بھارتی اداکارہ دیوولینا بھٹاچارجی نے بیٹے کی رنگت پر تنقید کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کا فیصلہ کیا ہے۔

بھارتی میڈیا رپورٹ کے مطابق ڈرامہ سیریل میں "گوپی بہو" کے کردار سے شہرت حاصل  کرنے والی ٹی وی ڈراموں کی اداکارہ دیوولینا بھٹاچارجی نے اپنے نومولود بیٹے کی رنگت پر تنقید اور سوشل میڈیا پر طنز کا نشانہ بنانے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

بیٹے کی پیدائش کے بعد سے اداکارہ سوشل میڈیا پر اس کی تصاویر اور ویڈیوز شیئر کرتی رہی ہیں، تاہم متعدد صارفین نے بچے کی رنگت پر نازیبا تبصرے کیے اور طنز و تنقید کا نشانہ بنایا۔ جس پر اداکارہ کا کہنا ہے کہ وہ اپنے بیٹے کی رنگت پر تنقید اور اسے سوشل میڈیا پر ٹرول کرنے والوں کو قانونی طور پر سخت جواب دیں گی۔ 

اداکارہ نے کہا کہ بطور پبلک فگر وہ خود پر ہونے والی تنقید کو برداشت کر لیتی ہیں، تاہم ان کے بیٹے کو نشانہ بنانا ناقابل قبول ہے۔ انہوں نے نسل پرستانہ رویے کو جرم قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس معاملے پر خاموش نہیں رہیں گی۔

بھارتی میڈیا کے مطابق دیوولینا نے سائبر کرائم ونگ سے رابطہ کیا ہے اور نازیبا تبصروں کے اسکرین شاٹس فراہم کر کے قانونی کارروائی شروع کر دی ہے۔

یاد رہے کہ دیوولینا نے دسمبر 2022 میں اپنے جم ٹرینر شاہ نواز شیخ سے شادی کی تھی، اور دسمبر 2024 میں ان کے ہاں بیٹے کی پیدائش ہوئی۔

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: قانونی کارروائی

پڑھیں:

اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ

تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے بعض خفیہ سیاسی مقاصد بھی تھے، وہ بیروت میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتے تھے، اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں ممکنہ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالا۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیل میں وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر مسلسل تنقید میں اضافہ ہو رہا ہے۔ الجزیرہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی سیاست دانوں اور مختلف ذرائع ابلاغ کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بنیامین نیتن یاہو قومی اہداف کی بجائے سیاسی مفادات اور اقتدار کے تحفظ کو ترجیح دے رہے ہیں۔ اسرائیلی میڈیا میں اظہار خیال کرنے والے مبصرین نے کہا کہ بہت سے اسرائیلی شہری اور سیاسی حلقے توقع کر رہے تھے کہ نیتن یاہو ایسے اقدامات کریں گے، جنہیں وہ اسرائیل کے تزویراتی مقاصد کے حصول کیلئے ضروری سمجھتے ہیں، تاہم ان کی حالیہ پالیسیوں نے ان توقعات کو پورا نہیں کیا۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایک بار پھر ریاستی مفادات کے بجائے اپنی سیاسی بقا کو ترجیح دی، تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے بعض خفیہ سیاسی مقاصد بھی تھے، وہ بیروت میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتے تھے، اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں ممکنہ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالا۔

متعلقہ مضامین

  • اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
  • کراچی، ہل پارک کے اطراف میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف آپریشن، پلاٹس مسمار
  • کراچی میں فائرنگ سے باپ اور نوجوان بیٹا جاں بحق
  • میرب علی سرجری کے بعد اسپتال منتقل، مداحوں سے صحت یابی کی دعاؤں کی اپیل
  • فیکٹ چیک: تھائی لینڈ کی ویڈیو پاکستانی فوجی افسر سے منسوب کرنے کی بھارتی کوشش ناکام
  • علاقائی کشیدگی اور بحرین میں شیعہ اکثریتی آبادی کو نشانہ بنانے کی پالیسی
  • مومنہ اقبال کے شوہر کون، تفصیلات سامنے آگئیں
  • فلم ’کالا ہرن‘ پر سلمان خان کا قانونی نوٹس، پروڈیوسر نے الزامات مسترد کر دیے
  • اسمبلی کارروائی پیپر لیس کرنے کیلئے پنجاب اسمبلی میں جدید ٹیبلٹس کی تنصیب
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت