بی جے پی حکومت نے سینکڑوں بنگالی نژاد مسلمان ملک بدر کر دیے، ہیومن رائٹس واچ
اشاعت کی تاریخ: 26th, July 2025 GMT
ذرائع کے مطابق ہیومن رائٹس واچ نے کہا کہ جن لوگوں کو بنگلہ دیش بھیجا گیا ان میں سے بیشتر بنگلہ دیش سے متصل بھارتی ریاستوں کے شہری ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ”ہیومن رائٹس“ واچ نے کہا ہے کہ بھارتی حکام نے حالیہ عرصے میں سینکڑوں بنگالی نژاد مسلمانوں کو بغیر کسی قانونی کارروائی کے غیر قانونی تارکین وطن قرار دیا اور انہیں ملک بدر کر کے بنگلہ دیش بھیج دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق ہیومن رائٹس واچ نے کہا کہ جن لوگوں کو بنگلہ دیش بھیجا گیا ان میں سے بیشتر بنگلہ دیش سے متصل بھارتی ریاستوں کے شہری ہیں۔ ایچ آر ڈبلیو اور انسانی حقوق کی کئی دیگر تنظیموں نے انکشاف کیا ہے کہ رواں برس مئی سے ہندو قوم پرست بھارتیہ جنتا پارٹی کی زیر قیادت حکومت نے بنگالی مسلمانوں کو بنگلہ دیش بھیجنے کی کارروائی تیز کر دی ہے۔ ایک بھارتی اردو اخبار روزنامہ ”منصف“ کی خبر میں کہا گیا ہے کہ ہیومن رائٹس واچ نے زور دیکر کہا ہے کہ بی جے پی حکومت کے یہ اقدامات قانونی تقاضوں کی خلاف ورزی اور امتیازی سلوک کے مترادف ہیں۔ تنظیم کی ایشیائی امور کی ڈائریکٹر ایلن پیئرسن Elaine Pearson نے کہا کہ بھارت کی حکمران جماعت بی جے پی بھارتی مسلمانوں کیخلاف امتیاز کو ہوا دے رہی ہے اور بنگالی مسلمانوں کو بغیر کسی قانونی جواز کے بے دخل کر رہی ہے۔
ہیومن رائٹس واچ نے جون میں اٹھارہ افراد کے انٹرویو کیے جن میں متاثرہ افراد اور ان کے اہلخانہ شامل تھے۔ انسانی حقوق کی تنظیم نے بھارتی وزارت داخلہ کو 8 جولائی کو بنگالی نژاد مسلمانوں کی بلاجواز بے دخلی کے بارے میں لکھا لیکن اس نے تاحال کوئی جواب نہیں دیا ہے، بھارت نے بے دخل کیے گئے افراد کی تعداد بھی نہیں بتائی تاہم بنگلہ دیشی بارڈر گارڈز کے مطابق 7 مئی سے 15 جون کے درمیان 15سو سے زائد مسلم مرد، خواتین اور بچوں کو بنگلہ دیشن کے اندر دھکیلا گیا۔ آسام، اترپردیش، مہاراشٹر، گجرات، اڈیسہ، راجستھان جیسی بی جے پی کی زیر قیادت ریاستوں میں بنگالی بولنے والے غریب مسلمان مزدوروں کو گرفتار کیا گیا اور بغیر شہریت کی تصدیق کے بنگلہ دیش بھیج دیا گیا، کئی لوگوں کے فون، شناختی دستاویزات اور دیگر سامان ضبط کیا گیا۔
ریاست آسام کے ایک استاد خیر الاسلام نے بتایا کہ 26مئی کو ان کے ہاتھ باندھ کر اور منہ بند کر کے 14 افراد کے ساتھ زبردستی سرحد پار بھیجا گیا۔ انہوں نے کہا کہ جب میں نے جانے سے انکار کیا تو بی ایس ایف کے ایک اہلکار نے مجھے مارا اور ڈرانے دھمکانے کیلئے چار بار ہوا میں گولیاں چلائیں۔ بی جے پی حکومت نے مئی میں آسام کی ایک جیل سے 100روہنگیا پناہ گزینوں کو بھی بنگلہ دیش بھیجا۔ بنگلہ دیش کی وزارت خارجہ نے 8 مئی کو بھارت کو ایک خط لکھا جس میں زبردستی دھکیلے جانے والے افراد کو ناقابل قبوں قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ صرف ان لوگوں کو قبول کیا جائے گا جو باضابطہ طور پر تصدیق شدہ بنگلہ دیشی شہری ہوں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ہیومن رائٹس واچ نے کو بنگلہ دیش نے کہا کہ بی جے پی
