کراچی:

پاکستان میں کیمبرج کے لیک پرچوں سے متعلق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تعلیم کی رپورٹ سامنے آگئی۔

رپورٹ میں برٹش کونسل کو پاکستان میں ٹیکس سے حاصل استثنیٰ، کیمبرج کی فی پرچہ فیس 60 ہزار روپے تک وصول کرنے اور کیمبرج کے امتحانات میں سخت سکیورٹی پروٹوکولز سے متعلق پورے امتحانی عمل کا تھرڈ پارٹی آڈٹ کرانے کی سفارش کی گئی ہے۔

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تعلیم کی رپورٹ پر خود قائمہ کمیٹی نے اپنی تجاویز پر مشتمل نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا ہے، یہ رپورٹ قائمہ کمیٹی برائے تعلیم کی ذیلی کمیٹی نے تیار کی تھی جس کی کنوینر رکن قومی اسمبلی سبین غوری تھیں جبکہ دیگر اراکین میں زیب جعفر، عبدالعلیم خان ، داور کنڈی اور محمد علی سرفراز شامل تھے۔

رپورٹ کی سفارشات میں کہا گیا ہے کہ سال 2025 سیریز میں اے ایس ریاضی پیپر ون 2 مئی کو دوپہر 2 بجے لیا گیا جبکہ پرچہ صبح 2 بجے آؤٹ ہوا، اے ایس ریاضی پیپر (4) سات مئی کو دوپہر 2 بجے لیا گیا جبکہ پرچہ صبح ساڑھے 3 بجے آؤٹ ہوا، اسی طرح کمپیوٹر سائنس پیپر (2) 15 مئی کی دوپہر 2 بجے لیا گیا جو دوپہر 12 بجے لیک ہوا۔

فزکس پیپر (2) 20 مئی کو صبح 9 بجے لیا گیا جو صبح 8 بجے لیک ہوا، رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر کسی پرچے کا ایک بھی سوال لیک ہوتا ہے تو پورے امتحانی پرچے کی صداقت سوالیہ نشان بن جاتی ہے اور اس حوالے سے کیمبرج کا موقف غیر اطمینان بخش ہے۔

کمیٹی کے مطابق کیمبرج اس حوالے سے شفاف تحقیقات کرائے جس میں یہ معلوم ہوسکے کہ یہ پرچے اندرونی طور پر آؤٹ ہوئے ہیں یا کوئی بیرونی عوامل اس میں ملوث ہیں جبکہ کیمبرج کے ایکزامینیشن کے پورے مرحلے کی جانچ کے لیے حکومت کے ساتھ ملکر ایک تھرڈ پارٹی آڈٹ ضروری ہے جس میں سیکیورٹی کی خامیوں، گریڈنگ کے عمل اور ملکی سطح کے قوانین یا ریگولیشن پر عملدرآمد کا جائزہ لیا جائے۔

کمیٹی نے اس معاملے پر بھی اپنے خدشات کا اظہار کیا ہے کہ حکومت پاکستان اور کیمبرج انٹرنیشنل کے مابین بظاہر کوئی معاہدہ موجود نہیں لہٰذا کیمبرج کو آئی بی سی سی کے ساتھ ایک ریگولیٹری فریم ورک کے دائرے میں ہونا چاہئے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کیمبرج کا فیس اسٹرکچر 60 ہزار روپے تک جا پہنچا ہے جو والدین اور طلبہ پر مالی بوجھ ہے، کیمبرج کو فی پیپر ایکزامینیشن فیس اور اس مد میں نجی اسکولوں و برٹش کونسل کے ساتھ ریونیو شیئرنگ کی تفصیلات سے آگاہ کرنا چاہیے۔

Tagsپاکستان.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: پاکستان قائمہ کمیٹی بجے لیا گیا کمیٹی نے

پڑھیں:

کشمیر عالمی تنازع ہے،داخلی معاملہ نہیں، سلامتی کونسل میں پاکستان کا بھارت کو دوٹوک جواب

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کے مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ جموں و کشمیر نہ بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی اس کا داخلی معاملہ جبکہ بھارت کا امن کا درس دینا حقائق کے منافی اور مضحکہ خیز ہے۔

اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے سلامتی کونسل کے اجلاس میں بھارتی مؤقف کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ بھارت خود مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں لے کر آیا تھا، لیکن آج وہ انہی قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں بدستور جاری ہیں اور کشمیری عوام کو ان کے بنیادی حقوق سے محروم رکھا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت کے انکار سے کشمیر کی بین الاقوامی قانونی حیثیت تبدیل نہیں ہو سکتی۔

پاکستانی قونصلر نے کہا کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، کیونکہ خطے میں کشیدگی بڑھانے اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کے متعدد اقدامات خود بھارت سے منسوب ہیں۔

صائمہ سلیم نےسندھ طاس معاہدے کی معطلی سے متعلق بھارتی فیصلے پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام بین الاقوامی قانون اور معاہدوں کی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دریائے سندھ کا پانی لاکھوں لوگوں کے لیے زندگی کا ذریعہ ہے، اسے کسی صورت جنگ یا دباؤ کے ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔

انہوں نے مزید کہا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورکس کی سرگرمیاں عالمی سطح تک پھیل چکی ہیں، جبکہ بھارت میں ہندوتوا نظریات کے فروغ نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی کی شکل دے دی ہے، جس کے باعث مذہبی اقلیتوں کو سنگین چیلنجز کا سامنا ہے۔

پاکستان نے سلامتی کونسل میں ایک بار پھر اس عزم کا اعادہ کیا کہ جموں و کشمیر کے تنازع کا پائیدار حل صرف اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق ہی ممکن ہے، جبکہ خطے میں امن و استحکام کے لیے بین الاقوامی قوانین اور معاہدوں کا احترام ناگزیر ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کشمیر عالمی تنازع ہے،داخلی معاملہ نہیں، سلامتی کونسل میں پاکستان کا بھارت کو دوٹوک جواب
  • پیٹرولیم قیمتوں کا روزانہ تعین، سینیٹ قائمہ کمیٹی نے وضاحت طلب کر لی
  • حساس معلومات لیک ہونے کا معاملہ، جے ڈی وینس کے قریبی سکیورٹی اہلکار کے خلاف تحقیقات
  • ماہرینِ صحت کی دوپہر کے کھانے میں غذائیت سے بھرپور سلاد کو معمول کا حصہ بنانے کی سفارش
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • پی اے سی کی تمام ڈسکوز کے ملازمین کی تصدیق کی سفارش