پی ٹی آے کی غیر قانونی، غیر اخلاقی اور قابلِ اعتراض مواد کی اشاعت و ترویج پر سخت وارننگ جاری۔
اشاعت کی تاریخ: 6th, August 2025 GMT
پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی نے انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا صارفین کو غیر قانونی، غیر اخلاقی اور قابلِ اعتراض مواد کی اشاعت و ترویج پر سخت وارننگ جاری کر دی ہے۔ایک بیان میں اتھارٹی نے واضح کیا ہے کہ آزادی اظہار ایک بنیادی حق ضرور ہے، لیکن اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ اسے قانون شکنی، مذہبی دل آزاری، یا فحاشی پھیلانے کے لیے استعمال کیا جائے۔پی ٹی اے کے مطابق ایسے افراد جو مذہبی شخصیات کی توہین، مذہبی جذبات کو مجروح کرنے یا توہینِ مذہب جیسے جرائم میں ملوث پائے گئے، ان کے خلاف ملکی قوانین کے تحت سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ، قومی اداروں، بالخصوص افواجِ پاکستان اور سلامتی کے اداروں کے خلاف نفرت انگیزی پھیلانا بھی ایک سنگین جرم ہے۔اتھارٹی نے اس بات پر بھی شدید تشویش کا اظہار کیا ہے کہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر جعلی خبروں، فحش مواد اور غیر اخلاقی بیانیے کو بڑھاوا دیا جا رہا ہے، جس سے معاشرتی اقدار کو نقصان پہنچ رہا ہے اور سماجی ہم آہنگی خطرے میں پڑ رہی ہے۔پی ٹی اے نے خبردار کیا ہے کہ ایسے عناصر جو آزادی اظہار یا سوشل ایکٹیوزم کے نام پر جھوٹے بیانیے پھیلاتے ہیں، ان کے خلاف ’پریوینشن آف الیکٹرونک کرائمز ایکٹ‘ 2016 (پیکا) کے تحت سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔اتھارٹی نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وہ ملک میں ڈیجیٹل نظم و ضبط قائم رکھنے اور قومی مفادات کے تحفظ کیلئے پیکا کے تمام قوانین کو مؤثر طریقے سے نافذ کرے گی۔ کسی بھی قسم کی غیر قانونی ڈیجیٹل سرگرمی میں ملوث افراد کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: کیا ہے کہ
پڑھیں:
بانی سے ملاقات تک خیبرپختونخوا کا بجٹ پاس نہ کیا جائے، علیمہ خان کی سہیل آفریدی کو تنبیہ
راولپنڈی: بانی پی ٹی آئی کی بہن علیمہ خان نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کو تنبیہ کی ہے کہ عمران خان سے ملاقات ہونے تک صوبے کا بجٹ منظور نہ ہونے دیں۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق وزیراعلی سہیل آفریدی نے علیمہ خان کے ساتھ فیکٹری ناکے پر میڈیا سے گفتگو کی۔ اس دوران سہیل آفریدی نے بجٹ پاس کرنے کی بات کی تو علیمہ خان نے انہیں ٹوک دیا۔
علیمہ خان نے سہیل آفریدی کو خیبرپختونخوا کا بجٹ پاس کرنے پر تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ ’آپ بجٹ پاس کیوں کر رہے ہیں؟ ان سے کہیں پہلے میری بانی سے ملاقات کروائیں‘۔
علیمہ خان نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے پچھلے سال بھی کہا تھا میرے ساتھ بجٹ پر بات کرو ، آپ آج بھی ان سے کہیں بجٹ سے پہلے بانی سے ملاقات کرائیں ۔
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا کہ گلگت بلتستان میں سارے لوگ ظلم کیخلاف کھڑے ہوگئے ہیں۔ بانی پی ٹی آئی کو تنہا کیا گیا جو غیر قانونی اور غیر آئینی ہے، ہمارا یہاں آنے کا ایک ہی مطالبہ ہے بانی کو شفا انٹرنیشل منتقل کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ بانی کا علاج انکی فیملی اور ذاتی معالج کی موجودگی میں ہو، ان کے مقاصد کچھ اور ہیں اس لئے یہ ملنے نہیں دے رہے۔ عید سے پہلے انہون نے ہمیں گیارہ گھنٹے تک روک کر عوام کو مصیبت میں ڈالا گیا
اُن کا کہنا تھا کہ مجھے اگر نہیں ملنے دیتے تو فیملی کو کم از کم ملنے دیا جائے، پاکستان تحریک انصاف بانی پی ٹی آئی کا نام ہے، بانی نے جیل سے فیصلہ کیا کہ فلاں وزیر اعلیٰ نہیں ہو گا، بانی کے فیصلے کے بعد کوئی بھی طاقت اس کو نہیں بچا سکتی تھی۔
مزید پڑھیںاڈیالہ جیل میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ملاقات
190 ملین پاؤنڈ کیس: عمران خان اور بشریٰ بی بی کے وکالت ناموں پر دستخط نہ ہو سکے
علیمہ خان نے سابق آرمی چیف کی عمران خان سے ملاقات کی خبر کو بے بنیاد قرار دیدیا
انہوں نے کہا کہ بانی نے کہا سہیل آفریدی وزیر اعلیٰ ہو گا تو دنیا کی کوئی طاقت اس کو تبدیل نہیں کرسکتی، اڈیالہ جیل سے جب تک بانی کا کوئی نیا پیغام نہیں آئے گا میں ہی وزیر اعلیٰ رہوں گا۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ کے پی کی حکومت فقط بانی پی ٹی ہی ختم کر سکتے ہیں اور اس کے علاوہ یہ کام کوئی نہیں کرسکتا، صوبے میں فارورڈ بلاک پروپیگینڈا ہے اور یہ اس لئے کیا گیا وفاقی بجٹ میں ایک بار پھر عوام کا خون چوسا جائے گا۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ پاکستان کے اندرونی و بیرونی قرضے 97 ارب تک پہنچ چکے، حکومت ٹیکس کے اہداف پورے نہیں کر سکی اور آج حکومت میں شامل پارٹیاں عوام کا نہیں سوچ رہیں۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ پاکستان کا تجارتی خسارہ دن بدن بڑھتا جا رہا ہے، میری تمام لوگوں سے درخواست ہے کہ وہ بانی کے علاج کیساتھ اس بجٹ پر فوکس رکھیں۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ کے پی حکومت نے کابینہ سے بجٹ پیپر پاس کر دیا ہے اور ہم نے کوئی سرپلس بجٹ نہیں دیا، اس سال بھی عوام دوست بجٹ پیش کیا جائے گا۔ ہمارا سارا فوکس صحت تعلیم زراعت نوجوان اور جنگلات پر ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہم اپنے بجٹ میں بہت اچھی اور عوام دوست چیزیں لا رہے ہیں، وفاقی بجٹ کا اثر سارے صوبوں بشمول گلگت بلتستان پر پڑے گا۔