شاہراہ بابوسر پر مواصلاتی نظام بحال، 8 مقامات سے سیلابی ملبہ ہٹا دیا گیا
اشاعت کی تاریخ: 26th, July 2025 GMT
ترجمان صوبائی حکومت کے مطابق امید ہے شاہراہ بابوسر پر لاپتہ افراد کی تعداد بہت کم نکلے گی، اگلے 72 گھنٹے تک شاہراہ بابوسر کو بحال کرنے کی امید ہے۔ بلتستان، گلگت اور دیامر میں ریلیف اور ریسکیو آپریشن میں تیزی لائی گئی ہے، اسلام ٹائمز۔ شاہراہ بابوسر پر ایس سی او کے تعاون سے مواصلاتی نظام بحال کر دیا گیا۔ ترجمان صوبائی حکومت کے مطابق شاہراہ بابوسر پر 8 مقامات سے سیلابی ملبہ ہٹا کر کھومل کے مقام تک سڑک بحال کر دی گئی۔ گانچھے میں سیلاب سے بڑی تباہی ہوئی ہے، 49 گھر تباہ ہوئے ہیں، شاہراہ بابوسر پر اب تک صرف 2 لاپتہ افراد کے لواحقین نے حکومت سے رابطہ کیا ہے۔
ترجمان صوبائی حکومت کے مطابق امید ہے شاہراہ بابوسر پر لاپتہ افراد کی تعداد بہت کم نکلے گی، اگلے 72 گھنٹے تک شاہراہ بابوسر کو بحال کرنے کی امید ہے۔ بلتستان، گلگت اور دیامر میں ریلیف اور ریسکیو آپریشن میں تیزی لائی گئی ہے، فیری میڈوز میں پھنسے زیادہ تر سیاحوں کو ریسکیو کیا جا چکا ہے۔ ترجمان صوبائی حکومت کے مطابق ریسکیو و ریلیف آپریشن میں ڈیزاسٹر مینجمنٹ ٹیموں، انتظامیہ، ٹورسٹ پولیس، عوام اور افواج پاکستان شامل ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ترجمان صوبائی حکومت کے مطابق شاہراہ بابوسر پر امید ہے
پڑھیں:
سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔
’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
مزید :