پی ٹی آئی رہنما اعظم سواتی کو پشاور ایئرپورٹ پر بیرون ملک جانے سے روک دیا گیا
اشاعت کی تاریخ: 6th, August 2025 GMT
ویب ڈیسک: پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اعظم سواتی کو پشاور ایئرپورٹ پر بیرون ملک جانے سے روک دیا گیا۔
بیرون ملک جانے سے روکے جانے کے بعد اعظم خان سواتی نے پشاور ہائیکورٹ میں توہین عدالت کی درخواست دائر کر دی جس میں کہا گیا ہے کہ عدالتی حکم کے باوجود بیرون ملک جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔
واضح رہے پشاور ہائیکورٹ کے دو رکنی بینچ نے گزشتہ روز اعظم خان سواتی کا نام ای سی ایل سے نکالنے کے احکامات جاری کرتے ہوئے بیرون ملک جانے کی اجازت دی تھی۔
الیکشن کمیشن نے پارلیمنٹ کے پانچ اور صوبائی اسمبلی کے تین ارکان کو نااہل قرار دے دیا،9 نشستیں خالی ہو گئیں
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: بیرون ملک جانے
پڑھیں:
جی بی الیکشن: مسلم لیگ ن نے اسکردو سے بڑی کامیابی حاصل کر لی
فیصل جمیل :گلگت بلتستان انتخابات 2026 کے سلسلے میں سیاسی سرگرمیاں عروج پر پہنچ گئی ہیں اور مختلف سیاسی جماعتوں کے مرکزی رہنما انتخابی مہم میں بھرپور حصہ لے رہے ہیں،انتخابات کیلئے پولنگ 7 جون کو ہوگی۔
الیکشن سے قبل ہی حاجی اکبر تابان امیدوار پاکستان مسلم لیگ ن نے اسکردو سے بڑی کامیابی حاصل کر لی، مہا جرین 1971 نے مسلم ن کی مکمل حمایت کا اعلان کر دیا ہے۔
دوسری جانب چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری اور خاتون اول آصفہ بھٹو آج گلگت اور ہنزہ کا دورہ کریں گے، دونوں رہنما ہنزہ میں عوامی اجتماع سے خطاب کریں گے جبکہ بلاول بھٹو زرداری کی گلگت میں پارٹی ٹکٹ ہولڈرز سے ملاقاتیں بھی متوقع ہیں۔
پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل
چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر سکردو اور دیگر اضلاع میں انتخابی سرگرمیوں میں مصروف رہیں گے، وہ پارٹی رہنماؤں کے انتخابی دفاتر کا دورہ کریں گے اور کارکنان سے بھی خطاب کریں گے۔
مسلم لیگ (ن) کے رہنما خواجہ سعد رفیق، عابد شیر علی، مرتضیٰ جاوید عباسی اور عابد رضا کوٹلہ مختلف مقامات پر جلسوں سے خطاب کریں گے۔
پارٹی ذرائع کے مطابق ن لیگی رہنما آج مجموعی طور پر چار مقامات پر عوامی اجتماعات سے خطاب کریں گے۔
غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات
ادھر وفاقی وزیر انجنئیر امیر مقام بھی گلگت میں موجود ہیں جہاں ان کی مختلف سیاسی رہنماؤں سے ملاقاتیں شیڈول ہیں۔
گلگت بلتستان اسمبلی انتخابات کے لیے سیاسی جماعتوں کی جانب سے ووٹرز کو متحرک کرنے کی کوششیں آخری مرحلے میں داخل ہو چکی ہیں ۔