چینی سفارتخانے کی جانب سے پاکستانی سیٹلائٹ کے کامیاب خلا میں بھیجے جانے پر مبارکباد
اشاعت کی تاریخ: 1st, August 2025 GMT
اسلام آباد:
چین کے ایک اہم خلائی مرکز شیچانگ سیٹلائٹ لانچ سینٹر سے پاکستان کا نیا ریموٹ سینسنگ سیٹلائٹ کامیابی سے خلا میں بھیجنے پر چین کے سفارت خانے نے پاکستان کو دل کی گہرائیوں سے مبارک باد دی ہے۔
چین کے سفارت خانے سے جاری اعلامیے میں کہا گیا کہ ہم پاکستان کے نئے ریموٹ سینسنگ سیٹلائٹ کی کامیاب لانچ پر دل کی گہرائیوں سے مبارک باد پیش کرتے ہیں اور دعا گو ہیں کہ یہ سیٹلائٹ ہمارے آہنی بھائی کی زمین سے متعلق وسائل کے سروے اور آفات سے بچاؤ و تخفیف کی صلاحیتوں کو مزید مضبوط کرے۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ یہ سیٹلائٹ پاکستان کے اسپیس اینڈ اپر ایٹماسفیئر ریسرچ کمیشن(سپارکو) کے زیر انتظام ہے اور اس کا مقصد ملک میں زراعت، شہری منصوبہ بندی، بنیادی ڈھانچے کی نگرانی اور قدرتی آفات جیسے سیلاب، زلزلے اور لینڈ سلائیڈنگ کی پیشگی اور مؤثر اطلاع دینا ہے۔
چینی سفارت خانے بتایا کہ یہ پاکستان کا دوسرا ریموٹ سینسنگ سیٹلائٹ ہے، اس سے قبل پہلا سیٹلائٹ PRSS-1 جولائی 2018 میں چین کے جیوکوان لانچ سینٹر سے خلا میں بھیجا گیا تھا۔
چینی سفارت خانے کا بیان پاکستان اور چین کے درمیان خلائی تعاون میں نئی جہت کی نشان دہی کرتا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان "آہنی بھائی چارے” کا مظہر ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ یہ سیٹلائٹ نہ صرف پاکستان کی سائنسی صلاحیتوں کو فروغ دے گا بلکہ خطے میں موسمیاتی تغیر، زرعی ترقی اور قدرتی وسائل کے مؤثر استعمال میں بھی اہم کردار ادا کرے گا۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان سفارت خانے چین کے
پڑھیں:
نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا
بھارت میں نیٹ (NEET) امتحان کے مبینہ پیپر لیک کے خلاف دہلی سے شروع ہونے والا احتجاج اب ملک کے مختلف شہروں تک پھیل گیا ہے۔ طلبہ کی جانب سے امتحانی نظام میں شفافیت، ذمہ داروں کے خلاف کارروائی اور اصلاحات کے مطالبات زور پکڑتے جا رہے ہیں، جبکہ دہلی یونیورسٹی نے اپنے طلبہ اور اساتذہ کو جنتر منتر پر جاری احتجاج میں شرکت سے گریز کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔
پیپر لیک کے خلاف احتجاج اب صرف دارالحکومت دہلی تک محدود نہیں رہا۔ ممبئی، کولکاتا، بنگلورو، حیدرآباد، پٹنہ، لکھنؤ، چندی گڑھ اور دیگر شہروں میں بھی طلبہ تنظیموں نے ریلیاں، دھرنے اور احتجاجی مظاہرے شروع کر دیے ہیں۔ متعدد مقامات پر طلبہ نے امتحانی نظام میں اصلاحات، پیپر لیک میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی اور شفاف امتحانی عمل کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔
Huge crowd of students floods roads of Nashik.
Student protest is now getting pan India surge. pic.twitter.com/tW5HlH2LuY
— VIZHPUNEET (@vizhpuneet) July 23, 2026
ادھر اپوزیشن جماعتیں بھی طلبہ کی حمایت میں میدان میں آ گئی ہیں۔ لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہول گاندھی اور ’انڈیا اتحاد‘ کے دیگر رہنماؤں نے احتجاجی طلبہ سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے وفاقی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ دہرایا ہے۔
دوسری جانب نیٹ دہلی یونیورسٹی نے اپنے سرکاری بیان میں کہا ہے کہ جنتر منتر پر ہونے والے اجتماعات سپریم کورٹ کی ہدایات کے تحت منظم کیے جاتے ہیں اور کسی بھی غیرقانونی مظاہرے میں شرکت کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔ انتظامیہ کے مطابق ایسے اقدامات طلبہ کی سلامتی، تعلیمی مستقبل اور پیشہ ورانہ مواقع کو متاثر کر سکتے ہیں، اس لیے انہیں احتجاجی سرگرمیوں سے دور رہنے کی تلقین کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:وزیرِ تعلیم کے استعفے کا مطالبہ، نئی دہلی میں طلبہ کے احتجاج پر لاٹھی چارج
یونیورسٹی نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی جعلی اور گمراہ کن خبروں سے بھی خبردار کرتے ہوئے طلبہ کو غیر مصدقہ معلومات شیئر نہ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔
بھارتی حکومت کا کہنا ہے کہ پیپر لیک معاملے کی تحقیقات جاری ہیں اور ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی، تاہم طلبہ تنظیموں نے واضح کیا ہے کہ مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رہے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بھارت احتجاج دہلی احتجاج نیٹ پیپر لیک