سعودی عرب ٹریفک حادثہ، بونیر سے تعلق رکھنے والے ایک ہی خاندان کے 7 عمرہ زائرین جاں بحق
اشاعت کی تاریخ: 26th, July 2025 GMT
سعودی عرب میں مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ جاتے ہوئے عمرہ زائرین کی گاڑی کو پیش آنے والے ایک حادثے میں خیبرپختونخوا کے ضلع بونیر سے تعلق رکھنے والے ایک ہی خاندان کے 7 افراد جاں بحق ہو گئے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ہفتے کے روز پیش آنے والے اس حادثے کے نتیجے میں جاں بحق ہونے والوں میں 4 بچے بھی شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: پاکستانی عمرہ زائرین کے لیے پولیو ویکسینیشن لازمی قرار
جاں بحق افراد کا تعلق بونیر کے علاقے دگئی سے تھا۔ اہل خانہ کے مطابق وہ 11 روز قبل عمرہ کی ادائیگی کے لیے سعودی عرب گئے تھے۔ حادثے میں خاندان کے مزید 5 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں جنہیں مقامی اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
اس واقعے پر گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے جاں بحق افراد کے لواحقین سے تعزیت اور دلی ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم ان کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔ گورنر نے زخمی افراد کی جلد صحتیابی کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار بھی کیا۔
انہوں نے کہا کہ یہ حادثہ انتہائی افسوسناک ہے اور پوری قوم اس دکھ کی گھڑی میں متاثرہ خاندان کے ساتھ کھڑی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بونیر ٹریفک حادثہ زائرین عمرہ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ٹریفک حادثہ خاندان کے کے لیے
پڑھیں:
طالبان رجیم کیخلاف بغاوت؛ ملا ہبت اللہ کا کنٹرول برقرار رکھنے کیلیے نیاحکم جاری
افغان طالبان رجیم کی مرکزی قیادت اور بدخشاں کے مقامی کمانڈروں کے درمیان اختلافات کھل کر سامنے آگئے ہیں۔
طالبان رجیم کے خلاف بغاوت کے اشارے ملنے پر ملا ہبت اللہ کا کنٹرول برقرار رکھنے کے لیے نیا حکم جاری کردیا گیا ہے۔ بدخشاں کے معدنی وسائل پر لڑائی اور عوامی بغاوت کے بعد امیر ہبت اللہ نے حالات کو کنٹرول کرنے کے لیے ایک سخت حکم نامہ جاری کیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق بدخشاں کے ناراض طالبان کمانڈروں اور حکام کے اثاثوں کی تفتیش کے لیے اعلیٰ سطح کا وفد مقرر کردیاگیا ہے۔ طالبان کے سربراہ ملا ہبت اللہ کا حکم نہ ماننے والے مقامی کمانڈروں کو فوراً گرفتار کرنے کی دھمکی دی گئی ہے۔
ذرائع ابلاغ کی رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ بدخشاں میں جاری عوامی احتجاج اور بڑھتی ہوئی اندرونی بغاوت کو دبانے کے لیے خصوصی فوجی دستہ بھی تعینات کر دیاگیا ہے۔ قندھار گروپ نے بدخشاں گروپ کے ناراض طالبان رہنماؤں پر دباو ڈالنے کے لیے گرفتاریاں بھی شروع کر دی ہیں۔ اس دوران مقامی طالبان کمانڈر موسیٰ کاکے اور سابق مائنز ڈائریکٹر اسلام الدین کو گرفتار کرکے نامعلوم مقام پر منتقل کردیاگیا۔
عالمی ماہرین کے مطابق بدخشاں میں جاری لڑائی افغان طالبان کے اندر گہرے ہوتے ہوئے نسلی اور سیاسی اختلافات کا واضح ثبوت ہے۔ طالبان رجیم کیخلاف ملک کے اندر اور باہر شروع ہونے والی نئی تحریکیں،ان کے مکمل کنٹرول اور عوامی حمایت کے جھوٹے دعووں کی پول کھول رہی ہیں۔