مدت ملازمت میں توسیع کے تمام دروازے بند ہونے کے بعد ڈاکٹر مختار کا چیئرمین ایچ ای سی کا عہدہ چھوڑنے کا اعلان WhatsAppFacebookTwitter 0 29 July, 2025 سب نیوز

اسلام آباد(سب نیوز)چیئرمین اعلی تعلیمی کمیشن آف پاکستان نے مدت ملازمت میں توسیع کے تمام دروازے بند ہونے کے بعد عہدہ چھوڑنے کا اعلان کردیا ہے۔یہ اعلان انھوں نے ملک بھر کی جامعات کے وائس چانسلرز/ریکٹرز کو لکھے گئے خط میں کیا ہے، واضح رہے کہ منگل 29 جولائی کو ڈاکٹر مختار احمد کی 1 سالہ توسیع شدہ مدت پوری ہوگئی۔اس سے قبل وہ دو سال کی مدت اور قبل 4 سالہ مدت بھی گزار چکے تھے۔
ادھر ذرائع کا کہنا ہے کہ بحیثیت رکن ایچ ای سی کمیشن وفاقی سیکریٹری تعلیم کو چیئرمین کا عارضی چارج ملنے کے امکان ہے تاہم اب تک نئے چیئرمین کی تقرری کے سلسلے میں اشتہار جاری نہیں ہوسکا ہے۔ادھر اپنی مدت ملازمت کے آخری روز ڈاکٹر مختار احمد کی جانب سے وائس چانسلرز/ریکٹرز کو لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ یہ خط ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی)کے چیئرپرسن کے طور پر میری مدت ملازمت ختم ہونے پر لکھ رہا ہوں۔
انہوں نے لکھا کہ اس موقع کو اعلی تعلیمی برادری کی طرف سے ملنے والے تمام تعاون کے لیے تہہ دل سے شکریہ اور ساتھیوں کو ایک روشن مستقبل کے لیے نیک تمناوں کے ساتھ الوداع کررہا ہوں۔تین سال قبل پاکستان کے وزیر اعظم نے دوسری بار اس انتہائی اہم شعبے کی قیادت کی بھاری ذمہ داری سونپ کر مجھ پر اعتماد کا اظہار کیا۔
انھوں نے خط میں دعوی کیا کہ اعلی تعلیم کو بہت بڑے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا جب کہ کمیونٹی اپنی صفوں میں تقسیم کا شکار تھی جبکہ اس کے بعد کے تین سال بھی مختلف نہیں تھے، اور شعبے کی تیزی سے توسیع کے درمیان مالیاتی جگہ، گورننس کی حدود، اور معیار کی بہتری نے میرے کام کو اور بھی مشکل بنایا۔لیکن آپ کی غیر مشروط حمایت اور کمیشن اراکین کی رہنمائی کے ساتھ، میں یہ بتاتے ہوئے فخر اور خوشی محسوس کر رہا ہوں کہ میں ایک مثبت ضمیر کے ساتھ یہ عہدہ چھوڑ رہا ہوں۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرقائداعظم یونیورسٹی ہاسٹلز خالی نہ کرنیوالے متعدد طلبہ گرفتار، یونیورسٹی کا موقف بھی جاری قائداعظم یونیورسٹی ہاسٹلز خالی نہ کرنیوالے متعدد طلبہ گرفتار، یونیورسٹی کا موقف بھی جاری ہیومن رائٹس کمیشن کا تنخواہ دار طبقے کیلئے کم از کم اجرت 75ہزار روپے مقرر کرنے کا مطالبہ وزیراعظم نے پاک بزنس ایکسپریس کا افتتاح کردیا، ٹرین کا کرایہ کتنا ہوگا؟ الیکشن کمیشن نے ایم این اے عبداللطیف چترالی کو نا اہل قرار دیدیا وفاقی وزیر ڈاکٹر مصدق ملک سے ایتھوپین سفیر کی ملاقات، سبز منصوبوں اور ماحولیاتی تعاون پر تبادلہ خیال زائرین کیلئے چہلم امام حسین پر زمینی رستوں پر پابندی کے خلاف ایم ڈبلیو ایم کا ملک گیر احتجاج کا اعلا ن TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: ڈاکٹر مختار مدت ملازمت ایچ ای سی توسیع کے کے بعد

پڑھیں:

مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج

طالب علم نے سوال کیا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی ہوئی تو ہمارے مستقبل کی ذمہ داری کون لے گا، ہم صرف حکومت، ضلعی انتظامیہ اور عدالت سے اپیل کررہے ہیں کہ ہماری یونیورسٹی کو نہ گرایا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ انتظامیہ نے جوہر یونیورسٹی کی 40 میں سے 38 عمارتوں کو منہدم کرنے کے احکامات جاری کئے ہیں۔ یونیورسٹی میں زیر تعلیم اور فارغ طلباء ان احکامات کی مخالفت میں سڑکوں پر آگئے ہیں۔ یونیورسٹی کے روبرو گزشتہ کئی دن سے طلباء احتجاج کررہے ہیں۔ احتجاج میں شریک بی اے ایل ایل بی کی تیسرے سال کی طالبہ لائبہ نے کہا کہ تمام طلبہ اپنے پرامن مظاہرے کو لے کر متحد ہیں اور جب تک ان کی اپیل کی سماعت نہیں ہو جاتی اپنا دھرنا جاری رکھیں گے۔ لائبہ نے کہا "یہ بلڈوزر صرف یونیورسٹی کی عمارتوں پر نہیں چلے گا، یہ ہمارے مستقبل، ہمارے خوابوں اور ہماری ڈگریوں کو کچل دے گا"۔ طالبہ نے زور دے کر کہا "ہر مسئلے کا حل ہوتا ہے لیکن یونیورسٹی کو گرانا اس کا حل نہیں ہے"۔ لائبہ نے بتایا کہ طلباء کا ابتدائی مطالبہ کونسلنگ کیمپ کو ہٹانے کا تھا، انتظامیہ نے اس کی درخواست پوری کر دی ہے۔

