ایران کیساتھ تجارت اور سرمایہ کاری کے فروغ کیلئے کوشاں ہیں، اسحاق ڈار WhatsAppFacebookTwitter 0 3 August, 2025 سب نیوز

اسلام آباد (سب نیوز)نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ تجارت اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے کوشاں ہیں، تجارت کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کریں گے۔اسلام آباد میں پاکستان اور ایران بزنس فورم کا انعقاد کیا گیا، جس میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور نائب وزیراعظم اسحاق ڈار شریک ہوئے جبکہ تقریب میں دونوں ممالک کے قومی ترانے بجائے گئے۔

اس موقع پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر تجارت جام کمال نے کہا کہ ایران اور پاکستان کے درمیان گہرے برادرانہ تعلقات ہیں، دونوں ممالک کے درمیان تجارت کا فروغ چاہتے ہیں، سرحدی تجارت کے فروغ کی حوصلہ افزائی کریں گے۔جام کمال نے کہا کہ تجارت کے دستیاب مواقع سے استفادہ کریں گے، دونوں ممالک تجارت اور سرمایہ کاری کے لیے پرعزم ہیں، ایران کی جانب سے سرمایہ کاری کی دلچسپی کو سراہتے ہیں، مشترکہ اقتصادی کمیشن اجلاس سے معاشی تعاون کو فروغ ملے گا۔

نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے پاک ایران بزنس فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ایران بزنس فورم کا انعقاد خوش آئند ہے، ایران کے ساتھ تجارت اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے کوشاں ہیں، پاک ایران تعلقات مذہبی اور ثقافتی رشتے میں بندھے ہیں۔اسحاق ڈار نے کہا کہ دوطرفہ تجارت کے دستیاب مواقع سے استفادہ کرنا ہوگا، دونوں ملک تجارت کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کریں گے، دوطرفہ تجارت کا حجم 10 ارب ڈالر تک بڑھانے پر اتفاق کیا ہے، ایران اور پاکستان ایس سی او اور ای سی او فورم میں یکساں مقف رکھتے ہیں۔نائب وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سرمایہ کاری کو بہترین ماحول کی فراہمی کے لیے پرعزم ہیں، پاکستان کے تمام معاشی اشاریے درست سمت میں گامزن ہیں، زرعی اور صنعتی شعبے میں سرمایہ کاری کے پرکشش مواقع ہیں، بزنس کمیونٹی سے کہتا ہوں کہ مواقع کا فائدہ اٹھائیں اس سے پہلے کہ یہ ختم ہوجائیں۔

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے بزنس فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو اپنا دوسرا گھر سمجھتا ہوں، پاک ایران تعلقات مشترکہ ثقافت اور مذہب پر مبنی ہیں، پاکستان کے ساتھ اچھے تعلقات ہماری پالیسی کا جز ہیں، پاکستان کے ساتھ تعلقات برقرار رکھنے کے لیے پرعزم ہیں۔ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ پاکستان کے ساتھ تجارت 10 ارب تک لے جانا چاہتے ہیں، سمندری اور زمینی راستوں کی ترقی وقت کی ضرورت ہے، فری اکنامک زون دونوں ملکوں کے لیے ضروری ہے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرنو مئی کیس، سابق وزیراعظم آزاد کشمیر سردار عبدالقیوم نیازی کوگرفتار کر لیا گیا نو مئی کیس، سابق وزیراعظم آزاد کشمیر سردار عبدالقیوم نیازی کوگرفتار کر لیا گیا عمران خان کے بچے قانونی منظوری کے بعد انسے ملاقات کر سکتے ہیں ،غیر ملکی شہریوں کو عدم استحکام کی اجازت نہیں دی جا.

.. بانی پی ٹی آئی کے بیٹوں سے کوئی خطرہ نہیں ، گرفتار نہیں کیا جائیگا، طلال چودھری مزید بارشوں کی پیشگوئی، الرٹ جاری، حالیہ بارشوں سے اموات کی تعداد 299ہوگئی یو کرین کا روس کے آئل ڈپو پر ڈرون حملہ، آگ بھڑک اٹھی، قریبی ہوائی اڈے پر پروازیں معطل سعودی عرب میں ایک ہفتے کے دوران 22ہزار سے زائدغیرقانونی تارکین گرفتار،سعودی وزارت داخلہ TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: ساتھ تجارت اور سرمایہ کاری کے فروغ پاکستان کے کوشاں ہیں بزنس فورم اسحاق ڈار کریں گے کے ساتھ کے لیے کہا کہ

پڑھیں:

سمندری تجارت میں بہتری، کراچی اور گوادر بندرگاہوں کی اہمیت مزید بڑھ گئی

خلیج میں جاری کشیدگی اور بحری راستوں میں رکاوٹوں کے باعث پاکستان کی سمندری تجارت میں نمایاں بہتری دیکھنے میں آ رہی ہے، جس سے کراچی(Karachi) اور گوادر(Gwadar) بندرگاہوں کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔

عرب نیوز کے مطابق ہچیسن پورٹس پاکستان کا کہنا ہے کہ نیا کارگو کئی بحری جہازوں کے ذریعے پاکستان پہنچے گا، دو جہاز پہلے ہی بندرگاہ پر آ چکے ہیں، جبکہ تیسرا جہاز جون کے پہلے ہفتے میں پہنچنے کی امید ہے۔

کراچی میں ہچیسن پورٹس ٹرمینل 4 ہزار نئے ٹرانس شپمنٹ کارگو سنبھالے گا، جس کے بعد مارچ 2026 تک مجموعی تعداد 14,300 سے بڑھ جائے گی، خلیجی خطے میں رکاوٹوں کے باعث بین الاقوامی شپنگ کمپنیاں دوسرے راستے کے طور پر پاکستان کی بندرگاہوں کو اہمیت دے رہی ہیں۔

میری ٹائم حکام کے مطابق خلیج کے بحران کے باعث نہ صرف کراچی بلکہ گوادر پورٹ کے استعمال میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے، جہاں سرگرمیاں 20 فیصد سے بڑھ کر 30 فیصد تک پہنچ گئی ہیں۔

مزیدپڑھیں:دنیا بھر میں غیر قانونی طور پر مقیم بھارتی شہری مختلف ممالک کیلیے وبال جان بن گئے

حکام کا کہنا ہے کہ گوادر پورٹ کو پرکشش بنانے کے لیے برتھنگ فیس میں 25 فیصد، بین الاقوامی ٹرانس شپمنٹ کارگو چارجز میں 40 فیصد اور ٹرانزٹ کارگو چارجز میں 31 فیصد کمی کی گئی ہے، تاہم سی پیک 2.0، علاقائی تجارتی راہداریوں اور نئی سرمایہ کاری سے گوادر پورٹ کی علاقائی اہمیت میں اضافے کی امید ہے۔

 کراچی اور گوادر بندرگاہوں کی بڑھتی ہوئی سرگرمیاں پاکستان کے علاقائی لاجسٹکس اور ٹرانس شپمنٹ کا اہم مقام بننے کے لیے ایک اچھا اشارہ ہیں، پاکستان کا منفرد جغرافیائی محلِ وقوع کراچی، پورٹ قاسم اور گوادر کو خطے کے ابھرتے ہوئے تجارتی اور لاجسٹکس مقامات میں تبدیل کر رہا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • بجٹ 2026-27: وزیراعظم کی صنعتکاروں سے مشاورت، برآمدات اور سرمایہ کاری بڑھانے پر زور
  • پاکستان کی سمندری تجارت میں اہم بہتری، کراچی اور گوادر بندرگاہوں کی اہمیت مزید بڑھ گئی
  • سمندری تجارت میں بہتری، کراچی اور گوادر بندرگاہوں کی اہمیت مزید بڑھ گئی
  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم، پاکستانی اعلیٰ سطحی وفد شرکت کریگا
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور، 80 فیصد اداروں نے سرمایہ کاری فیصلے مؤخر کر دیئے
  • وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم
  •  کاروباری عدم اعتماد، 80 فیصد اداروں کے سرمایہ کاری فیصلے موخر، اوورسیز چیمبر
  • خطے میں تنازعات کے پُرامن حل کیلئے کوششیں جاری رکھیں گے: اسحاق ڈار