شاہراہ بابوسر پر مواصلاتی نظام بحال، 8 مقامات سے سیلابی ملبہ ہٹا دیا گیا
اشاعت کی تاریخ: 27th, July 2025 GMT
ترجمان صوبائی حکومت کے مطابق امید ہے شاہراہ بابوسر پر لاپتہ افراد کی تعداد بہت کم نکلے گی، اگلے 72 گھنٹے تک شاہراہ بابوسر کو بحال کرنے کی امید ہے۔ بلتستان، گلگت اور دیامر میں ریلیف اور ریسکیو آپریشن میں تیزی لائی گئی ہے، اسلام ٹائمز۔ شاہراہ بابوسر پر ایس سی او کے تعاون سے مواصلاتی نظام بحال کر دیا گیا۔ ترجمان صوبائی حکومت کے مطابق شاہراہ بابوسر پر 8 مقامات سے سیلابی ملبہ ہٹا کر کھومل کے مقام تک سڑک بحال کر دی گئی۔ گانچھے میں سیلاب سے بڑی تباہی ہوئی ہے، 49 گھر تباہ ہوئے ہیں، شاہراہ بابوسر پر اب تک صرف 2 لاپتہ افراد کے لواحقین نے حکومت سے رابطہ کیا ہے۔
ترجمان صوبائی حکومت کے مطابق امید ہے شاہراہ بابوسر پر لاپتہ افراد کی تعداد بہت کم نکلے گی، اگلے 72 گھنٹے تک شاہراہ بابوسر کو بحال کرنے کی امید ہے۔ بلتستان، گلگت اور دیامر میں ریلیف اور ریسکیو آپریشن میں تیزی لائی گئی ہے، فیری میڈوز میں پھنسے زیادہ تر سیاحوں کو ریسکیو کیا جا چکا ہے۔ ترجمان صوبائی حکومت کے مطابق ریسکیو و ریلیف آپریشن میں ڈیزاسٹر مینجمنٹ ٹیموں، انتظامیہ، ٹورسٹ پولیس، عوام اور افواج پاکستان شامل ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ترجمان صوبائی حکومت کے مطابق شاہراہ بابوسر پر امید ہے
پڑھیں:
وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی
اسلام آباد،وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال (mustafa kamal)نے کہا ہے کہ وفاقی کابینہ نے ملک بھر میں ادویات پر ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی باضابطہ منظوری دے دی ہے۔
اس سلسلے میں ڈرگ لیبلنگ اینڈ پیکنگ رولز 1978 میں ضروری ترامیم کی بھی منظوری دے دی گئی ہے۔منگل کو جاری بیان کے مطابق وفاقی وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ فیصلہ پاکستان میں جعلی ادویات کے خاتمے کی جانب ایک بڑا اور تاریخی قدم ہے۔
پہلی بار ملک میں ہر دوا کو ڈیجیٹل طریقے سے ٹریک اور ویریفائی کیا جا سکے گا، جس سے جعلی، غیر معیاری اور نقلی ادویات کی مؤثر نشاندہی اور ان کے خاتمے میں مدد ملے گی۔
انہوں نے کہا کہ نئے نظام کے نفاذ کے بعد عام صارفین باآسانی دوا کی میعادِ استعمال، قیمت اور دیگر اہم معلومات کی مستند تصدیق کر سکیں گے، جس سے عوام کا ادویات کے نظام پر اعتماد مزید مضبوط ہوگا۔
مصطفیٰ کمال نے بتایا کہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان اس جدید نظام کو ملک بھر میں نافذ کرے گی۔ نئے قواعد کے تحت تمام دوا ساز کمپنیوں اور درآمد کنندگان کے لیے لازم ہوگا کہ وہ ہر دوا کے پیک پر معیاری ٹو ڈی بارکوڈ اور سیریلائزیشن ڈیٹا درج کریں۔
وفاقی وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ اہم اقدام پاکستان میں ادویات کی سپلائی چین کو محفوظ، شفاف اور معیاری بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔
حکومت ادویات کے شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے اور ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ سے جعلی ادویات کے خلاف ایک مضبوط اور مؤثر دیوار قائم ہوگی۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان جدید ٹیکنالوجی کے استعمال میں خطے کے نمایاں ممالک میں شامل ہوگا۔ اس نظام کے ذریعے نگرانی کے روایتی طریقوں کی جگہ جدید ڈیجیٹل نظام لے گاجس سے عوام کی صحت، زندگی اور اعتماد کا مکمل تحفظ یقینی بنایا جا سکے گا۔
مزید پڑھیں:میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
وفاقی وزیرِ صحت کے مطابق ڈریپ کی جانب سے صنعت کو سہولت فراہم کرنے کے لیے جلد تکنیکی رہنما اصول جاری کیے جائیں گے، جبکہ متعلقہ فریقین کے ساتھ مشاورتی اجلاس بھی منعقد کیے جا چکے ہیں تاکہ نظام کے مؤثر اور مرحلہ وار نفاذ کو یقینی بنایا جا سکے۔