 30 فی صد تک کیپیٹل گین ٹیکس نافذ کیا جا سکتا ہے جس کیلئے ٹیکس ایکٹ 2001ء کے سیکشن 37 میں کرپٹو ٹرانزیکشنز سے متعلق کیپیٹل گین کی شق شامل کیے جانے کا امکان ہے۔
دریں اثنا وفاقی حکومت کی جانب سے آئندہ مالی سال 2026-27ء کے وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان ہے۔