اب ان کی بنیادی فکر یونیورسٹی کی عمارتوں کو برقرار رکھنے کو یقینی بنانا ہے تاکہ ان کی تعلیم میں خلل نہ پڑے۔ ایک طالبہ نے کہا کہ بہت سے والدین نے یونیورسٹی کے نظام اور ماحول پر بھروسہ کرتے ہوئے اپنی بیٹیوں کا داخلہ یہاں کرایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی کی گئی تو سب سے زیادہ نقصان ان طلبہ کا ہوگا جن کے اہل خانہ انہیں دوسرے شہر بھیجنے کو تیار نہیں۔ ایک طالب علم نے کہا "میں فی الحال اپنے تیسرے سال میں ہوں، پہلے ہی دو سال کی تعلیم مکمل کر چکا ہوں"۔ طالب علم نے سوال کیا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی ہوئی تو ہمارے مستقبل کی ذمہ داری کون لے گا، ہم صرف حکومت، ضلعی انتظامیہ اور عدالت سے اپیل کر رہے ہیں کہ ہماری یونیورسٹی کو نہ گرایا جائے۔ فی الحال طلباء کا احتجاج جاری ہے کیونکہ وہ ضلعی انتظامیہ اور عدالت کے فیصلوں کا انتظار کر رہے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ انتظامیہ اس معاملے میں کیا فیصلہ کرے گی اور طلبہ کی جذباتی اپیل کے جواب میں کیا اقدامات کیے جائیں گے۔

دوسری جانب طلباء کی اس تحریک کو سماجوادی پارٹی کا ساتھ مل رہا ہے۔ امروہہ صدر کے ایس پی ایم ایل اے، سابق کابینہ وزیر، اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے موجودہ چیئرمین محبوب علی کو رام پور پہنچنے سے پہلے ہی پولیس نے جمعرات کو ان کی امروہہ کی رہائش گاہ پر روک لیا۔ اس کارروائی سے ایس پی کارکنوں میں خاصی ناراضگی پھیل گئی۔ حامیوں کی ایک بڑی تعداد ان کے گھر کے باہر احتجاج کے لیے جمع ہوئی اور حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ محبوب علی نے الزام لگایا کہ وہ جمعرات کو صبح 11 بجے کے قریب اپنے حامیوں کے ساتھ رام پور کے لیے روانہ ہونے والے تھے۔ ان کا منصوبہ تھا کہ وہ رات 12 بجے تک جوہر یونیورسٹی پہنچ جائیں گے۔ تاہم امروہہ پولیس اس سے پہلے ہی ان کی رہائش گاہ پر پہنچ گئی اور انہیں باہر نکلنے سے روک دیا۔

انہوں نے کہا کہ انہیں بغیر کوئی واضح وجہ بتائے اپنا گھر چھوڑنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا گیا۔ اس کارروائی کو جمہوری حقوق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے، ایس پی ایم ایل اے نے کہا کہ حکومت سیاسی مخالفین کی آوازوں کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی نمائندے کو پرامن سفر کرنے اور اپنے خیالات کا اظہار کرنے سے روکنا جمہوری نظام کے لیے نامناسب ہے۔ کارکنوں نے اس کارروائی کے خلاف احتجاج کیا اور حکومت کے خلاف نعرے لگائے اور اسے سیاسی انتقام کی کارروائی قرار دیا۔ صورتحال کو دیکھتے ہوئے پولیس کی بھاری نفری رہائش گاہ کے باہر متعین کر دی گئی تاکہ رونما ہونے والے واقعات پر نظر رکھی جا سکے۔

اس دوران محبوب علی نے بھی جوہر یونیورسٹی کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی کی 38 عمارتوں کو گرانے کے مجوزہ اقدام کو فوری طور پر روکا جانا چاہیئے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس پورے معاملے کا غیر جانبدارانہ اور شفاف جائزہ لیا جائے، اس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ تمام متعلقہ فریقین کو اپنا کیس پیش کرنے کا پورا موقع دیا جائے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی انتظامی یا قانونی کارروائی یونیورسٹی میں زیر تعلیم طلباء کو سب سے زیادہ متاثر کرتی ہے۔ اس لئے ان کی پڑھائی، امتحانات اور دیگر تعلیمی سرگرمیوں میں کسی بھی طرح رکاوٹ نہیں ڈالی جانی چاہیئے، کیونکہ کہ یہ صرف عمارتوں کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ ہزاروں طلباء کے مستقبل کا سوال ہے۔

متعلقہ مضامین

  • نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار 3 ڈاکو ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک 
  •  230 سے زائد پی ٹی آئی رہنماؤں  کارکنوں کی عبوری ضمانت میں توسیع
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • میڈ اِن پاکستان الیکٹرک گاڑی کی مارکیٹ میں آمد جلد متوقع، بی وائی ڈی نے اہم اعلان کردیا
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • جدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیا
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک