بھارت میں ’قوم پرستی‘ کا بخار اس قدر چڑھ چکا ہے کہ اب فنکاروں کو بھی کھانے پینے کی دکانوں کے نام دیکھ کر دعوت نامے رد کرنے پڑ رہے ہیں۔

بالی ووڈ اداکار کارتک آریان کو مغربی انڈین فلم ورکرز کی فیڈریشن (FWICE) نے سخت لہجے میں وارننگ دے دی کہ خبردار! کہیں پاکستانیوں کے زیر انتظام کسی تقریب میں شرکت کی تو اچھا نہیں ہوگا۔

ہوا کچھ یوں کہ امریکا کے شہر ہیوسٹن میں ایک پاکستانی ریسٹورنٹ ’’آغاز ریسٹورنٹ اینڈ کیٹرنگ‘‘ نے 15 اگست کو ایک پروگرام رکھا ’’آزادی اُتسو‘‘۔ بھارتی یومِ آزادی منانے کا ایونٹ! اور اسی ریسٹورنٹ کے مالک شوکت مریدیا اسی ہفتے پاکستان کے یومِ آزادی کے لیے ’’جشنِ آزادی‘‘ بھی منعقد کرا رہے ہیں جس میں عاطف اسلم کی پرفارمنس ہوگی۔

بھارت کے خود ساختہ ’’محب وطن‘‘ ادارے FWICE کو یہ دہری تقریب ایک آنکھ نہ بھائی۔ انہوں نے فوراً کارتک آریان کو خط بھیجا جس میں پہلے تو ان کی تعریفوں کے پل باندھے ’’آپ بھارتی سنیما کے روشن ستارے ہیں، نوجوانوں کے رول ماڈل ہیں، قوم آپ پر فخر کرتی ہے‘‘ اور پھر اچانک یو ٹرن لیتے ہوئے کہا ’’لیکن خبردار! آپ اس تقریب میں مہمانِ خصوصی کے طور پر کیوں شامل ہیں جہاں پاکستانی بھی پروگرام کرا رہے ہیں؟ یہ قومی مفاد کے خلاف ہے!‘‘

کارتک آریان کی ٹیم نے فوراً وضاحت دی کہ ’’ہم نے نہ کبھی ایسی تقریب کا اعلان کیا، نہ ہم کسی طور اس میں شامل ہیں۔ ہم نے منتظمین سے کہا ہے کہ وہ ہمارے پوسٹرز اور تصاویر ہٹا دیں۔‘‘

دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ احتجاج صرف اس لیے کیا جا رہا ہے کہ وہ تقریب ایک پاکستانی کی ملکیت ریسٹورنٹ میں ہو رہی ہے، چاہے تقریب کا موضوع بھارتی یومِ آزادی ہی کیوں نہ ہو۔ اور دوسری طرف بھارت کے فنکاروں کو پاکستان میں کام کےلیے پرمٹ تک درکار نہیں ہوتا (جب ماحول اچھا ہو)۔

FWICE کے خط میں یہ بھی ہرزہ سرائی کی گئی کہ چونکہ پاکستان نے ’’پہلگام حملے‘‘ جیسی کارروائیاں کی ہیں، اس لیے ہر بھارتی فنکار پر لازم ہے کہ وہ ہر قسم کے پاکستانی روابط سے پرہیز کرے، خواہ وہ امریکا میں پکوڑے بیچتا پاکستانی ہو یا شو کرواتا کوئی ریسٹورنٹ مالک!

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بھارت کی فلم انڈسٹری کا اتنا بڑا ادارہ ایک ایسی تقریب پر واویلا کیوں کر رہا ہے جس سے کارتک آریان کا کوئی لینا دینا نہیں؟ کہیں یہ سب کچھ ’اپنے میڈیا‘ کو مزید مصالحہ فراہم کرنے کے لیے تو نہیں؟

کارتک آریان اس معاملے پر خود خاموش ہیں، لیکن ان کی ٹیم نے ’سیاسی بارودی سرنگ‘ سے خود کو بچا لیا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کارتک آریان

پڑھیں:

بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کی جانب سے بھارت کو مؤثر جواب دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بھارت خود امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ۔

قرارداد 2788 کے تناظر میں تنازعات کے پرامن حل پر مباحثے کے دوران پاکستان مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حق جواب میں  کہا کہ ایک وفد نے تنازعات کے پُرامن حل پر ہونے والی بحث کو حقائق مسخ کرنے، انکار اور بے بنیاد الزامات کے ذریعے متاثر کرنے کی کوشش کی۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔

پاکستانی مندوب برائے اقوام متحدہ کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر نہ بھارت کا نام نہاد اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ؛ بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتا۔ بھارت خود جموں و کشمیر کا مسئلہ سلامتی کونسل میں لے کر آیا تھا، مگر آج اسی کونسل کی قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے۔ قراردادوں کی کوئی میعاد ختم نہیں ہوتی۔

قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔  ایک طرف سیاسی آزادی ہے، دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔ کشمیری عوام کے ناقابل تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور سے بے اعتنائی کا مظہر ہے۔

پاکستانی مندوب نے حق جواب میں کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔ ایسے غیر ذمہ دارانہ اقدامات علاقائی امن کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔ پاکستان دہشت گردی کا سب سے بڑا متاثرہ ملک ہے؛ ہزاروں بے گناہ شہریوں کی قربانیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی جدوجہد حقیقی ہے۔

قونصلر صائمہ سلیم کا کہنا تھا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک علاقائی حدود سے نکل کر عالمی سطح تک پہنچ چکے ہیں۔ کلبھوشن یادیو کیس اس کا ایک واضح ثبوت ہے۔ بھارت میں ہندوتوا پر مبنی انتہا پسند نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی کا رنگ دے دیا ہے، جبکہ اقلیتیں امتیازی سلوک اور جبر کا سامنا کر رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اشتعال انگیزی اور جارحیت کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا راستہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پُرامن حل کو ترجیح دی۔ جنوبی ایشیا میں امن کا راستہ انکار یا ہٹ دھرمی نہیں بلکہ اقوام متحدہ کے منشور، بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی پاسداری سے ہو کر گزرتا ہے۔

پاکستانی مندوب نے کہا کہ بھارت کو چاہیے کہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے معاہداتی وعدے پورے کرے اور جموں و کشمیر تنازع کے پُرامن حل کے لیے سنجیدہ کردار ادا کرے۔

 

متعلقہ مضامین

  • اسلام آباد میں گلاسگو 2026 دولتِ مشترکہ کھیلوں کی افتتاحی تقریب
  • پاکستانی سفیر کی جانب سے پاکستان اور میانمار کی ممتاز کاروباری شخصیات کے اعزاز میں عشائیہ
  • میٹھے پر سجاوٹ کیلئے چیونٹیوں کا استعمال ریسٹورنٹ مالک کو مہنگا پڑگیا
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • ارشد ندیم کی قیادت میں پاکستانی دستے کی کامن ویلتھ گیمز کی رنگا رنگ افتتاحی تقریب میں شاندار شرکت
  • نیشنل اسپیشل گیمز: کراچی میں  فٹبال ٹورنامنٹ کے بعد اختتامی تقریب کا انعقاد
  • امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے