پاکستان سے تجارت 10ارب ڈالرتک لے جانا چاہتے ہیں؛ ایرانی صدر
اشاعت کی تاریخ: 3rd, August 2025 GMT
سٹی 42 : ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ دورہ پاکستان کامیاب تھا، کئی معاہدوں پر دستخط ہوئے، مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعلقات کو فروغ دیں گے، سمندری اور زمینی راستوں کی ترقی وقت کی اہم ضرورت ہے۔
ان خیالات کا اظہار صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد میں ہونے والی پاکستان ایران بزنس فورم کی تقریب سے خطاب کے دوران کیا، کہا کہ پاکستان سے تجارت 10ارب ڈالرتک لے جانا چاہتے ہیں، پاکستان کو اپنا دوسرا گھر سمجھتا ہوں۔ ایرانی صدر کی جانب سے وزیراعظم شہباز شریف کو ایران کے دورے کی دعوت دی گئی۔
محدود مدت تک عجائب گھروں میں داخلہ مفت؛ حکومت نے بڑا اعلان کردیا
ایرانی صدر نے کہا کہ اسرائیلی جارحیت کیخلاف پاکستان کی حمایت پر دل سے شکرگزار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ہمارا دوسرا گھر ہے، سرحدی سیکورٹی کو بہتر بنانے کے لیے دو طرفہ تعاون جاری ہے۔ پاکستان کے ساتھ بہتر تعلقات ایران کی خارجہ پالیسی کا حصہ ہے۔ عصر حاضر میں امت مسلمہ کا اتحاد ناگزیر ہے ۔
وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اس موقع پر اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان اورایران کے درمیان 3 تجارتی معاہدے ہوئے ہیں، دوطرفہ تجارت کا حجم 10 ارب ڈالرتک لے جانے پر اتفاق کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک تجارت کی راہ میں حائل رکاوٹیں دور کریں گے۔ پاکستان کے تمام اشاریئے مثبت سمت میں گامزن ہیں۔
سابق وزیراعظم پرسوشل میڈیا پوسٹ کی وجہ سے فرد جرم عائد
اسحاق ڈار نے کہا کہ ایران کے ساتھ تجارت اور سرمایہ کاری کے فروغ کیلئے کوشاں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاک ایران تعلقات مذہبی اور ثقافتی رشتے میں بندھے ہوئے ہیں، دوطرفہ تجارت کے دستیاب مواقع سے بھرپوراستفادہ کرنا ہوگا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
ایرانی جزیرے پر امریکی حملے کے بعد ایران کا جوابی وار، بحرین، عراق اور قطر میں سائرن بج گئے
امریکی فوج کی جانب سے ایرانی جزیرے قشم پر کارروائی کے دعوے کے بعد ایران نے خطے میں موجود امریکی مفادات اور فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا اعلان کرتے ہوئے جوابی حملوں کا دعویٰ کیا ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے مطابق امریکی افواج نے قشم جزیرے میں موجود ایک ایرانی فوجی تنصیب کو نشانہ بنایا۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی ایران کی جانب سے میزائل اور ڈرون حملوں کے ردعمل میں کی گئی۔
سینٹ کام کے مطابق امریکی اور اتحادی دفاعی نظام نے متعدد ایرانی میزائل اور ڈرون راستے میں ہی تباہ کر دیے۔
امریکی بیان میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ ایران کی جانب سے داغے گئے بعض بیلسٹک میزائل اپنے اہداف تک پہنچنے میں ناکام رہے۔
کویت کی جانب فائر کیے گئے دو میزائل راستے میں گر گئے جبکہ بحرین کی طرف بڑھنے والے تین میزائل امریکی اور بحرینی فورسز نے فضا میں ہی تباہ کر دیے۔
اسی دوران امریکی فوج نے ایک ایسے آئل ٹینکر کو بھی ناکارہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے جو مبینہ طور پر ایرانی جزیرے خارگ کی جانب رواں تھا۔
امریکی حکام کے مطابق مذکورہ جہاز پر بوٹسوانا کا پرچم لہرا رہا تھا۔
مزید پڑھیںایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
دوسری طرف ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے امریکی کارروائی کا فوری جواب دینے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ قشم میں کمیونیکیشن انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے کے بعد امریکی فوجی اڈوں پر میزائل اور ڈرون حملے کیے گئے ہیں۔
ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق جوابی کارروائی میں بحرین میں موجود امریکی ففتھ فلیٹ کے ہیڈکوارٹر، بعض فضائی تنصیبات اور ہیلی کاپٹر مراکز کو ہدف بنایا گیا۔
پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ امریکی حملوں کا جواب دینا ناگزیر تھا اور خطے میں کسی بھی جارحیت کا بھرپور ردعمل دیا جائے گا۔
عرب میڈیا کے مطابق بحرین، کویت اور عراق میں سیکیورٹی الرٹ جاری کر دیا گیا ہے جبکہ بحرین کے مختلف علاقوں میں خطرے کے سائرن بھی بجائے گئے۔
بحرینی وزارتِ داخلہ نے شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔
ادھر ایرانی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کے قریب ایک ایرانی آئل ٹینکر کو نشانہ بنائے جانے کے بعد پاسداران انقلاب نے ایک بحری جہاز پر میزائل حملہ کیا۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے کی قیمت امریکا کو چکانا پڑے گی۔