نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان اور ایران کے درمیان تجارتی تعلقات کو وسعت دینے اور سرمایہ کاری کے نئے دروازے کھولنے کے لیے دونوں ممالک پُرعزم ہیں۔ دونوں ملکوں کے درمیان تین اہم تجارتی معاہدے طے پا چکے ہیں۔

پاکستان ایران بزنس فورم کے انعقاد کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ پاکستان اور ایران مذہبی اور ثقافتی رشتوں میں جڑے ہوئے دیرینہ برادر اسلامی ممالک ہیں، اور اب ان تعلقات کو اقتصادی شراکت داری میں تبدیل کرنے کا وقت آ چکا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ایران اور پاکستان کا 10 ارب ڈالر سالانہ تجارتی ہدف، کئی ایم او یوز پر دستخط، شہباز شریف و مسعود پزشکیان کی مشترکہ پریس کانفرنس

ان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک نے دوطرفہ تجارت کا حجم 10 ارب ڈالر تک بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ تجارت کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنا اولین ترجیح ہے تاکہ کاروباری برادری کو سہولت دی جا سکے۔ ’ہمیں دوطرفہ تجارت کے دستیاب مواقع سے بھرپور استفادہ کرنا ہوگا تاکہ دونوں ملکوں کو معاشی فوائد حاصل ہوں۔‘

اس موقع پر وزیر خارجہ نے یہ بھی واضح کیا کہ پاکستان اور ایران شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) اور اکنامک کوآپریشن آرگنائزیشن (ای سی او) جیسے علاقائی فورمز پر مشترکہ مؤقف رکھتے ہیں، جو خطے میں باہمی ہم آہنگی اور ترقی کا عکاس ہے۔

اسحاق ڈار نے بتایا کہ دونوں ممالک کے درمیان 3 اہم تجارتی معاہدے طے پا چکے ہیں۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ پاکستان میں سرمایہ کاروں کو سازگار ماحول اور تمام ممکنہ سہولیات فراہم کی جائیں گی۔

یہ بھی پڑھیں: نواز شریف سے ایرانی صدر پزشکیان کی ملاقات، دونوں رہنماؤں میں کیا گفتگو ہوئی؟

ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کے معاشی اشاریے مثبت سمت میں گامزن ہیں، اور حکومت سرمایہ کاری کے لیے پُرکشش مواقع پیدا کر رہی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews اسحاق ڈار ایرانی صدر پاک ایران بزنس فورم تجارت کا حجم تجارتی معاہدے مسعود پزشکیان نائب وزیراعظم وی نیوز.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اسحاق ڈار ایرانی صدر پاک ایران بزنس فورم تجارت کا حجم تجارتی معاہدے مسعود پزشکیان وی نیوز کہ پاکستان اسحاق ڈار

پڑھیں:

سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل

نیتن یاہو - فوٹو: فائل

اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔ 

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔

خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔

سعودی عرب سے جوہری معاہدہ، ٹرمپ نے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط رکھ دی

اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔

صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔

تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔

متعلقہ مضامین

  • پاکستان 2027 میں ایس سی او سربراہانِ مملکت اجلاس کی میزبانی کرے گا، رکن ممالک کو دعوت
  • پاکستانیوں کیلئے سری لنکا نے ویزا فیس ختم کر دی
  • وزیر تجارت سے کارپٹ مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے وفد کی ملاقات، تجارتی رکاوٹوں اور عالمی سپلائی چین میں خلل سے صنعت کو درپیش مشکلات بارے آگاہ کیا
  • امریکہ کا پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان
  • پاکستان ویسٹ انڈیز ٹیسٹ سیریز کی ٹرافی کی رونمائی، پہلا میچ کل سے شروع ہوگا
  • ایران اور عراق کے درمیان دوطرفہ تعاون بڑھانے کے لیے 4 معاہدے
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل