سینئر وکیل شمس الاسلام سے والد کے قتل کا بدلا لیا، ملزم عمران آفریدی کا اعتراف جرم
اشاعت کی تاریخ: 2nd, August 2025 GMT
شمس الاسلام اور میرے والد کے درمیان 35 لاکھ روپے کا لین دین تھا،عمران آفریدی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کراچی میں سینئر وکیل شمس الاسلام کے قتل کا معاملہ نیا رخ اختیار کر گیا، گرفتار ملزم عمران آفریدی نے قتل کا اعتراف کرتے ہوئے اسے ذاتی انتقام قرار دے دیا۔
ملزم عمران آفریدی نے تفتیش کے دوران انکشاف کیا کہ اس نے شمس الاسلام کو اس لیے قتل کیا کیونکہ مقتول نے مبینہ طور پر اس کے والد کو اغوا کر کے بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں ان کی موت واقع ہوئی۔
عمران آفریدی کے مطابق شمس الاسلام اور میرے والد کے درمیان 35 لاکھ روپے کا لین دین تھا، اسی لین دین کی بنیاد پر شمس الاسلام نے میرے والد کو اغوا کیا، شدید تشدد کیا اور قتل کر دیا۔ ملزم نے مزید دعویٰ کیا کہ مقتول وکیل نے ان کے خاندان کے خلاف جھوٹے مقدمات درج کروائے جن میں دہشت گردی اور سنگین نوعیت کے الزامات شامل تھے، ہماری خواتین کو بھی جھوٹے مقدمات میں گھسیٹا گیا حالانکہ ان کا ان معاملات سے کوئی تعلق نہیں تھا۔
اعترافی بیان میں عمران آفریدی نے کہا کہ انصاف نہ ملنے کی وجہ سے وہ انتقامی قدم اٹھانے پر مجبور ہوا، قتل میں نے کیا ہے، میرے کسی عزیز، دوست یا رشتہ دار کا اس واقعے سے کوئی تعلق نہیں۔
دوسری جانب پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم کے اعترافی بیان کی روشنی میں مزید تفتیش جاری ہے اور شواہد کی بنیاد پر کیس کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔علاوہ ازیں شمس الاسلام ایڈووکیٹ کے قتل نے وکلا برادری اور شہری حلقوں میں شدید تشویش پیدا کی ہے، قانونی و سماجی حلقے واقعے کی شفاف تحقیقات اور انصاف کی فراہمی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: شمس الاسلام
پڑھیں:
لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور
سپریم کورٹ نے لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کے کیس میں 5 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کر لی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے لاہور کی رہائشی خاتون کے خلاف منشیات برآمدگی کے کیس کی سماعت کی۔
دوران سماعت ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلائی، عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کرانے کا حکم دے دیا۔
پولیس کے مطابق ایک کیس میں ملزمہ کے قبضے سے دستی بم بھی برآمد ہوا تھا۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا ہے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرۂ عدالت میں موجود ہے۔
اے این ایف کے اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جس پر جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں۔
اے این ایف کے وکیل نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر 2 لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے اے این ایف کے وکیل سے کہا کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرۂ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے، ملزمان تحویل میں ہوتے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھ کڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا، جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف کے اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ جس پر اہلکار نے کہا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے، جس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