اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 06 اگست2025ء)ملک ریاض نے بحریہ ٹان کی بندش کا عندیہ دیتے ہوئے مسائل کے حل کیلئے مذاکرات کی پیشکش کردی۔نجی ٹی وی کے مطابق بحریہ ٹاؤن کے مالک ملک ریاض نے سماجی رابطے کی ویب سائیٹ ایکس پر اپنے بیان میں اس بات کا عندیہ دیا ہے کہ ملک بھر میں بحریہ ٹاؤن کی تمام سرگرمیاں بند کی جا سکتی ہیں۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ حالیہ چند ماہ میں حکومتی اداروں کی جانب سے دباؤ اور مختلف کارروائیوں کی وجہ سے بحریہ ٹاؤن کا آپریشن شدید متاثر ہو چکا ہے۔ملک ریاض نے دعویٰ کیاکہ ان کے خلاف حکومتی اداروں کی جانب سے متعدد اقدامات کیے گئے ہیں، جن میں درجنوں اسٹاف ارکان کی گرفتاری، کمپنی کے بینک اکاؤنٹس کی منجمدی، عملے کی گاڑیوں کی ضبطی اور دیگر سخت اقدامات شامل ہیں۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ اس کے نتیجے میں بحریہ ٹاؤن کی رقوم کی روانی بالکل تباہ ہو چکی ہے اور روزمرہ سروسز فراہم کرنا ناممکن ہو چکا ہے۔انہوںنے کہاکہ ہم اپنے اسٹاف کی تنخواہیں ادا کرنے کے قابل نہیں ہیں اور حالات اس حد تک پہنچ چکے ہیں کہ ہم پاکستان بھر میں بحریہ ٹاؤن کی تمام سرگرمیاں مکمل طور پر بند کرنے پر مجبور ہو رہے ہیں ۔ملک ریاض نے اس قدم کو آخری قدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ ابھی بھی اس فیصلے سے پیچھے ہٹنے کا ارادہ رکھتے ہیں، مگر زمینی حالات بدتر ہوتے جا رہے ہیں۔

ملک ریاض نے کہا کہ یہ صورت حال ادارے کے بنیادی ڈھانچے کو مفلوج کر چکی ہے، جو پچاس ہزار محنتی افراد پر مشتمل ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ کئی سینئر ملازمین لاپتہ ہیں، سروسز معطل ہیں، ترقیاتی منصوبے رک چکے ہیں اور کمیونٹیز میں معمول کی دیکھ بھال اور سہولتیں شدید متاثر ہو چکی ہیں۔انھوں نے کہا کہ یہ کیفیت وطن عزیز کی معیشت کیلئے بھی کسی شدید بحران سے کم نہیں، کراچی سے لاہور اور اسلام آباد تک بحریہ ٹاؤن میں لاکھوں پاکستانیوں کی کھربوں روپے کی سرمایہ کاری منجمد ہو چکی ہے، سیکڑوں ارب روپوں کی کمرشل منصوبے تکمیل سے پہلے ڈھیر ہو چکے ہیں۔

بحریہ ٹاؤن کے بانی نے کہا کہ ہزاروں خاندان اس وقت بے یقینی اور ذہنی اذیت کا شکار ہیں۔ملک ریاض نے کہا کہ دو دہائیوں میں بحریہ ٹاؤن نے جو کچھ پاکستان کے لیے کیا، اس کا شمار قابلِ فخر ہے، کراچی، لاہور اور اسلام آباد میں عالمی معیار کی بستیاں قائم کیں، لاکھوں افراد کو روزگار فراہم کیا اور قومی خزانے میں اربوں روپے کی شراکت کی،یہ سب تاریخ کا حصہ ہے اور قوم کی اجتماعی ترقی کا ثبوت ہے۔

انھوں نے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ انہیں سنجیدہ مکالمے اور باوقار حل کی طرف واپس جانے کا موقع دیا جائے،اس مقصد کیلئے کسی بھی ثالثی (arbitration)میں شریک ہونے اور اس کے فیصلے پر 100فیصد عملدرآمد کا یقین دلاتے ہیں، اگر ثالثی کا فیصلہ ہماری جانب سے رقوم کی ادائیگی چاہے گا تو ہم اس کی ادائیگی یقینی بنائیں گے۔انہوںنے کہاکہ دل و جان سے پاکستان کے عوام اور ریاست کے مقتدررین اداروں کے لیے اپنے تن من دھن قربان کرنے کا جذبہ رکھتے ہیں اور وطن عزیز کے لیے اپنی خدمات برقرار رکھنا چاہتے ہیں نہ کہ ان حالات میں کاموشی سے رخصت ہو جائیں۔.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے میں بحریہ ٹاؤن ملک ریاض نے نے کہا کہ

پڑھیں:

ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ

امریکی وزیرخارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات انتہائی ٹیکنیکل اور کئی مہینے لگ سکتے ہیں جبکہ آبنائے ہرمز کی بحالی کی صورت میں امریکا کی جانب سے پابندیوں میں نرمی کی کوئی پیش کش نہیں کی گئی ہے۔

امریکی سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کو مارکو روبیو نے بتایا کہ دوسرا مرحلہ یہ ہے کہ ایران اس بات پر تفصیلی اور واضح مذاکرات کے لیے آمادہ ہو کہ گہرے پہاڑی مقام میں محفوظ انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخیرے کا مستقبل میں کیا تصرف کیا جائے گا۔

ایران کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ انہیں اپنے ملک میں افزودگی کی سرگرمیوں کو طویل مدت تک محدود یا ختم کرنے کے حوالے سے مذاکرات پر اتفاق کرنا ہوگا۔

مارکو روبیو نے کہا کہ یہ انتہائی ٹیکنیکل معاملات ہیں اس لیے میں نہیں سمجھتا کہ اس کو 5 دنوں کے اندر حل کرسکتے ہیں، اس کے لیے ماہرین کی ٹیم درکار ہوگی جو 30، 60 یا 90 روز کی مدت میں کام کرے اور تفصیلات اخذ کرے لیکن انہیں ایسا کرنے کے لیے سنجیدہ ہونا پڑے گا۔

انہوں نے اشارہ دیا کہ تہران نے اپنے جوہری پروگرام کے پہلوؤں پر مذاکرات کے لیے اتفاق کیا ہے لیکن اس حوالے سے تفصیلات فراہم نہیں کی کہ کون سے امور ہیں اور واضح کیا کہ مذاکرات اس بات کی ضمانت نہیں ہیں کہ حتمی طور پر ایسے معاہدے کا باعث ہوں گے جو سینیٹ یا امریکی عوام کے لیے قابل قبول ہوں۔

ان کا کہنا تھا کہ ایران کو پہلے بغیر کسی ٹول کے آبنائے ہرمز کی بحالی کا اعلان کرنا ہوگا، وہ مائنز ہٹائیں گے اور جہازوں پر فائرنگ نہیں کریں گے۔

مارکو روبیو نے کہا کہ امریکا نے ایران کو آبنائے ہرمز کی بحالی پر پابندیوں میں نرمی کی پیش کش نہیں کی ہے اور پابندیوں کا خاتمہ شرائط کی بنیاد پر ہوگا۔

ایرانی سپریم لیڈر زندہ ہیں اور سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں، روبیو

امریکی وزیر خارجہ نے سینیٹ کمیٹی کو بتایا کہ میرے خیال میں ایران کے نئے سپریم لیڈڑ آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای زندہ ہیں اور سرگرمیوں میں زیادہ حصہ لے رہے ہیں اور اس کے اشارے مل رہے ہیں۔

خیال رہے کہ ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نیا منصب سنبھالنے کے بعد عوامی سطح پر نظر نہیں آئے ہیں تاہم وہ ایرانی حکام کو بدستور ہدایات دے رہے ہیں اور رپورٹ بھی کیا گیا تھا کہ ایرانی اعلیٰ حکام ان سے ملاقات اور مشاورت کرچکے ہیں۔

امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ حملے میں زخمی ہیں جبکہ ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ امریکی انٹیلی جینس کا تجزیہ ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای جنگی حکمت عملی میں ایران کے سینئر عہدیداروں کے ساتھ انتہائی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • محبوبہ مفتی کا نئی دلی سے مذاکرات کیلئے متحدہ سیاسی محاذ بنانے پر زور
  • وفاقی بجٹ پر پیپلز پارٹی کے خدشات دور کرنے کیلئے حکومت اور پی پی پی کے مذاکرات نتیجہ خیز نہ ہوسکے
  • ایران کے ساتھ امریکی امن مذاکرات ، اسرائیل شامل نہیں
  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات شروع
  • لاہور میں بلدیاتی الیکشن کیلئے حلقہ بندیوں کی ابتدائی فہرست کا اجرا
  • لاہور میں بلدیاتی الیکشن کیلئے حلقہ بندیوں کی ابتدائی فہرست جاری کر دی گئی