کراچی، سچل گلزار ہجری میں ڈکیتی مزاحمت پر فائرنگ سے شدید زخمی شہری دم توڑ گیا
اشاعت کی تاریخ: 29th, July 2025 GMT
کراچی:
شہر قائد میں ایسٹ زون کے علاقے ڈسٹرکٹ ایسٹ گلزار ہجری اسکیم 33 ختم نبوت چوک کے قریب ڈکیتی مزاحمت پر ڈاکوؤں کی فائرنگ سے شدید زخمی شہری نے دوران علاج زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ دیا۔
رواں سال ڈاکوؤں کی فائرنگ سے جاں بحق شہریوں کی تعداد 55 ہوگئی اس حوالے سے ایس ایچ او سچل امین کھوسہ کے مطابق مقول کی شناخت 36 سالہ محمد کریم ولد محمد خمیسو کے نام سے کی گئی جسے ڈاکوؤں نے لوٹ مار کے دوران مزاحمت پر فائرنگ کر کے زخمی کیا تھا۔
مقتول کی لاش ضابطے کی کارروائی کے لیے عباسی شہید اسپتال منتقل کر دی گئی ہے جبکہ ترجمان کراچی پولیس کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق مبینہ ٹاؤن پولیس کے ہاتھوں گلشن اقبال میٹروول تھرڈ میں مقابلے کے دوران زخمی حالت میں گرفتار دونوں ڈاکوؤں کو گلزار ہجری میں لوٹ مار کا نشانہ بننے والے دیگر شہریوں نے مبینہ طور پر ڈاکوؤں کو شناخت کرلیا۔
جس کی بنیاد پر پولیس گرفتار ڈاکوؤں سے واقعے کی مزید معلومات حاصل کر رہی ہے جس کے بعد مزید قانونی کارروائی عمل میں لائی جائیگی ۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ڈاکوو ں
پڑھیں:
اٹلی میں 4 پاکستانیوں کو وین میں بند کرکے جلاکر قتل کردیا گیا، پاکستانی ہی قاتل نکلے، 2 ملزم گرفتار
روم ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) اٹلی کے جنوبی علاقے میں 4 پاکستانی کھیت مزدوروں کو ایک منی وین کے اندر مبینہ طور پر زندہ جلا کر قتل کر دیا گیا، اطالوی پولیس نے اس وحشیانہ قتل کے الزام میں 2 پاکستانی شہریوں کو گرفتار کرلیا۔ اطالوی اخبار کوریئر ڈیلا سیرا (Corriere della Sera) کے حوالے سے رپورٹ کیا گیا ہے کہ اٹلی کے جنوبی علاقے کلابریا میں ایک پیٹرول پمپ کے قریب ایک جلی ہوئی منی وین سے چار پاکستانی کارکناں کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں، اطالوی پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ان مقتولین کے قتل کے شبہے میں 2 پاکستانی باشندوں کو حراست میں لے لیا، اطالوی پولیس نے گرفتار دونوں پاکستانی ملزمان کو ریمانڈ پر لے کر ان سے تفتیش شروع کر دی تاکہ اس گینگ اور دیگر سہولت کاروں کا پتہ لگایا جا سکے۔(جاری ہے)
بتایا گیا ہے کہ یہ ہولناک واقعہ کلابریا کے ایک وسیع زرعی علاقے میں واقع گاؤں امینڈولارا کے قریب ایک پیٹرول اسٹیشن پر پیش آیا، پیٹرول پمپ پر لگے سی سی ٹی وی کیمروں کی تصاویر نے اس سفاکیت کو بے نقاب کیا، قانون نافذ کرنے والے اداروں نے فوٹیج میں دیکھا کہ دو افراد نے باہر سے منی وین کے دروازوں کو بلاک کر دیا تاکہ اندر موجود لوگ باہر نہ نکل سکیں۔ معلوم ہوا ہے کہ دروازے بند کرنے کے بعد ان افراد نے گاڑی کے اندر کوئی آتش گیر مائع پٹرول یا کیمیکل پھینکا، مائع پھینکتے ہی گاڑی میں خوفناک آگ بھڑک اٹھی اور دونوں ملزمان موقع سے فرار ہو گئے، فائر فائٹرز نے موقع پر پہنچ کر جب آگ پر قابو پایا تو گاڑی کے اندر سے چاروں پاکستانیوں کی جھلسی ہوئی لاشیں برآمد ہوئیں، مقامی پولیس چیف انتونیو بوریلی نے تصدیق کی کہ یہ یقینی طور پر قتل کا معاملہ ہے، ہمیں بس اب اس کی مزید تفصیلات اور تانے بانے معلوم کرنے ہیں۔ بتایا جارہا ہے کہ یہ علاقہ گزشتہ چند ماہ سے تارکینِ وطن کے درمیان شدید کشیدگی کا مرکز بنا ہوا تھا، اس زرعی علاقے میں غیر ملکیوں اور خاص طور پر پاکستانیوں کے درمیان کھیتوں میں کام کی تقسیم، رہائشی کاغذات اور رہائش گاہوں کے مسائل پر شدید اختلافات چل رہے ہیں، حالیہ مہینوں میں اسی علاقے کے اندر پاکستانیوں کو لے جانے والی کاروں اور منی وینز کو آگ لگانے کے 14 واقعات پہلے بھی رپورٹ ہو چکے ہیں، جن کا انجام اب اس ہولناک ڈبل مرڈر کی صورت میں سامنے آیا۔