گیس کے لاکھوں صارفین کو نئے گیس کنکشن فراہم کرنے کے لیے تیاریاں آخری مراحل میں پہنچ گئیں جب کہ گیس کمپنیوں سمیت دیگر اداروں نے اپنی تجاویز حکومت کو ارسال کر دیں۔

ایکسپریس نیوز کو ملنے والے اعداد و شمار کے مطابق سوئی ناردرن گیس پائپ لائن کے پاس 30 لاکھ کے قریب گیس کنکشن لگوانے کی درخواستیں گزشتہ چار  برسوں سے التوا کا شکار ہیں۔

گیس کے نئے کنکشن پر پابندی سال 2021 میں  عائد ہوئی جب گیس کا بحران سنگین ہوگیا  اور گیس کی لوڈ شیڈنگ شروع کر دی گئی۔

نئے کنکشن پر پابندی عائد ہونے کی وجہ سے 30 لاکھ کے قریب صارفین   گیس سے محروم ہیں اور مہنگی ترین ایل پی جی استعمال کرتے پر مجبور ہو چکے تھے۔

اوگرا ذرائع کے مطابق لیکن اب حکومت جلد نئے کنکشن پر عائد پابندی ختم کرنے کا فیصلہ کر چکی ہے، حکومت کو سوئی ناردن گیس کمپنی سمیت دیگر اداروں کی طرف سے تجاویز مل چکی ہیں۔

انہی تجاویز کی روشنی میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ صارفین کو گیس کے نئے کنکشن فراہم کر دیے جائیں جو آر ایل این جی پر لگائے جائیں گے۔

گیس کنکشن لگوانے کے لیے ارجنٹ فیس 25 ہزار اور نارمل فیس ساڑھے چھ سے سات ہزار روپے کے حساب سے صارفین نے جمع کرا رکھی ہے۔

مجموعی طور پر 20 ارب سے زائد   رقم  نئے کنکشن کی فیس کی مد میں سوئی  نادرن کے اکاؤنٹ میں جمع ہے۔

سوئی نادرن کی طرف سے جو تجاویز حکومت کو فراہم کی گئیں ان میں یہ بھی شامل ہے کہ سب سے پہلے ان صارفین کو گیس کے نئے کنکشن لگوائے جائیں گے جنہوں نے سب سے پہلے درخواستیں جمع کرائی اور اس کے بعد مرحلہ وار بعد میں جمع کرانے والوں کو گیس ملے گی۔

دوسری جانب یہ بھی کہا گیا ہے کہ  گیس کے کنکشن فیس کی مد میں جو  فرق قیمت میں آئے گا اس کو گیس کے پہلے بل کے ساتھ صارفین سے وصول کر لیا جائے یا ان سے اس فرق کا نیا ڈیمانڈ نوٹس جاری کر کے وصول کیا جائے۔

حکومت رواں ماہ کے آخر تک گیس کے نئے کنکشن پر عائد پابندی کو ختم کرنا چاہتی ہے۔

دوسری جانب سوئی نادرن گیس کمپنی زرائع کے مطابق گیس وافر مقدار میں موجود ہے یہاں تک کہ گیس کا پریشر اس حد تک بڑھ چکا تھا کہ خدشہ پیدا ہوگیا تھا کہ کہیں گیس پائپ لائن پھٹ ہی نہ جائیں۔

ان ساری صورتحال سے اوگرا اور حکومت کو آگاہ کیا جا چکا ہے، حکومت کے پاس اس وقت آر ایل این جی کی وافر مقدار بھی موجود ہے اور سسٹم میں گیس بھی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: گیس کے نئے کنکشن گیس کنکشن حکومت کو کو گیس

پڑھیں:

راولپنڈی میں 14 سالہ فیکٹری ملازم کے ساتھ ’استاد‘ کی بدفعلی، لڑکا اسپتال میں داخل

راولپنڈی کے تھانہ سول لائن کے علاقے گلستان کالونی میں فیکٹری کے استاد کی 14 سالہ شاگرد سے مبینہ زیادتی و انسانیت سوز سلوک کا کیس سامنے آنے پر پولیس نے مقدمہ درج کرکے ملزم کو گرفتار  کرلیا۔

پولیس کے مطابق  بچے کے والد نے بتایا 14 سالہ بیٹا پلاسٹک کے دروازے  کھڑکیاں بنانے والی فیکٹری میں کام سیکھ رہا ہے، جہاں اسد جہانگیر نامی شخص نے اُسے مبینہ بدفعلی کا نشانہ بنایا۔

والد کے مطابق اسد جہانگیر نے آج فون پر بتایا کہ آپکے بیٹے کی طبیعت اچانک خراب ہوگی اسکو اسپتال لے کر آئے ہیں اور ڈاکٹر بچے کے والد کو بلوا رہے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ اسپتال پہنچا تو  بیٹے نے گلے لگ کر سہمے ہوئے انداز بتایا کہ اسکے فیکٹری کے استاد اسد جہانگیر نے مبینہ زیادتی کا نشانہ بنایا اور مزید بتایا فیکٹری استاد اسد جہانگیر نے مبینہ بربریت کا مظاہرہ کرتے ہوئے پرائیویٹ پارٹ میں پائپ بھی ڈالتا رہا۔

پولیس نے والد کی درخواست پر مقدمہ درج کرکے ملزم کو گرفتار کرلیا۔ ایس پی پوٹھوہار سردار بابر ممتاز کا نے کہا کہ متاثرہ لڑکے کا میڈیکل کروایا جارہا ہے جس کی رپورٹ آنے کے بعد مزید کارروائی کی جائے گی۔

انہوں نے متاثرہ خاندان کو یقین دہانی کرائی کہ زیر حراست شخص کو ٹھوس شواہد کے ساتھ چالان  کیا جائے گا،خواتین ، بچوں سے ہراسمنٹ یا زیادتی ناقابل برداشت ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • کوڑا ٹیکس کی وصولی کی تیاریاں، محکمہ ایکسائز متحرک
  • امریکہ کا پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان
  • چین کا ایک اور کامیاب خلائی مشن، 5 سیٹلائٹس مقررہ مدار میں داخل
  • معرکہ حق میں بھارت کو کتنا نقصان پہنچا؟ احتجاج میں شامل بھارتی طلبہ نے بھی پاکستان کے مؤقف کی حمایت کردی
  • حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان
  • مانچسٹر، پاکستانی قونصل خانہ کے اوقات میں اضافہ
  • خیبر پی کے میں بلدیاتی انتخابات 2 مراحل میں ہونے کا امکان 
  • راولپنڈی میں 14 سالہ فیکٹری ملازم کے ساتھ ’استاد‘ کی بدفعلی، لڑکا اسپتال میں داخل
  • کیا فواد خان نے بھی سرجری کروالی؟ نئی تصاویر پر سوشل میڈیا پر بحث
  • موبائل کمپنیوں کو 4 برسوں میں 3 ارب 41 کروڑ جرمانہ، سروس اور کوریج کی بہتری کیلئے مہلت