اداکارہ و ماڈل ژالے سرحدی نے انکشاف کیا ہے کہ انہیں شوبز انڈسٹری میں کاسٹنگ کاؤچ جیسی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا۔

ژالے سرحدی نے حال ہی میں احمد علی بٹ کے پوڈ کاسٹ میں شرکت کی جہاں انہوں نے شوبز انڈسٹری میں خواتین کی خودمختاری کے خلاف مردانہ رویوں اور ’کاسٹنگ کاؤچ‘ کلچر کے بارے میں کھل کر بات کی۔

اداکارہ نے بتایا کہ ایک بار ڈائیریکٹر نےا ن سے کہا کہ اگر وہ اپنی پسند کا کردار پانا چاہتی ہیں تو انہیں بہت سی چیزیں کرنی پڑیں گی، سمجھوتہ کرنا ہو گا اور خواتین تو سونے کے لیے بھی تیار ہو جاتی ہیں آپ کا اس بارے میں کیا خیال ہے۔

ژالے نے بتایا کہ انہوں نے اس بات پر سخت ردِ عمل دیا اور کہا کہ وہ اپنی تعلیم کے اخراجات پورے کرنے کے لیے شوبز میں کام کر رہی ہیں اور اگر دوبارہ ایسی بات کی تو وہ تھپڑ مار دیں گی۔

یہ بھی پڑھیں: بیوٹی کانٹیسٹ میں خواتین کا انتخاب کیسے ہوتا ہے؟ مس پاکستان نے تمام راز کھول دیے

اداکارہ کے مطابق ہدایتکار نے انہیں ایک پروجیکٹ کے لیے یہ کہہ کر مسترد کیا کہ وہ بہت لمبی ہیں۔ حالانکہ ان کا اس سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ اس سوال کے جواب میں کہ وہ ہدایتکار ابھی تک انڈسٹری میں ہیں ژالے نے طنزاً کہا کہ بالکل ماشاء اللہ وہ ابھی تک انڈسٹری میں موجود ہیں۔

پوڈکاسٹ میں گفتگو کے دوران انہوں نے مزید کہا کہ عورت کی کمائی میں برکت ہوتی ہے اور انہوں نے اپنی تعلیم اور شادی کا خرچہ خود اٹھایا تھا اور اپنی گاڑی بھی خود خریدی تھی تو مجھے سمجھ نہیں آتی کہ میری کمائی مرد کی کمائی سے کم برکت والی کیسے ہو سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: علیزے شاہ کا مزید کام کرنے سے انکار، سبب کیا نکلا؟

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ خود اپنے شوہر کو پروپوز کرنے والی تھیں تو وہ ہنسیں اور کہا، ’نہیں، میں نے یقینی بنایا کہ میرے شوہر مجھے پروپوز کریں۔ میری شخصیت بہت زیادہ ڈرانے والی ہے، اور میں کیا کہوں؟‘

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

پاکستانی ڈرامے ڈرامہ انڈسٹری ژالے سرحدی علیزے شاہ کاسٹنگ کاؤچ.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: پاکستانی ڈرامے ژالے سرحدی علیزے شاہ کاسٹنگ کاؤچ انہوں نے کہا کہ کے لیے

پڑھیں:

سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب

فائل فوٹو 

سپریم کورٹ نے اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا۔

کیس کی سماعت جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی، جسٹس عرفان سعادت نے کہا کہ درخواست 25 دن تاخیر سے دائر کی گئی۔

پشاور ہائیکورٹ فیصلے پر توہین عدالت کی درخواست شہداء کےلواحقین کی جانب سے دائر کی گئی تھی، پشاور ہائیکورٹ نے توہین عدالت کی درخواست خارج کردی تھی۔

درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ شہداء کے لواحقین کو اعلان کردہ پیکیج نہیں ملا۔

جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ اگر کوئی پیکیج ملا ہے تو سب کو دیں،  وفاقی حکومت بتائے کہ پشاور ہائیکورٹ فیصلے پر عملدرآمد ہوا یا نہیں۔

کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کردی گئی۔

متعلقہ مضامین

  • میرب علی سرجری کے بعد اسپتال منتقل، مداحوں سے صحت یابی کی دعاؤں کی اپیل
  • ہمارا ایک مطالبہ ہے بانی کو شفا انٹرنیشنل منتقل کیا جائے، سہیل آفریدی
  • وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
  • بی ایم ڈبلیو سے 5 لاکھ جرمانہ وصولی، ڈی ایچ اے ویجیلینس سے جواب طلب
  • سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
  • مومنہ اقبال کے شوہر کون، تفصیلات سامنے آگئیں
  • 5 جون تک پنجاب کے متعدد اضلاع میں آندھی، شدید ژالہ باری کا امکان، الرٹ جاری
  • سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
  • شوگر ملز ایسوسی ایشن کا چینی برآمد کرنے کا مطالبہ، ماضی میں اس فیصلے سے کیا نقصان ہوا؟
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