وفاقی حکومت کا 14 اگست کو بڑی فتح کے دن کے طور پر منانے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 2nd, August 2025 GMT
اسلام آباد(نیوز ڈیسک)وفاقی حکومت کا 14 اگست کو بڑی جنگ میں بڑی فتح کے دن کے طور پر منانے کا فیصلہ کیا ہے
14 اگست کا دن پاکستان کی عظیم کامیابی معرکہ حق سے منسوب کردیا گیا،یومِ آزادی 2025 قومی سطح پرتاریخی فتح کی یادگار کے طور پر منایا جائے گا
چودہ اگست پرملک گیرسطح پر قومی یکجہتی، عزم اور فخر کا مظاہرہ کیا جائے گا،وفاقی سطح پر معرکہ حق کی فتح کی خوشی میں تقریبات کی تیاریاں کی جارہی ہیں،
قومی دارالحکومت میں یومِ آزادی پر خصوصی پریڈ اور فتح کی تقاریب کا انعقاد ہوگا،تمام صوبوں، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں معرکہ حق کی فتح کا جشن منایا جائے گا،14 اگست کی تقریبات کو تاریخی بنانے کے لیے خصوصی تھیمز، ترانے اور تقاریر تیار کی جائیں گی۔
سرکاری عمارتوں پر چراغاں، خصوصی ملبوسات اور فلوٹس فتح و اتحاد کی نمائندگی کریں گے،معرکہ حق کو قومی بیانیے کا حصہ بنانے کے لیے میڈیا پر خصوصی مہم کا بھی آغاز کیا جائے گا،یومِ آزادی 2025 عوامی جذبے، قومی حمیت اور استقامت کی نئی علامت بنے گا۔
Post Views: 2.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
اسلام آباد ہائیکورٹ: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ
اسلام آباد:اسلام آباد ہائیکورٹ نے متنازع ٹویٹس کیس میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی کی درخواستوں کے قابلِ سماعت ہونے سے متعلق فیصلہ محفوظ کر لیا۔
جسٹس اعظم خان نے کیس کی سماعت کی، عدالت میں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے وکیل نے سزا معطلی کی درخواستوں پر اعتراض اٹھاتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ یہ درخواستیں قبل از وقت دائر کی گئی ہیں، اس لیے انہیں قابلِ سماعت قرار نہ دیا جائے۔
این سی سی آئی اے کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ پہلے ان کی متفرق درخواست کو سنا جائے، اگر دوسری متفرق درخواست پہلے سنی گئی تو ہماری درخواست غیرموثر ہو جائے گی۔
دورانِ سماعت ایمان مزاری کے وکیل فیصل صدیقی نے عدالت کو بتایا کہ وہ اس متفرق درخواست پر دلائل دینے کے لیے تیار ہیں اور اگر عدالت مناسب سمجھے تو دونوں درخواستوں کو ایک ساتھ سنا جا سکتا ہے۔
جسٹس اعظم خان نے ریمارکس دیے کہ وکیل پہلے مکمل تیاری کر لیں، یہ ان کے مؤکل کے حقوق کے لیے بہتر ہوگا، جس پر فیصل صدیقی نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ اپنے حقوق چھوڑتے ہوئے دلائل دینے کے لیے تیار ہیں۔
فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا۔