کراچی، ڈاکوؤں کی فائرنگ سے ہوٹل ملازم جاں بحق
اشاعت کی تاریخ: 29th, July 2025 GMT
کراچی کے علاقے گلزار ہجری میں ڈکیتی مزاحمت پر فائرنگ سے ایک اور شہری جاں بحق ہوگیا، مقتول چار بچوں کا باپ، عمر کوٹ کا رہائشی اور کراچی میں چائے کے ہوٹل پر ملازمت کرتا تھا.
پولیس کے مطابق موٹر سائیکل پر سوار دو ملزمان شہریوں سے لوٹ مار کرکے فرار ہورہے تھے کہ ملزمان نے فائرنگ شروع کردی فائرنگ کی زد میں آکر 36 سال کا کریم جاں بحق ہوگیا۔
مقتول کریم چائے کے ہوٹل پر گزشتہ تین سال سے ملازمت کر رہا تھا اور پندرہ سال قبل کراچی آیا تھا، وہ چار بچوں کا باپ تھا۔
پولیس کے مطابق واقعے میں ملوث دو ڈاکوؤں کو پولیس مقابلے کے بعد زخمی حالت میں گرفتار کرکے اسلحہ موٹر سائیکل اور چھینا گیا سامان برآمد کرلیا گیا ہے، ملزمان کے دیگر ساتھیوں کی تلاش جاری ہے۔
دوسری جانب ایک اور واقعے میں گلشن اقبال پولیس کے روکنے پر ملزمان نے فائرنگ کردی۔
پولیس کی جوابی کارروائی میں دونوں ملزمان زخمی ہوگئے، گرفتار زخمی ملزمان سے اسلحہ اور چھینے گئے چار موبائل فون برآمد کرلیے گئے۔
واضح رہے کہ رواں سال اب تک 54 شہری ڈاکوؤں کے ہاتھوں قتل ہوچکے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
سٹی کورٹ: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں تفتیش مکمل کر کے رپورٹ پیش کرنے کا حکم
کراچی کی سٹی کورٹ میں ڈاکٹر آکاش قتل کیس کی سماعت کے دوران عدالت نے پولیس کو مقدمے کی تفتیش مکمل کر کے رپورٹ پیش کرنے کا حکم جاری کر دیا۔
پولیس کے مطابق ایس آئی یو ویسٹ نے ڈاکٹر آکاش کے قتل میں ملوث ملزمان کے خلاف مزید کارروائی کرتے ہوئے تین افراد، سریش عرف ساگر، انیل اور رام چند کے قتل کا مقدمہ اسلم پہنور اور اس کے ساتھیوں کے خلاف درج کر لیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اسلم پہنور ایک ڈکیت گروہ کا سرغنہ ہے۔
پولیس کے مطابق ملزمان نے پولیس پارٹی پر فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں زیر حراست تین ملزمان اور ایک ہیڈ کانسٹیبل زخمی ہو گئے۔ بعد ازاں زیر حراست تینوں ملزمان اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہو گئے، جبکہ زخمی ہیڈ کانسٹیبل کو اسپتال منتقل کر دیا گیا جہاں اس کا علاج جاری ہے۔
واضح رہے کہ ڈاکٹر آکاش کو بینک سے رقم لے کر جاتے ہوئے قتل کیا گیا تھا۔ پولیس نے اس کیس میں تین ملزمان کو گرفتار کیا تھا، جو دوران حراست ہلاک ہو گئے۔