پڑھیں:
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی کارروائیاں تیز، ہزاروں کشمیریوں کی گرفتاریاں، سرچ آپریشن جاری
بھارتی غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر میں بھارتی فوج، نیم فوجی دستوں اور پولیس نے کریک ڈاؤن مزید سخت کرتے ہوئے وادی کے مختلف علاقوں میں بڑے پیمانے پر کارڈن اینڈ سرچ آپریشنز ، گھروں پر چھاپوں اور شہریوں کی تلاشی کی کارروائیاں جاری رکھی ہوئی ہیں۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارتی فوج، نیم فوجی فورسز اور پولیس اہلکاروں نے سرینگر، اسلام آباد (اننت ناگ)، بڈگام، بارہمولہ، بانڈی پورہ، گاندربل، پلوامہ، کولگام، شوپیاں اور سوپور میں حریت رہنماؤں اور کارکنوں کے گھروں پر تلاشی کی کارروائیاں کیں۔
رپورٹ کے مطابق بھارتی فورسز نے وادی کشمیر کے مختلف علاقوں میں شہریوں کی جامہ تلاشی لینے کے ساتھ ساتھ اضافی چیک پوسٹس بھی قائم کر دی ہیں۔
یہ سخت سیکیورٹی اقدامات ایسے وقت میں کیے جا رہے ہیں جب ایک روز قبل بھارتی فورسز نے مقبوضہ کشمیر بھر میں بڑے پیمانے پر چھاپوں کے دوران 2 رہائشی مکانات مسمار کیے تھے اور تقریباً 3 ہزار 500 کشمیریوں کو گرفتار کیا تھا۔
بھارتی پولیس نے گرفتار افراد کو مبینہ طور پر اوور گراؤنڈ ورکرز قرار دیا ہے، جبکہ انہیں مختلف حراستی مراکز میں منتقل کر کے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق گھروں پر چھاپوں اور تلاشی کی کارروائیوں کے دوران بھارتی اہلکاروں نے متعدد علاقوں میں اہلِ خانہ کو ہراساں کیا، گھریلو سامان کو نقصان پہنچایا اور مقامی آبادی میں خوف و ہراس پھیلا دیا۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ لوگوں اور گاڑیوں کی نقل و حرکت پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے، جبکہ اہم شاہراہوں، مرکزی سڑکوں اور شہروں کے داخلی راستوں پر اضافی چیک پوسٹس قائم کر دی گئی ہیں۔
بھارتی فوجی گاڑیوں کی مکمل تلاشی لے رہے ہیں، جن میں کاروں کے ڈِگی، موٹر سائیکلیں اور دیگر دو پہیہ گاڑیاں بھی شامل ہیں، جبکہ راہ گیروں کی جامہ تلاشی خصوصاً سرینگر، اسلام آباد (اننت ناگ)، بارہمولہ، بڈگام، پلوامہ، کولگام اور شوپیاں اضلاع میں سخت کر دی گئی ہے۔
سی آر پی ایف سرینگر سیکٹر کے ترجمان نے بتایا کہ پوری وادی میں سیکیورٹی کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے، نگرانی کا نظام مزید سخت کیا گیا ہے، چیک پوسٹس میں اضافہ کیا گیا ہے اور سرچ آپریشنز کا دائرہ وسیع کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب سرینگر پولیس کے ایک اہلکار نے بھی تصدیق کی ہے کہ وادی بھر میں مربوط چھاپہ مار کارروائیاں، تلاشی مہم اور سیکیورٹی آپریشن بدستور جاری ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بھارتی فوج مقبوضہ کشمیر