محکمہ جیل سندھ میں 6 ہزار افسران و اہلکار بھرتی کرنے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 2nd, August 2025 GMT
کراچی(نیوز ڈیسک)محکمہ جیل میں نئی بھرتیوں کے تحت 6ہزار افسران و اہلکار بھرتی کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، دستاویزات کے مطابق پہلے مرحلے میں ایک ہزار اہلکاروں کو اور دوسری مرحلے میں پانچ ہزار اہلکاروں و افسران کو بھرتی کیا جائے گا۔
محکمہ جیل کے مطابق اس وقت سندھ کے جیلوں میں ساڑھے پچیس ہزار سے زائد قیدی موجود ہونے کے باعث بھرتیوں کا فیصلہ کیا گیا ہے، قانون کے مطابق تیرہ ہزار قیدیوں پر چار ہزار نفری مقررکی جاتی ہے۔
سندھ بھر کے جیلوں میں کمیونیکیشن کیلیے جدید وائرلیس سسٹم، سی سی ٹی وی اور کمانڈ اینڈکنٹرول روم قائم کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے، قیدیوں کی باڈی سرچ کیلیے اسکینر اور ملاقاتیوں کے بیٹھنے کیلیے مکمل سہولیات سے آراستہ اے سی ہال قائم کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔
محکمہ جیلز میں ٹرانسپورٹ کے بحران کو ختم کرنے کیلیے 80 پولیس موبائلز اور چالیس ایمبولینسز خریدنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، قیدیوں کیلیے آئی ٹی پروگرام اور جیل انڈسٹری بھی بحال کرنے کیلیے تجاویز زیر غور ہیں۔
ملیر اور حیدرآباد کے جیلوں سے رش کم کرنے کیلیے لانڈھی ایکسٹینشن جیل قائم کیا گیا ہے اور ٹھٹھہ جیل کا آئندہ ماہ افتتاح ہوگا، ٹھٹھہ اور ملیر ایکسٹینشن جیل ایک، ایک ہزار قیدیوں کو منتقل کیا جائے گا۔
Post Views: 3.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: فیصلہ کیا گیا ہے محکمہ جیل کا فیصلہ کرنے کا
پڑھیں:
بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
اسلام آباد، نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کم از کم ماہانہ اجرت یا تنخواہ (minimum wages monthly)کے تعین کے حوالے سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اہم سفارشات پیش کر دی ہیں۔
پائیڈ نے مالی سال 2026-27 کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جو موجودہ کم از کم اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافے کے برابر ہے۔
ادارے نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شفاف اور سائنسی بنیادوں پر مبنی نظام تجویز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجرت کا تعلق غربت، مہنگائی اور عوام کی قوتِ خرید سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔
سفارشات کے مطابق سندھ میں کم از کم ماہانہ اجرت 46 ہزار روپے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 45 ہزار روپے جبکہ بلوچستان میں 45 ہزار 500 روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پائیڈ نے کم از کم اجرت کے نفاذ کو مرحلہ وار یقینی بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ٹھیکوں اور آؤٹ سورس خدمات میں کم از کم اجرت پر عملدرآمد کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔
ادارے کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد سے زائد روزگار غیر رسمی شعبے میں ہونے کے باعث کم از کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔
پائیڈ نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ تمام صوبے سالانہ کم از کم اجرت پر عملدرآمد کی رپورٹ جاری کریں تاکہ نظام کی نگرانی اور مؤثر جائزہ ممکن ہو سکے۔رپورٹ کے مطابق مجوزہ فریم ورک پلاننگ کمیشن کو غور کیلئے بھجوا دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں:سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
پائیڈ کا کہنا ہے کہ کم از کم اجرت کا نظام محض سالانہ اعلان تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے مؤثر طرزِ حکمرانی، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام سے جوڑا جانا ضروری ہے۔