9 مئی کیا ہے تو بھگتنا بھی پڑے گا، وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ
اشاعت کی تاریخ: 4th, August 2025 GMT
وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ : فوٹو فیس بک قومی اسمبلی
وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا ہے کہ 9 مئی کیا ہے تو بھگتنا بھی پڑے گا، ملزمان پر جرم ثابت ہوا، سوا سال بعد سزائیں ہوئیں، آپ نے 9 مئی کو کیپٹن کرنل شیر خان کے مجسمے سمیت شہداء کی یاگاروں کو نقصان پہنچایا۔
قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے عطا تارڑ نے کہا کہ منصوبہ بندی کے تحت کیے گئے حملوں پر قانون کے مطابق سزائیں ہوئیں، فیصلے پر اعتراض ہے تو عدالت جائیں ایوان میں شور نہیں کریں۔
اس قبل پارلیمنٹ ہاؤس میں جیو نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے وزیر اطلاعات نے کہا کہ ایرانی صدر کا پاکستان کا دورہ بڑی اہمیت کا حامل تھا، دونوں اطراف سے بڑے اچھے جذبات کا اظہار کیا گیا، وزیراعظم نے فارسی شعر پڑھا جس کا ترجمہ ہے دوست وہی جو مشکل میں کام آئے۔
وزیر اطلاعات نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کے بیٹوں کا تحریک چلانا حق ہے، وہ جہاں جائیں یہ بتائیں کہ ان کے والد کو میگا کرپشن کیس میں سزا ہوئی ہے۔
عطا تارڑ نے مزید کہا کہ اس دورے سے پاکستان اور ایران کے تعلقات میں بہت بہتری آئی ہے، پاکستان اور ایران کے تعلقات میں ایک نئے دور کا آغاز ہوا ہے۔
وزیر اطلاعات سے سوال کیا گیا کہ کیا پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبے پر بھی کوئی بات ہوئی؟ جس کے جواب میں عطا تارڑ نے کہا کہ اس پر دیکھتے ہیں آگے کیا لائحہ عمل بنتا ہے، اوور آل دورہ بہت اچھا تھا۔
عطا تارڑ نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف اس وقت مختلف گروپس میں تقسیم ہے، یہ احتجاج پتہ نہیں علیمہ گروپ کر رہا ہے، بشریٰ گروپ کر رہا ہے، پتہ نہیں احتجاج گنڈاپور گروپ کر رہا ہے یا شیر افضل مروت گروپ، دیکھتے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: عطا تارڑ نے کہا وزیر اطلاعات نے کہا کہ
پڑھیں:
کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)سینیٹر سرمد علی کی قائم مقام صدارت میں پی ٹی وی ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس منعقد ہوا جس میں این سی سی آئی اے کی جانب سے سوشل میڈیا کے اعداد و شمار اور میٹا کی جانب سے قابلِ اعتراض مواد ہٹانے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ این سی سی آئی اے نے واضح کیا کہ اس سے قبل کمیٹی کو جو اعداد و شمار فراہم کیے گئے تھے، وہ میٹا کے عوامی سطح پر دستیاب ڈیٹا پر مبنی تھے۔ کمیٹی نے اس وضاحت کو قبول کیا اور تصدیق شدہ حقائق کی بنیاد پر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی ضرورت پر زور دیا۔
کمیٹی نے بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ متنازعہ ریمارکس پر ایک اخبار کے کالم نگار کو نوٹس جاری کرنے کے معاملے کا بھی جائزہ لیا۔ این سی سی آئی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ نوٹس پاس (PAS) افسران ایسوسی ایشن کے صدر کی طرف سے درج کرائی گئی شکایات کے بعد صرف کالم نگار کا مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ مزید آگاہ کیا گیا کہ پیکا کے تحت کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، کالم نگار نے تاحال نوٹس کا جواب نہیں دیا، اور یہ مضمون اخبار کے ای پیپر سے ہٹا دیا گیا ہے، اگرچہ یہ کالم نگار کے فیس بک پیج پر اب بھی دستیاب ہے۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
بحث کے دوران اراکین نے پارلیمنٹ میں دی گئی حکومت کی اس یقین دہانی کو دہرایا کہ پیکا کا استعمال اخبارات اور ٹیلی ویژن کی ویب سائٹس یا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے خلاف نہیں کیا جائے گا کیونکہ ان کے منظم کردہ مواد کو بالترتیب پریس کونسل اور پیمرا کنٹرول کرتے ہیں۔ سینیٹر پرویز رشید نے اس بات پر زور دیا کہ حقائق واضح کرنے کے لیے کالم نگار کو نوٹس کا جواب دینے کا کہا جائے۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر مشاہدہ کیا کہ ہر فرد کی عزت اور تقدس کا احترام کیا جانا چاہیے۔ مشاورت کے بعد، قائم مقام چیئرمین نے این سی سی آئی اے کو ہدایت کی کہ وہ شکایت اور شکایات کنندہ دونوں کو پریس کونسل آف پاکستان کے پاس بھیجیں، جو کہ شائع شدہ کالم کا جائزہ لینے اور اس معاملے پر فیصلہ کرنے والا مناسب فورم ہے۔
کمیٹی نے صوبائی حکام سے پیکا کے مقدمات کی این سی سی آئی اے کو منتقلی کا بھی جائزہ لیا۔ سینیٹر وقار مہدی کے سوال پر این سی سی آئی اے کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سندھ سے اب تک صرف نو مقدمات منتقل کیے گئے ہیں، جبکہ دیگر صوبوں میں مقدمات کی منتقلی کا عمل ابھی باقی ہے۔ تفصیلی غوروخوض کے بعد، سینیٹر سرمد علی نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ صوبائی حکام کو خطوط بھیجے جائیں تاکہ عمل درآمد کے لیے سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کی سفارشات اور رپورٹ کے ساتھ زیر التوا مقدمات کی منتقلی کو تیز کیا جا سکے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
مزید :