کراچی:

بھارت کے ٹیسٹ کپتان شبمن گل نے انگلینڈ کے خلاف دی اوول میں جاری پانچویں اور آخری ٹیسٹ میچ کے پہلے دن تاریخی کارنامہ انجام دے کر ویسٹ انڈیز کے عظیم بلے باز سر گیری سوبرز کا 59 سالہ پرانا ریکارڈ توڑ دیا۔

شبمن گل نے SENA ممالک (جن میں جنوبی افریقہ، انگلینڈ، نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا شامل ہیں) میں کسی غیر ملکی کپتان کی جانب سے ٹیسٹ سیریز میں سب سے زیادہ رنز بنانے کا اعزاز حاصل کر لیا ہے۔

ویسٹ انڈیز کے لیجنڈ سر گیری سوبرز نے 1966 کی انگلینڈ ویسٹ انڈیز سیریز میں 722 رنز بنائے تھے جبکہ شبمن گل کو یہ ریکارڈ توڑنے کے لیے صرف ایک رن درکار تھا۔ انہوں نے اننگز کی چھٹی گیند پر دو رنز بنا کر یہ سنگِ میل عبور کیا۔

25 سالہ بھارتی کپتان اب تک جاری پانچ میچز پر مشتمل سیریز میں 724 رنز بنا چکے ہیں اور بھارت و انگلینڈ کے درمیان کسی بھی دو طرفہ سیریز میں تیسرے سب سے زیادہ رنز بنانے والے بلے باز بن چکے ہیں۔

شبمن گل اب دو بڑے بھارتی ریکارڈز کے قریب بھی پہنچ چکے ہیں۔ اگر وہ دی اوول ٹیسٹ کی پہلی اننگز میں مزید 11 رنز بنا لیتے ہیں، تو وہ سنیل گاوسکر کا 732 رنز کا ریکارڈ توڑ دیں گے، جو انہوں نے 1978-79 میں ویسٹ انڈیز کے خلاف بنایا تھا۔

اگر وہ اس میچ میں مجموعی طور پر 53 یا اس سے زیادہ رنز اسکور کر لیتے ہیں، تو وہ گاوسکر کا ایک اور ریکارڈ توڑ دیں گے، جو 1971 کے دورۂ ویسٹ انڈیز میں 774 رنز کے ساتھ بھارت کی جانب سے کسی بھی ٹیسٹ سیریز میں سب سے زیادہ رنز بنانے والے بلے باز ہیں۔

اس کے علاوہ شبمن گل پہلے ہی ویرات کوہلی کا 2016 میں انگلینڈ کے خلاف بنایا گیا 655 رنز کا ریکارڈ بھی پیچھے چھوڑ چکے ہیں۔

گل کی نظریں اب انڈیا-انگلینڈ ٹیسٹ سیریز کی تاریخ کے سب سے بڑے انفرادی اسکور پر ہیں۔ اگر وہ اس میچ میں مزید 31 رنز بنا لیتے ہیں، تو وہ انگلینڈ کے گراہم گوچ کا 1990 میں بنایا گیا 752 رنز کا ریکارڈ بھی توڑ دیں گے، جو اس سیریز میں اب تک کا سب سے بڑا اسکور ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: سے زیادہ رنز انگلینڈ کے ویسٹ انڈیز ریکارڈ توڑ شبمن گل بلے باز چکے ہیں

پڑھیں:

نیٹ فلکس کی پہلی پاکستانی اوریجنل سیریز ’جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو‘ کب ریلیز ہو گی؟

فرحت اشتیاق کے مقبول ناول ’جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو‘ پر مبنی پاکستان کی پہلی نیٹفلکس اوریجنل سیریز کی ریلیز سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آگئی ہے۔

’جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو‘ پہلی بار 2009 میں خواتین ڈائجسٹ میں قسط وار شائع ہوا تھا، جس کے بعد 2013 میں اسے کتابی صورت میں بھی شائع کیا گیا۔ تازہ رپورٹس کے مطابق اس پر مبنی نئی سیریز کو 2026 کے اختتام تک نیٹ فلکس پر ریلیز کیا جائے گا۔

اگرچہ اس سے قبل کئی کامیاب پاکستانی ڈرامے ٹی وی پر نشر ہونے کے بعد نیٹ فلکس پر دستیاب کیے جا چکے ہیں، تاہم ’جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو‘ نیٹ فلکس کی پہلی پاکستانی اوریجنل سیریز ہو گی، جسے ہم ٹی وی اور نیٹ فلکس کے اشتراک سے تیار کیا گیا ہے۔

سیریز کی کاسٹ میں ماہرہ خان، فواد خان، بلال اشرف، حمزہ علی عباسی، ہانیہ عامر، اقرا عزیز، صنم سعید، احد رضا میر، نادیہ خان اور دیگر معروف فنکار شامل ہیں، جبکہ اس کی ہدایت کاری اور پروڈکشن مومنہ درید نے کی ہے۔

یہ سیریز ابتدائی طور پر 2025 میں ریلیز ہونا تھی، تاہم مقررہ وقت پر اس کی نمائش نہ ہو سکی۔ اس کے بعد طویل عرصے تک نہ کاسٹ اور نہ ہی پروڈیوسرز کی جانب سے کوئی باضابطہ اپ ڈیٹ سامنے آئی، جس کے باعث یہ قیاس آرائیاں بھی ہونے لگیں کہ شاید منصوبہ ملتوی یا منسوخ کر دیا گیا ہے۔

اب تازہ اطلاعات کے مطابق مومنہ درید اس وقت سیریز کی فائنل ایڈیٹنگ کی نگرانی کر رہی ہیں، جبکہ توقع کی جا رہی ہے کہ آنے والے دنوں میں کاسٹ اس کی تشہیری مہم کا آغاز بھی کرے گی۔

دوسری جانب، کئی سال کی تاخیر کے باعث پاکستانی ناظرین اب بھی ریلیز کی خبروں پر مکمل یقین کرنے کو تیار نہیں۔ سوشل میڈیا پر ایک مداح نے لکھا، ’’جب تک اقساط ریلیز نہیں ہوتیں، میں یقین نہیں کروں گا۔‘‘ ایک اور صارف نے تبصرہ کیا، ’’مجھے اب بھی اس خبر پر اعتماد نہیں۔‘‘

متعلقہ مضامین

  • الزاری جوزف کا پاکستان کیخلاف ٹیسٹ سیریز کیھلنے سے انکار، سیمی کا اظہار برہمی
  • تاریخی لارڈز کرکٹ گراؤنڈ سے ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کے فائنل کی میزبانی واپس لے لی گئی
  • جوز بٹلر نے ویسٹ انڈیز کے لیجنڈ کو بھی پیچھے چھوڑ دیا
  • پاکستان ویسٹ انڈیز ٹیسٹ سیریز کی ٹرافی کی رونمائی، پہلا میچ کل سے شروع ہوگا
  • نیٹ فلکس کی پہلی پاکستانی اوریجنل سیریز ’جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو‘ کب ریلیز ہو گی؟
  • پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان ٹیسٹ سیریز کی ٹرافی کی رونمائی
  • پاک ویسٹ انڈیز ٹیسٹ سیریز، ٹرافی کی رونمائی کردی گئی
  • پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز: ویسٹ انڈیز نے 15 رکنی اسکواڈ کا اعلان کر دیا
  • کراچی میں کھلے مین ہول میں گر کر 7 سالہ بچہ جاں بحق
  • ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی کا ایک اور کیس رپورٹ، 18 ماہ کے بچے میں بیماری کی تصدیق