اسلام آباد میں ’’گدھے کے گوشت‘‘ کی فروخت کا معاملہ، سوشل میڈیا پر میمز کا طوفان
اشاعت کی تاریخ: 28th, July 2025 GMT
اسلام آباد کے ریسٹورنٹس میں گدھے کے گوشت کی فروخت کا انکشاف ہونے کے بعد سوشل میڈیا پر میمز اور مزاحیہ تبصروں کا طوفان اٹھ کھڑا ہوا ہے۔
یاد رہے کہ کچھ برس قبل لاہور میں گدھے کا گوشت ہوٹلوں میں فروخت ہونے کی خبر نے پورے پاکستان میں تہلکہ مچا دیا تھا۔ تب سے لے کر آج تک لاہور والے ’’گدھا گوشت پارٹی‘‘ کے طعنے سہتے آرہے ہیں۔ لیکن اب ایسا لگتا ہے کہ لاہور اس ’’اعزاز‘‘ میں تنہا نہیں رہا کیونکہ اسلام آباد بھی اسی فہرست میں شامل ہوچکا ہے!
تازہ ترین خبروں کے مطابق اسلام آباد کے علاقے ترنول میں فوڈ اتھارٹی نے 25 ٹن گدھے کا گوشت پکڑ لیا جو مختلف ہوٹلوں اور ریسٹورنٹس کو سپلائی کیا جانا تھا۔ اس انکشاف نے عوام کو شدید حیران ہی نہیں بلکہ ششدر کردیا ہے۔ سوشل میڈیا پر عوام نے جہاں افسوس کا اظہار کیا، وہیں طنز و مزاح کا دروازہ بھی کھول دیا۔
گدھوں کے گوشت کی خبر پر ردعمل میں سوشل میڈیا پر ایک طوفان برپا ہے۔ کچھ دلچسپ تبصرے پڑھیے: ایک صارف نے لکھا ’’مبارک ہو، اب اسلام آباد بھی لاہور بن چکا ہے!‘‘، ایک اور کمنٹ میں کہا گیا ’’اب لاہور والوں کو کچھ مت کہنا، اسلام آباد نے بھی گدھا گوشت کھا لیا‘‘، جبکہ ایک تیسرے صارف نے شاندار ترکیب پیش کی کہ ’’اسلام آباد والوں کےلیے نئی ڈش: گدھا شنواری تیار کریں!‘‘
جب سے پاکستان میں اس غیر معمولی گوشت‘‘ کا کاروبار بے نقاب ہوا ہے، عوام ہوٹل اور ریسٹورنٹس کوشک کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ لاہور کی طرح اب اسلام آباد بھی اس مذاق کا حصہ بن چکا ہے۔ سوشل میڈیا صارفین نے تو یہاں تک کہنا شروع کردیا ہے کہ ’’ہوٹلوں میں نہ پوچھو کون سا گوشت ہے، پوچھو کہ کیا گوشت گدھے کا تو نہیں ہے؟‘‘
اس خبر نے جہاں لوگوں کو تشویش میں مبتلا کیا، وہیں طنز و مزاح کا نیا در کھول دیا ہے۔ عوام یہ سوال کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں کہ ہوٹلوں میں دیسی کھانے کے ساتھ گوشت بھی دیسی ہے یا کسی اور نسل کا؟
اگر آپ اسلام آباد کے کسی ریسٹورنٹ میں کھانا کھانے جارہے ہیں، تو ہوسکتا ہے کہ آپ کی پلیٹ میں ’’خالص گدھا گوشت‘‘ ہو… یا پھر کم از کم سوشل میڈیا پر یہی سمجھا جائے!
TagsShowbiz News Urdu.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: سوشل میڈیا پر اسلام آباد
پڑھیں:
اسلام آباد ہائیکورٹ: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ
اسلام آباد:اسلام آباد ہائیکورٹ نے متنازع ٹویٹس کیس میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی کی درخواستوں کے قابلِ سماعت ہونے سے متعلق فیصلہ محفوظ کر لیا۔
جسٹس اعظم خان نے کیس کی سماعت کی، عدالت میں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے وکیل نے سزا معطلی کی درخواستوں پر اعتراض اٹھاتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ یہ درخواستیں قبل از وقت دائر کی گئی ہیں، اس لیے انہیں قابلِ سماعت قرار نہ دیا جائے۔
این سی سی آئی اے کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ پہلے ان کی متفرق درخواست کو سنا جائے، اگر دوسری متفرق درخواست پہلے سنی گئی تو ہماری درخواست غیرموثر ہو جائے گی۔
دورانِ سماعت ایمان مزاری کے وکیل فیصل صدیقی نے عدالت کو بتایا کہ وہ اس متفرق درخواست پر دلائل دینے کے لیے تیار ہیں اور اگر عدالت مناسب سمجھے تو دونوں درخواستوں کو ایک ساتھ سنا جا سکتا ہے۔
جسٹس اعظم خان نے ریمارکس دیے کہ وکیل پہلے مکمل تیاری کر لیں، یہ ان کے مؤکل کے حقوق کے لیے بہتر ہوگا، جس پر فیصل صدیقی نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ اپنے حقوق چھوڑتے ہوئے دلائل دینے کے لیے تیار ہیں۔
فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا۔