پسندیدہ کردار کے لیے ڈائیرکٹر کا شرمناک مطالبہ، اداکارہ ژالہ سرہدی نے جواب میں کیا کہا؟
اشاعت کی تاریخ: 6th, August 2025 GMT
اداکارہ و ماڈل ژالے سرحدی نے انکشاف کیا ہے کہ انہیں شوبز انڈسٹری میں کاسٹنگ کاؤچ جیسی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا۔
ژالے سرحدی نے حال ہی میں احمد علی بٹ کے پوڈ کاسٹ میں شرکت کی جہاں انہوں نے شوبز انڈسٹری میں خواتین کی خودمختاری کے خلاف مردانہ رویوں اور ’کاسٹنگ کاؤچ‘ کلچر کے بارے میں کھل کر بات کی۔
اداکارہ نے بتایا کہ ایک بار ڈائیریکٹر نےا ن سے کہا کہ اگر وہ اپنی پسند کا کردار پانا چاہتی ہیں تو انہیں بہت سی چیزیں کرنی پڑیں گی، سمجھوتہ کرنا ہو گا اور خواتین تو سونے کے لیے بھی تیار ہو جاتی ہیں آپ کا اس بارے میں کیا خیال ہے۔
ژالے نے بتایا کہ انہوں نے اس بات پر سخت ردِ عمل دیا اور کہا کہ وہ اپنی تعلیم کے اخراجات پورے کرنے کے لیے شوبز میں کام کر رہی ہیں اور اگر دوبارہ ایسی بات کی تو وہ تھپڑ مار دیں گی۔
یہ بھی پڑھیں: بیوٹی کانٹیسٹ میں خواتین کا انتخاب کیسے ہوتا ہے؟ مس پاکستان نے تمام راز کھول دیے
اداکارہ کے مطابق ہدایتکار نے انہیں ایک پروجیکٹ کے لیے یہ کہہ کر مسترد کیا کہ وہ بہت لمبی ہیں۔ حالانکہ ان کا اس سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ اس سوال کے جواب میں کہ وہ ہدایتکار ابھی تک انڈسٹری میں ہیں ژالے نے طنزاً کہا کہ بالکل ماشاء اللہ وہ ابھی تک انڈسٹری میں موجود ہیں۔
پوڈکاسٹ میں گفتگو کے دوران انہوں نے مزید کہا کہ عورت کی کمائی میں برکت ہوتی ہے اور انہوں نے اپنی تعلیم اور شادی کا خرچہ خود اٹھایا تھا اور اپنی گاڑی بھی خود خریدی تھی تو مجھے سمجھ نہیں آتی کہ میری کمائی مرد کی کمائی سے کم برکت والی کیسے ہو سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: علیزے شاہ کا مزید کام کرنے سے انکار، سبب کیا نکلا؟
جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ خود اپنے شوہر کو پروپوز کرنے والی تھیں تو وہ ہنسیں اور کہا، ’نہیں، میں نے یقینی بنایا کہ میرے شوہر مجھے پروپوز کریں۔ میری شخصیت بہت زیادہ ڈرانے والی ہے، اور میں کیا کہوں؟‘
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پاکستانی ڈرامے ڈرامہ انڈسٹری ژالے سرحدی علیزے شاہ کاسٹنگ کاؤچ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پاکستانی ڈرامے ژالے سرحدی علیزے شاہ کاسٹنگ کاؤچ انہوں نے کہا کہ کے لیے
پڑھیں:
کشمیر عالمی تنازع ہے،داخلی معاملہ نہیں، سلامتی کونسل میں پاکستان کا بھارت کو دوٹوک جواب
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کے مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ جموں و کشمیر نہ بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی اس کا داخلی معاملہ جبکہ بھارت کا امن کا درس دینا حقائق کے منافی اور مضحکہ خیز ہے۔
اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے سلامتی کونسل کے اجلاس میں بھارتی مؤقف کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ بھارت خود مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں لے کر آیا تھا، لیکن آج وہ انہی قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں بدستور جاری ہیں اور کشمیری عوام کو ان کے بنیادی حقوق سے محروم رکھا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت کے انکار سے کشمیر کی بین الاقوامی قانونی حیثیت تبدیل نہیں ہو سکتی۔
پاکستانی قونصلر نے کہا کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، کیونکہ خطے میں کشیدگی بڑھانے اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کے متعدد اقدامات خود بھارت سے منسوب ہیں۔
صائمہ سلیم نےسندھ طاس معاہدے کی معطلی سے متعلق بھارتی فیصلے پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام بین الاقوامی قانون اور معاہدوں کی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دریائے سندھ کا پانی لاکھوں لوگوں کے لیے زندگی کا ذریعہ ہے، اسے کسی صورت جنگ یا دباؤ کے ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
انہوں نے مزید کہا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورکس کی سرگرمیاں عالمی سطح تک پھیل چکی ہیں، جبکہ بھارت میں ہندوتوا نظریات کے فروغ نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی کی شکل دے دی ہے، جس کے باعث مذہبی اقلیتوں کو سنگین چیلنجز کا سامنا ہے۔
پاکستان نے سلامتی کونسل میں ایک بار پھر اس عزم کا اعادہ کیا کہ جموں و کشمیر کے تنازع کا پائیدار حل صرف اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق ہی ممکن ہے، جبکہ خطے میں امن و استحکام کے لیے بین الاقوامی قوانین اور معاہدوں کا احترام ناگزیر ہے۔