ایک کتے نے ممبئی کی سڑک پر ٹریفک جام کردی
اشاعت کی تاریخ: 30th, July 2025 GMT
بھارتی شہر ممبئی کی لوکھنڈوالا مین مارکیٹ میں ایک انوکھا واقعہ اُس وقت خبروں کی زینت بن گیا جب سڑک کے بیچوں بیچ کھڑی ایک گاڑی کی ڈرائیونگ سیٹ پر ایک ہسکی نسل کا کتا بیٹھا نظر آیا۔ واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو گئی، جہاں صارفین نے مزاحیہ تبصرے بھی کیے اور کتے کے مالک کی لاپروائی پر تنقید بھی کی۔
یہ بھی پڑھیں: مشرقی چین کے ایک چڑیا گھر میں کتے ’ پانڈا ‘ کیسے بن گئے؟
انسٹاگرام پر @andheriloca نامی اکاؤنٹ کی جانب سے شیئر کی گئی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک سرخ ہیچ بیک کار سڑک کے درمیان کھڑی ہے، جس کے باعث ٹریفک رک گیا ہے۔ جب راہگیر گاڑی کے قریب پہنچے تو معلوم ہوا کہ ڈرائیونگ سیٹ پر ایک پالتو ہسکی آرام سے بیٹھا ہوا ہے۔
View this post on Instagram
A post shared by Andheri West (@andheriloca)
ویڈیو کے کیپشن میں لکھا گیا کہ ’گاڑی لوکھنڈوالا مین مارکیٹ کے بیچ میں پارک کی گئی، جس سے شدید پریشانی ہوئی۔ حیرت انگیز طور پر گاڑی کی ڈرائیونگ سیٹ پر ایک پالتو کتا بیٹھا ہوا تھا۔‘
یہ بھی پڑھیں: ’گھر سے غائب 2 سالہ بچی جنگل میں کتوں کے ساتھ سوتے ہوئے ملی‘
سوشل میڈیا صارفین نے ملا جلا ردعمل دیا۔ ایک صارف نے تبصرہ کیا ’یہ واقعہ سنجیدہ ہونا چاہیے، مگر کتے کی ڈرائیونگ سیٹ پر موجودگی بہت پیاری لگ رہی ہے، جیسے کہہ رہا ہو، کیا دیکھ رہے ہو؟ میرا مالک مجھے ٹریٹس لینے گیا ہے۔‘
ایک اور صارف نے لکھا ’کتنا پیارا ہے! لیکن یہ بہت خطرناک ہے کہ اسے اکیلا گاڑی میں چھوڑ دیا گیا۔‘
یہ بھی پڑھیں: کیا بلیاں بو سونگھ کر مالک اور اجنبی میں فرق کرسکتی ہیں؟
بعض صارفین نے ممبئی ٹریفک پولیس سے کارروائی کا مطالبہ بھی کیا۔ ایک تبصرے میں کہا گیا ’تصویر کھینچ کر ممبئی ٹریفک ایپ پر اپلوڈ کریں، خلاف ورزی پر چالان جاری ہوجائے گا۔‘
گاڑی کے نمبر پلیٹ کو دھندلا کر دیا گیا ہے، اس لیے مالک کی شناخت فی الحال سامنے نہیں آسکی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news بھارت ٹریفک جام سڑک کتا ممبئی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بھارت ٹریفک جام سڑک کتا ڈرائیونگ سیٹ پر
پڑھیں:
اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔
اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔
فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔
مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔
اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔
ادارت: مقبول ملک